رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف اور اُس کے فضائل

May 15, 2020 4:37 pm

مصنف - Zara shah

رمضان المبارک کے آخری عشرے میں لیلۃ القدر (ہزاروں مہینوں سے بہتر رات) کی تلاش میں اہل ایمان دنیا سے کٹ کر اپنا ناطہ اس واحد بزرگ و برترہستی سے جوڑ لیتے ہیں ،جس کی بادشاہت لازوال ہے۔
ویسے تو پورا رمضان المبارک ہی رحمتوں اور برکتوں سے معمور ہے لیکن آخری عشرے میں مسجد میں اللہ رب العزت کی خوشنودی کے لیے اعتکاف کرنا رسول کریمﷺ کی سنت ہے۔ اعتکاف کرنے والے اپنی تمام تر توجہ عبادات، تسبیحات اور اذکار کی طرف مرکوز کرکے دنیا سے ناطہ توڑ لیتے ہیں۔
رمضان المبارک کا عشرہ مغفرت شروع ہوتے ہی، مغفرت کے طلب گار پروردگار کی رضا کے لیے دنیاوی کاموں کو چھوڑ کر اعتکاف میں بیٹھ گئے،رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرنا سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔
متعکفین اعتکاف کے دوران تلاوت قرآن اور نوافل اداکرتے ہیں، آخری عشرے کی طاق راتوں لیلتہ القدر کی تلاش کی جاتی ہے رات بھر عبادت کی جاتی ہے، یہ لوگ اللہ تعالی کے مہمان ہوتے ہیں، اعتکاف میں شرکت کے لیے اللہ کے مہمان بیس رمضان المبارک کو عصر کے وقت مساجد میں داخل ہوتے ہیں اور اذان مغرب کے ساتھ ہی ان کا اعتکاف شروع ہوجاتا ہے جبکہ شوال المبارک کا چاند نظر آتے ہی معتکفین کا اعتکاف ختم ہوجاتا ہے۔
آخری عشرے کی طاق راتوں میں فرزندان توحید شب بھر رات اللہ کے حضور عبادات کرتے ہوئے اپنی حاجات و مناجات پیش کرتے ہیں، شہر بھر میں رمضان کی 21 ویں شب سے محافل شبینہ منعقد ہوں گی جن سے علمائے کرام خطاب بھی کریں گے، شہر کی بیشتر مساجد میں معتکفین کو مساجد کی انتظامیہ اور مخیر حضرات کی جانب سے سحری و افطار فراہم کی جائے گی۔
مسنون اعتکاف کا وقت
مسنون اعتکاف کا وقت 20 رمضان المبارک کو غروب آفتاب سے قبل اعتکاف کی نیت سے شرعی مسجد میں بیٹھنے سے شروع ہوتا ہے اور شوال کا چاند نظر آنے تک رہتا ہے۔ 29 رمضان کو عید کا چاند نظر آئے یا 30 رمضان کو آفتاب غروب ہو جائے تو مسنون اعتکاف ختم ہو جاتا ہے پھر معتکف مسجد سے نکل سکتا ہے۔
اعتکاف کی سب سے افضل جگہ
سب سے افضل وہ اعتکاف ہے جو مسجد حرام میں کیا جائے پھر مسجد نبویﷺ کا مقام ہے، پھر بیت المقدس کا اور اس کے بعد اس جامع مسجد کا درجہ ہے جس میں جمعہ کی جماعت کا انتظام ہو۔
عورتوں کو اپنے گھر کی مسجد (یعنی جس جگہ نماز پڑھتی ہو) اعتکاف کرنا بہتر ہے ورنہ کسی کمرے میں اپنے لیے جگہ مختص کر دیں۔ (علم الفقہ، حصہ سوم، صفحہ 46)
(عورتوں کے گھر اور مساجد میں اعتکاف کے حوالے سے فقہی اختلاف پایا جاتا ہے لہذا اگر کوئی خاتون اعتکاف میں بیٹھنا چاہتی ہیں تو وہ اپنے فقہ کے علماء سے رجوع کریں)۔
اعتکاف کی حکمت اور فائدے
اعتکاف میں حکم شرعی ہونے کی وجہ سے جس قدر فائدے اور حکمتیں ہو کم ہیں مگر یہاں مختصراً چند فائدے اور حکمتوں کا ذکر کیا جارہا ہے۔ شیطان انسان کا قدیمی دشمن ہے لیکن جب انسان خدا کے گھر میں ہے تو گویا مضبوط قلعے میں ہے۔ اب شیطان اس کا کچھ بگاڑ نہ سکے گا۔
لوگوں کے ملنے جلنے اور کاروبار کی مشغولیتوں میں جو انسان سے چھوٹے موٹے بہت سے گناہ ہوجاتے ہیں، بندہ اعتکاف میں ان سے محفوظ رہتا ہے۔ جب تک آدمی اعتکاف میں رہتا ہے، اسے عبادت کا ثواب ملتا رہتا ہے خواہ وہ خاموش بیٹھا رہے، یا سوتا رہے، یا اپنے کسی کام میں مشغول رہے۔
اعتکاف کرنے والا ہر منٹ عبادت کے طور پر لکھا جاتا ہے، شب قدر حاصل کرنے کا بھی اس سے بہتر کوئی طریقہ نہیں کیونکہ جب بھی شب قدر آئے گی تو معتکف بہر حال عبادت میں ہوگا۔ (بحولہ مشکوٰۃ شریف، جلد1، صفحہ186)
معتکف کی عبادت
اعتکاف کی سعادت حاصل کرنے والے فرد ہو چاہیے کہ ہر لمحے کو اہم سجھتے ہوئے اپنی زبان کو ذکر رب سے معطر رکھے، سنتوں کا خاص اہتمام، نوافل اور قرآن مجید کی تلاوت زیادہ سے زیادہ کرے۔
فضائل اعتکاف
اعتکاف کی فضیلت و اہمیت کے لیے صرف یہ بھی کافی ہے کہ حضور ﷺ نے ہجرت کے بعد پوری عمر اہتمام کے ساتھ رمضان المبارک کے آخری عشرے کا اعتکاف کیا۔
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں ہمیشہ اعتکاف فرمایا کرتے تھے، یہاں تک کہ اللہ نے انہیں اپنے پاس بلا لیا، پھر آپ ﷺ کی ازواج مطہراتؓ اعتکاف کا اہتمام کرتی تھیں۔ (متفق علیہ)
ایک بڑی فضیلت یہ بھی ہے کہ معتکف لیلۃ القدر کی فضیلت بآسانی پالیتا ہے کیونکہ اکثر روایات کے مطابق لیلۃ القدر رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہے۔
رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں لیلۃ القدر کو تلاش کرو (الصحیح البخاری)
مقصد اعتکاف
اعتکاف کا مقصد یہ ہے کہ آدمی بارگاہ ایزدی کی چوکھٹ پر اپنا سر رکھ کر سرور اور خوشی کا مینار دیکھتا رہتا ہے۔ زبان کو اسی کے ذکر سے تر رکھتا ہے، کہ بندہ سب کو چھوڑ کر بارگاہ عالی میں حاضر ہوا ہے۔ اے رحیم مولا! ہمیں معاف فرما کہ جب تک تو معاف نہیں کرے گا، تیرے در سے کہیں نہ جاؤں گا۔
اس لیے جب کوئی شخص اللہ کے دروازے پر دنیا سے منقطع ہو کرنا پڑے تو اس کے نوازے جانے میں کیا تامل ہوسکتا ہے، اے اللہ ہماری مغفرت فرما اور ہمیں صحیح عبادت کرنے کی توفیق عطا فرما۔ (آمین)
معتکفین کا خیال
اب تک کئی بار اعتکاف کی سعادت حاصل کرنے والے معتکف کا کہنا ہے کہ شرعی روح سے اعتکاف کےاحکامات کو پورا کرنا ہم جیسے گناہ گاروں کا کام نہیں تاہم اتنا ضرور ہے کہ 10 روز کے روزے شرعی تقاضوں کے عین مطابق گزرتے ہیں۔
کرونا کی وجہ سے صورت حال
کرونا وبا کی وجہ سے رواں سال رمضان المبارک کے آخری عشرے میں مساجد میں اعتکاف کے اُس طرح اہتمام نہیں کیے جارہے جس طرح ماضی میں ہوتے تھے، اگر کسی مسجد نے اجازت دی تو ایس او پیز کی روشنی میں دی ہے۔
مفتیان کرام اور آئمہ کا کہنا ہے کہ شب قدر کی تلاش گھر میں بیٹھ کر بھی ہوسکتی ہے، فرزندان اسلام گھروں میں عبادات کا اہتمام کریں اور خود سمیت دوسروں کو بھی وبا سے محفوظ رکھیں۔