سانچ کو آنچ نہیں !

May 2, 2020 1:55 pm

مصنف -

ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی
ہر سال کی طرح آج تیس اپریل کو امریکہ میں ایمانداری کا دن منایا جارہاہے، قومی سطح پر یہ دن منانے کا مقصد مختلف شعبہ زندگی بشمول سیاست، کاروبار اور نجی زندگی کے معاملات میں ایمانداری اورسچائی کو فروغ دینا ہے، ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے پہلے متفقہ صدر جارج واشنگٹن سے منسوب یہ دن نوے کی دہائی میں امریکی ریاست میری لینڈ کے پریس سیکریٹری ایم ہرش گولڈبرگ نے اپنی کتاب دی بک آف لائیز میں متعارف کرایا ، تیس اپریل کے دن امریکی شہری ایک دوسرے سے مختلف نوعیت کے سوالات پوچھتے اور اس توقع کا اظہار کرتے ہیںکہ انہیں لگی لپٹی رکھے بغیر درست جواب دیاجانا چاہئے، امریکی سیاست دانوں کو جھوٹ سے باز رہنے اور اپنی قوم کے سامنے سچ بولنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔دنیا کے ہر مذہب نے انسانی معاشرے کی بہتری کی خاطر سچائی اور ایمانداری کو پروان چڑھانے کا حکم اپنے پیروکاروں کو دیا ہے، ہندودھرم کا یہ بنیادی عقیدہ ہے کہ جہاں سچائی ہوتی ہے وہاں دھرم ہوتا ہے، جہاں دھرم ہوتا ہے وہاں روشنی ہوتی ہے اور جہاں روشنی ہوتی ہے وہاں امن و سکون ہوتا ہے،دوسری طرف جھوٹ اور دھوکے باز ی کا راستہ تباہی و بربادی کی جانب لے جاتا ہے ۔ اسی طرح گفتگو کرتے ہوئے الفاظ کے درست چناو پر بہت زور دیا گیا ہے، ہندو تعلیمات کے مطابق انسان ہمیشہ سچ بولے، بے سروپا باتیں کرنے کی بجائے خاموشی اختیار کرے، تلخ اندازگفتگو سے اجتناب کرے اور اچھی تعلیمات پر عمل پیرا ہو۔ایک اچھا انسان کبھی دوسرے کے جذبات سے نہیں کھیلتا، دھوکا دہی سے پرہیز کرتا ہے، وقتی فائدے کی خاطر جھوٹ نہیں بولتااور حقیقت جاننے کے بعد اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتا ہے ۔ ہندو دھرم کے مطابق انسان کو سچ اچھے انداز میں بیان کرنا چاہئے ،غلط انداز گفتگو اختیار کرنا سچ کی افادیت ختم سکتا ہے، سچ کا اثر ایسے شخص پرمنفی انداز سے ہوتا ہے جوغرورو تکبر کرتا ہو اور سیکھنے کے عمل سے نابلد ہو ۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایمانداری کا راستہ اختیار کرنے والوں کو مشکلات اور تکالیف کا سامنا ضرور کرنا پڑتا ہے لیکن آخری جیت ہمیشہ سچائی اور ایمانداری کی ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں سیاست کی کامیابی کو جھوٹ سے نتھی کیا جاتا ہے، انتخابی مہم کے دوران عوام کو سبز باغ دکھاکر ووٹ مانگے جاتے ہیں اور پھر الیکشن جیتنے کے بعد وعدوں کو بھلا دیا جاتا ہے، ہر دور میں ہر حکمراں کے اردگرد خوشامدی ٹولہ منڈلانے لگتا ہے جو اپنی چرب زبانی کے باعث عوامی مفاد کے برعکس فیصلے کرنے پر اکساتا ہے،یہ ٹولہ میڈیا کی تنقید برائے اصلاح کو حکومت کی راہ میں روڑے اٹکانا سمجھتا ہے،بعض مشیرسمجھتے ہیں کہ حکمراںکو حقائق سے روشناس کرانے سے ناراضگی اور غصے کا خدشہ ہے، جھوٹ کا سہارا لیتے ہوئے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کی خاطر آخرکار ذلیل و خوار ہوتے ہیں ۔مجھے سیاست کے میدان میں قدم رکھے اٹھارہ سال سے زائد کا عرصہ بیت گیا ہے، اس طویل عرصے میں مجھے ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والی مختلف شخصیات سے تبادلہ خیال کا موقع ملا،ان میںبہت سے ایسے نیک نام سیاستدان بھی ہیں جن کا اوڑھنا بچھونا عوام کی خدمت ہے تو دوسری طرف افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں لوگوں کی بڑی تعداد ذاتی مفادات کے حصول کو اپنی کامیابی سمجھتی ہے۔ اس حوالے سے میں ہمیشہ بانی پاکستان قائداعظم کو اپنا رول ماڈل سمجھتا ہوں جنہوں نے ساری زندگی اصولوں کی سیاست کی، ان کی ایمانداری اور دیانت داری پر مبنی پالیسیوں نے برصغیر کے لاکھوں کروڑوں عوام کے دل جیت لئے ، قائداعظم نے سچائی اور ایمانداری کے بل بوتے پر انگریز سامراج کو شکست دیتے ہوئے ہمارے لئے آزاد وطن کا حصول ممکن بنایا۔ میں سمجھتا ہوں کہ ایمانداری سے عزت ملتی ہے،دلی سکون ملتا ہے، زندگی میں برکت آجاتی ہے اور خدابھی خوش ہوتا ہے، ایماندار شخص مشکلات کا مردانہ وارمقابلہ کرنے کیلئے صبروتحمل سے کام لیتاہے، وہ جب خدا کے بتائے ہوئے راستے پر اپنا سفر شروع کرتا ہے تو آخرکار کامیابی سے ہمکنار ہوجاتا ہے۔یہ میرا مشاہدہ ہے کہ ایک سچے اور کھرے انسان کے چہرے پر خدا کی رحمت برستی ہے،اس کے چہرے کی رونق اس کی سچائی اور ایمانداری کی گواہی دیتی ہے،ایسے عظیم لوگ بعد ازمرگ تاریخ میں ہمیشہ کیلئے امر ہوجاتے ہیں اور لوگ ان کا نام ہمیشہ عزت و احترام سے لیتے ہیں۔ دوسری طرف دروغ گو، خوشامدی اور چرب زبان شخص معاشرے کے بگاڑ کاباعث بنتا ہے،وہ بھول جاتا ہے کہ خدا کے بندے ایسے شخص کے چہرے پر پڑنے والی پھٹکار سے اسے بخوبی پہچان لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔عالمی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہوئے بعض اوقات میرے ذہن میں خیال آتا ہے کہ اتنے سال گزرجانے کے باوجود آج بھی لوگ قائداعظم، ابراہام لنکن ،جارج واشنگٹن، نیلسن مینڈیلا جیسی عظیم شخصیات کو اچھے الفاظ میں کیوں یاد کرتے ہیں ؟ میری خیال میں اس کی وجہ صرف اور صرف ان کی ایماندار ی پر مبنی سیاست ہے۔ آج کے دن ہمیں اپنے آپ سے یہ عہد کرنا چاہئے کہ ہم زندگی کے ہر چیلنج کا سامنا ایمانداری اور سچائی کے ذریعے کریں گے، ایک اچھا انسان نہ صرف خود سچ بولتا ہے بلکہ اپنے پیاروں کو بھی جھوٹ بولنے سے گریز کرنے کی تلقین کرتا ہے، میری نظر میں ہمارااصل خیرخواہ اور سچا دوست وہی ہے جو ہماری بھلائی کی خاطر ہماری خامیوں سے آگاہ کرتا ہے،میں سمجھتا ہوں کہ حکومت کی کامیابی سچائی چھپانے میں نہیں بلکہ اپنے عیب دور کرنے میں ہے، حقائق جھٹلانے سے نقصان حکومت کا ہوتا ہے، اگر حکمراں چاہتے ہیں کہ ان کا نام بھی تاریخ میں عظیم لیڈر کے طور پر لکھا جائے تو انہیں کسی کی تنقید سے گھبرانے کی بجائے اپنی غلطیوں کو دور کرنے کیلئے ایمانداری سے کوششیں کرنی چاہئے۔ میڈیا کو ایمانداری اور سچائی کا راستہ اپناتے ہوئے غلطیوں کی نشاندہی ضرور کرنی چاہئے، اسی طرح ایمانداری کا تقاضا ہے کہ حکومت کے مثبت اقدامات کی تعریف بھی کی جائے۔