کیا کراچی کچرا کنڈی ہے؟؟؟

October 13, 2020 12:54 pm

مصنف - Zara shah

کراچی: انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی نے پیسٹی سائیڈ اور زائد المیعاد دواؤں سے بھرے4 ٹرک پکڑ لیے۔ ملک بھر کا زہریلا مواد کراچی میں پھینکا جانے لگا
کراچی کوبدترین ماحولیاتی آلودگی کامرکزبنانے کاخطرناک منصوبہ ناکام بنادیاگیا جب کہ سیپا کی ٹیم نے خطرناک پیسٹی سائیڈ ( زرعی دواؤں) اورزائد المیعادادویہ سے بھرے 4ٹرک پکڑ لیے۔
انتہائی خطرناک اور زہریلی گیس پھیلانے والاموادکراچی میں ڈمپ کیا جانے لگاہے، زہریلا مواد پورے ملک سے لاکر شہرکے مضافات میں جمع کیاجارہا ہے،خطرناک زہریلے مواد سے کئی سالوں تک انسانوں،حیوانات کوجان لیوا نقصانات جبکہ ماحولیات کو بھی بڑے پیمانے پرنقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
سندھ انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (سیپا)کی ٹیم نے ملیر پورٹ قاسم کے علاقے میں کارروائی کی، سیپاکی ٹیم نے خطرناک پیسٹی سائیڈ (زرعی دواؤں اورزائد المیعاددواؤں سے بھرے 4ٹرک پکڑلیے،سیپاکی تاریخ کی اہم کارروائی قائم مقام ڈائریکٹر سیپاکراچی وارث علی گبول کی ہدایت پر کی گئی۔
وارث علی گبول نے میڈیاکوبتایاکہ انسانوں، حیوانات، زراعت، درختوں پودوں اور ماحولیات کے لیے انتہائی خطرناک ترین پیسٹی سائیڈ جلائے جانے (انسینیریٹ) کے بجائے کسی مقام پر پھینکنے کے لیے لے جائے جارہے تھے،خفیہ اطلاع پر سیپا کی ٹیم انسپکٹر ذیشان اور انسپکٹر فیصل ملک نے چھاپہ مارااور 4 ٹرکوں کو روک لیاجوانسینیریشن پلانٹ سے باہرکہیں ڈمپ کیے جانے کے لیے لے جائے جارہے تھے۔پاکستان بھر سے مہلک زرعی ادویہ کراچی لاکر انسینیریشن پلانٹ میں مخصوص درجہ حرارت پرجلائی جانا تھیں تاہم زہریلے موادکوجلانے کے بجائے سمندربردیاکسی کھلے مقام پر ڈمپ کرنے کے لیے لے جایا جارہاتھا، بروقت کارروائی نہ کی جاتی تو یہ ہماری آئندہ نسلوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتاتھا۔
وارث علی گبول کا مزیدکہنا تھاکہ اقوام متحدہ کے معاہدے کے تحت دنیا بھر سے مہلک زرعی ادویہ کو مروجہ طریقے سے جلایا جانا ہے ،کھلے مقام یا سمندر میں مہلک پیسٹی سائیڈز پھینکنے سے ماحول کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچنے کا اندیشہ تھا اور ماحول پر منفی اثرات کئی سالوں تک برقرار رہ سکتے ہیں۔
قائم مقام ڈائریکٹر سیپا نے کہا کہ مشیر ماحولیات اور اعلیٰ افسران کو کامیاب کارروائی سے متعلق آگاہ کردیاگیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ سیپا کی ٹیم نے کارروائی خالصتا انسانی جانوں کو بچانے اور قانون کے مطابق کی ہے ، بعض شرپسند عناصر قانونی کارروائی کو غلط رنگ دینے کی کوشش کررہے ہیں جو اپنے مذموم مقاصد میں ناکام ہوںگے،فتح ہر صورت قانون کی ہوگی۔
انھوں نے کہا کہ انسانی جانوں سے کھیلنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کریں گے۔