تحصیل کوٹ رادھاکشن ضلع قصور کی ہیلتھ ڈائری

تحصیل کوٹ رادھاکشن ضلع قصور کی ہیلتھ ڈائری

April 13, 2020 3:19 pm

مصنف -

مہر سلطان محمود
ضلع قصور کی تحصیل کوٹ رادھاکشن کی کل آبادی ایک محتاط اندازے کے مطابق تقریباً چار لاکھ افراد پر مشتمل ہے۔جس میں ایک میونسپل کمیٹی اور14 یونین کونسلز ہیں ۔میونسپل کمیٹی کوٹ رادھاکشن کی کل آبادی ایک لاکھ کے لگ بھگ ہے ۔تحصیل کوٹ رادھاکشن میں 14 بنیادی مراکز صحت ہیں۔ جن میں گیارہ24/7 ہیں ۔ان میںآئوٹ ڈور مریضوں کو صبح 08:00 بجے سے لیکر دوپہر 02:00 بجے تک چیک کیاجاتاہے اس کے بعد صرف نارمل ڈلیوری کی سہولت فراہم کی جاتی ہے بقیہ تین مراکزصحت میں صرف آئوٹ ڈور کی سہولت ہے ۔تحصیل بھر میں ایک تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال ہے جس میں08 میل ڈاکٹرز ،02 خواتین ڈاکٹرز ،01جنرل سرجن،01 آرتھوپیڈک سرجن،01 ڈینٹل سرجن ،01 چلڈرن کنسلٹنٹ ،01 گائناکالوجسٹ،01 ریڈلوجسٹ ،01 پتھالوجسٹ ،01 ماہرطب،01 میڈیسن فزیشن01, انستھیزیا کنسلٹنٹ،14 سٹاف نرسز ،06 ڈسپنسرز، 04 سویپرزودیگر عملہ شامل ہیں۔تحصیل بھر میں تقریباً34ڈاکٹرزکام کررہے ہیں ۔بنیادی مراکز صحت میں 14 ڈاکٹرز صرف صبح 08:00 سے لیکر 02:00 بجے تک موجود ہوتے ہیں ۔اس کے بعد عوام مکمل لاوارث اور عطائیوں کے رحم وکرم پرہوتی ہے ۔ دیہات میں بنیادی مراکزصحت کی02:00PM پر بندش اورسرکاری ڈاکٹر کے جانے کے بعدپرائیویٹ طور پر کوالیفائیڈ ڈاکٹرز کاسرے سے کوئی وجود نہیں ہے۔جس کاپوراپورا فائدہ عطائی ڈاکٹرز اور نیم حکیم خطرہ جان بھرپور اٹھاتے ہیں ۔پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن والے عطائی ڈاکٹرز کے خلاف بھرپور ایکشن لے رہے ہیں مگرناکافی ہے ۔
عطائیوں کے خلاف بھرپور کاروائیوں وعوامی آگاہی کے بعداب مریضوں کی ایک بہت بڑی تعداد سرکاری ہسپتالوں کارخ کئے ہوئے ہے مگر سہولتوں کی کمیابی اور عدم دستیابی کے باعث بری طرح پراگندہ حال نظرآتے مریض اور ان کے لواحقین ڈاکٹرز وعملہ سے الجھتے نظرآتے ہیں جس کی ذمہ دار سرکار ہے جوہسپتالوں میں ڈاکٹرز وعملہ کی مطلوبہ تعداد پوری کرنے سے یکسر قاصر ہے ۔ڈاکٹرز وعملہ کی کمی کی وجہ سے ہسپتال انتظامیہ بری طرح متاثرہورہی ہے جس میں ہسپتال مینجمنٹ کاسرے سے کوئی قصور نہیں ہے ۔ تحصیل بھر میں ایک چائلڈ اسپیشلسٹ ڈاکٹر ہے جبکہ بیمار اور متاثرہ بچوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے ۔ایک اوسط اندازے کے مطابق چائلڈ اسپیشلسٹ روزانہ 130 سے زائد بچوں کوچیک کرتاہے کبھی اس تعداد میں اضافہ بھی ہوجاتاہے اس میں سیاسی ،سماجی،صحافتی اور سرکاری ملازمین کے عزیزواقارب کاپروٹوکول الگ سے شامل ہوتاہے ۔ایک مریض کو بمشکل دو سے تین منٹ ڈاکٹری معائنہ کیلئے ملتے ہیں جو کہ مریض کیساتھ سراسر زیادتی ہے اور مریض ولواحقین کی بھی پوری طرح تسلی وتشفی نہیں ہوتی ۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے رول کی بھی کھلم کھلاخلاف ورزی ہے ۔جس کے مطابق ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر نے چھ گھنٹے میں چالیس سے پچاس تک مریضوں کا چیک اپ کرنا ہوتاہے، ایک کنسلٹنٹ نے بیس سے پچیس تک مریض چیک کرناہوتے ہیں ۔ پاکستان میں تمام چھوٹے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں ان قواعد وضوابط کو یکسر نظرانداز کیاجاتاہے۔
اس سے جہاں ڈاکٹرز کی الجھنیں بڑھتی ہیں وہیں مریضوں کی مشکلات وتکالیف میں اضافہ دیکھنے کو ملتاہے جو کہ کسی بھی طرح لائق تحسین عمل نہ ہے ۔تحصیل بھر میں صرف ایک ہی لیبارٹری ہے جوکہ تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں موجود ہے جس میں وسائل اور سہولتوں کافقدان ہونے پر عملہ ومریضوں میں بے چینی کاعنصر نمایاں ہے ۔ لاکھوں کی آباد ی میں محض صرف ایک ہی سرکاری لیبارٹری کاہونا سرکار کی گڈگورننس پر سوالیہ نشان ہے ۔امراض چشم کے مریض بہت ذیادہ پائے جاتے ہیں مگر تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں ماہرامراض چشم کی آسامی خالی پڑی ہوئی ہے جسے پر نہیں کیاجارہاہے جوکہ عوام کیساتھ ایک بہت بڑی زیادتی وناانصافی ہے ۔اس کے علاوہ بیشتر امراض ایسے ہیں جن کے ڈاکٹرز کی سیٹیں منظور ہی نہیں ہوئی ان کو فی الفورمنظور کرکے ڈاکٹرز کی تعیناتی کو بھی یقینی بنایاجائے۔
ہسپتال میں باقاعدہ میڈیسن سٹور وجنرل سٹور کی بلڈنگ کا بھی انتظام کیاجائے ۔ہسپتال میں سیکورٹی نظام انتہائی ناقص ہے۔سی سی ٹی وی کیمرے بھی نہیں لگے ہوئے، آئے روز ہسپتال میں چوری چکاری کی اطلاعات منظر عام پرآتی رہتی ہیں ۔چند دن پہلے ہی ایکسرے مشین کی مین پاورسپلائی لائن جس کی مالیت ہزاروں میں بنتی ہے چوری ہوچکی ہے جس کی وجہ سے ایکسرے مشین بند پڑی ہے ۔ رورل ہیلتھ سنٹر کی کمی بھی بری طرح محسوس کی جاتی ہے اسے کوٹ رادھاکشن قصور روڈ پرواقع سب سے اہم مقام کوٹ مہتاب خاں (بھچر)بنیادی مرکز صحت میں منتقل کیاجائے ۔جو کہ وقت کی ایک اہم ترین ضرورت ہے ۔بزدار سرکارکو چاہیے کہ تحصیل کوٹ رادھاکشن کے تمام پیچیدہ و گھمبیر صحت کے حوالے سے مسائل کوترجیحی بنیادوں پر حل کروائے نیز آبادی کے تناسب سے صحت کی سہولیات میںبھی خاطر خواہ اضافہ یقینی بنایاجائے ۔