بدلا ہے موسم اب نظام بھی بدلو

بدلا ہے موسم اب نظام بھی بدلو

April 13, 2020 3:18 pm

مصنف -

ڈاکٹر شمشاد اختر

بہار کے آتے ہی اور کچھ نہ ہو دو چیزوں کا احساس ضرورہوتا ہے ایک تبدیلی اور دوسرے تازگی۔موسم میں نیا پیراہن بدلتا ہے سردی میں ٹھٹھرے ہوئے لوگ انگڑائی لیتے ہیں اور سردی میں سکڑے ہوئے تن بدن میں فراخی اور کشادگی محسوس کرتے ہیں بہار کاموسم آتے ہی انسان تو کیاپرندے اور پھول بوٹے سبھی خوش وخرم اور مست الست نظر آتے ہیں پرندوں کی چہچہاہٹ پہلے کی نسبت بڑھ جاتی ہے نرم اور فرحت بخش ہوا کی اٹکھیلیاں زیادہ ہوجاتی ہیں مرجھائے ہوئے پھول اٹھلانے لگتے ہیں ٹنڈ منڈ درخت نئے برگ وبار سے آراستہ ہونے لگتے ہیں سبزہ پامال نونہال ہونے لگتا ہے بجھے بجھے انسانی چہرے اجلے اجلے محسوس ہوتے ہیں۔ موسم بہا ر میں کوئی ایسا جادو ہے جو سر چڑھ کر بولنے لگتا ہے۔ موسم بہا رکی سحر آفرینی،دلفریبی اور جادو گری اپنی جگہ مسلّم ہے اس بہا ر کو معلوم نہیں کیا بغض ہے ہماری فصل سیاست سے کہ وہ یہاں نہیں اترتی اور اسے کیادشمنی ہے گلشن معیشت سے کہ وہ اس میں پڑاؤ نہیں ڈالتی ہے۔ بہار کے دنوں میں کوئی شخصپارک،سیر گاہوں،باغیچوں،کھیتوں حتیّٰ کہ اپنے گھر کے لان میں جھانک کر دیکھے تو اسے ہر شاخ اور پتے پر رنگ بہار دکھائی دے گا مگر ہماری سیاست ہے کہ اس پر ہر موسم میں خزاں لپٹی ہوئی ہے وہی مکروہ چہرے،وہی ظالم لوگ،وہی استحصالی روش اور وہی فریب کارانہ انداز!
قانون فطرت کے تحت ہر سال موسم اپنا پیراہن بدلتا ہے درخت اپنے دامن سے بوسیدہ پتے جھاڑ لیتے ہیں عمر رسیدہ پھول نئی کلیوں کے لئے خود ہی شاخ سیالگ ہوجاتے ہیں اور زرد پتے ہار مان کرزمین پر گر پڑتے ہیں لیکن ہمارے ہاں کا سیاسی قانون اور معاشی ضابطہ بے حس اور ڈھیٹ واقع ہواہے کہ کوئی سیاست دان اپنا آہنگ نہیں بدلتا،کوئی قریب المرگ سیاسی لیڈر نئے لوگوں کے لئے جگہ خالی نہیں کرتا اور کوئی کمزور اور ہاراہوا سیاسی جغادری بساط چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوتا وطن عزیز ستر (70)سے زیادہ بہاریں دیکھ چکا ہے لیکن اس وطن عزیز کے باسی ابھی تک جشن بہار نہیں دیکھ سکے۔ اسی دوران بلاشبہ حکومتیں بدلی ہیں لیکن ان کے دن نہیں بدلے چہرے ضروربدلے ہیں مگر نظام نہیں بدلا انتظامی نقشوں میں ردوبدل ہوا ہے لیکن افسروں میں جذبہ عمل نہیں ابھرا۔ جب ہر بار موسم بہار میں سب کچھ بدل جاتا ہے تو کچھ نہیں بگڑتا بلکہ ماحول اور بھی سنور جاتا ہے اسی طرح ہمارے نظام سیاست و معیشت میں تبدیلی آتی رہے تواس سے کون ساطوفان اٹھ کھڑا ہوگا۔ 70سالہ ریکارڈ سامنے رکھ لیجئے ایک ہی بات دہرائی جارہی ہے مجال ہے کہ اس میں تبدیلی آئی ہو ہر سال ایک ہی باتیں،ایک گھاتیں،ہر سیاست دان اور حکمران یہی کہتا نظرآتا ہے کہ ہم ملک کی تقدیر بدل دیں گے اب تو وہی ارباب اقتدار نظام بدلنے کے دعوے کرتے ہوئے اور نعرے لگاتے ہوئے نظر آتے ہیں پنجاب ہویا سدھ،خیبر پختون خواہ ہویا بلوچستان،طورخم سے گوادر تک،اٹک سے تھرپارکر تک،پشاور سے کراچی تک ارباب حکومت اور پوری سیاسی قیادت پر نظر ڈالیئے اور پھر اپنے دل سے پوچھیئے کیاان میں کوئی ایک بھی ایسا ہے جس کے منہ سے نظام بدلنے کی بات زیب دیتی ہو۔ کیا میاں برادران نظام بدلیں گے جس نظام نے ان کا کاروبار چمکایااورپھر اس کاروبار نے ان کے لئے اقتدار کاراستہ بنایاکیا زردار ی نظام بدلیں گے جن کی بدعنوانیاں دنیا بھرکی مرغوب کہانیاں بن چکی ہیں کیامخدوم نظام بدلیں گے جو آج تک اپنا مزاج نہیں بدل سکے کیالغاری نظام بدلیں گے جن کے اہل کار اور ہاری ان سے خوش نہیں کیابلاول بھٹو نظام بدلیں گے جو کسی میلے لباس والے سے ہاتھ ملاکر خوش نہیں کیافرقہ وارانہ جماعتوں کے سربراہ نظام بدلیں گے جو آج تک فروعی مسائل سے اوپر نہیں اٹھ سکے،کن کن کانام لیاجائے اور کیاکیا الزام دیا جائے اب یہ باتیں تکرار کے زمرے میں آچکی ہیں نظام بدلنے کا مطلب وزیر،جج،آئی جی،ڈپٹی کمشنر،ڈی سی بدلنا نہیں بلکہ وہ رویّہ بدلنا ہے جو حکمرانوں کو آپے اور ان کیماتحتوں کو جامے میں نہیں رہنے دیتا۔
جناب وزیر اعظم صاحب!
کیاآپ سے میں پوچھ سکتا ہوں کہ اگر آپ نظام بدلنا چاہتے ہیں تو بقدر کناف وسائل اپنے پاس رکھ لیں باقی بحق سرکار منتقل کردیں اور یہ سب کچھ آپ کو گوارا ہو اگر آپ کے لئے یہ ممکن نہیں تو پھر کسی سیکرٹری،ڈی سی او،اے سی کے لئے بھی ممکن نہیں کہ وہ کنالوں پر محیط بنگلے اور کوٹھیاں چھوڑ کر مصری شاہ اور شاد باغ چلے جائیں کیا آپ میں یہ حوصلہ ہے کہ حضرت علی کی طرح عدالت میں اس طرح پیش ہوں کہ نہ کوئی چوبدارآپ کے ساتھ ہو وہاں آپ کے لئے ریٹائرنگ روم کھولا جائے نہ آپ کی حاضری کو ٹی وی کوریج دی جائے آپ کا بیٹا آپ کو گواہ ہو اور عدالت اس کی گواہی مسترد کردے اور فیصلہ آپ کے خلاف صادر کردے اور اس کے باوجود آپ کے چہرے پر شکن اور دل میں ملال نہ آئے اگر آپ یہ نہیں کرسکتے تو پھر عدالتی نظام کی اصلاح نہیں کرسکتے۔ جناب والا! کیا اپنے اندر اتنی ہمت رکھتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کی طرح کی طرح اپنی اہلیہ سے کہیں کہ اپنا زیور،اپنے ہار اور اپنے قیمتی کڑے سرکاری خزانے میں جمع کروادیں اس لئے کہ میں آغاز اپنی ذات کی طرف سے کرنا چاہتا ہوں اور آپ کی اہلیہ ذرا توقف کرے تو آپ اے صاف کہہ دیں کہ دیکھوبیگم یا زیور رکھنا ہوگا یا شوہر کے ساتھ رہنا ہوگا دونوں چیزیں ممکن ہی نہیں اگر آپ سے یہ ہونا ممکن ہی نہیں تو آپ اقربا پروری کا کلچر تبدیل نہیں کرسکتے۔ حضوروالا! اگر آپ اور آپ کے رفقاء حضرت عمرفاروق کی طرح یہ نہیں کرسکتے کہ وصیت کردیں کہ میرے بعد ساری دنیا امیر امؤمنین بن سکتی ہے۔
مگر میرا بیٹا عبداللہ نہیں ہوسکتاتو پھر سیاست میں خاندانی اجارہ داری کا نظام نہیں توڑ سکتے۔ “نظام بدلو” کا راگ الاپنا آسان ہے اس آگ میں کودنا پھولوں کی آغوش میں پلنے والوں کے بس کا روگ نہیں ہے مکمل اور جامع انقلاب نہ سہی دوسرے درجے میں جہاں انقلاب آیا ہے تو اس کے بانیوں نے بڑے عزم اور کردار کا مظاہرہ کیاہے۔ لینن دوران حکومت نرم و نازک گدوں پر نہیں دفتر کی ٹیبل پر برسوں تک سوتا رہا کام سے فارغ ہو اتو وہیں سوگیا،ماؤزے تنگ نے 32سال تک ایک کوٹ استعمال کیا جو آج بھی میوزیم میں موجود ہے آیت اللہ خمینی کا کچا گھر آج بھی “قم” کے اندر اسی حالت میں موجود ہے اس کے علاوہ ان کی کوئی جائیداد دستیاب نہیں ہوسکی۔ آپ کہتے ہیں نظام بدلنا چاہئے ہم کہتے ہیں نظام بدلنا چاہئے تو پھر رکاوٹ کیاہے آپ کے نزدیک فنّی اور قانونی رکاوٹیں ہوں گی ہمارے نزدیک شخصی اور ذاتی رکاوٹیں ہیں آپ کہتے ہیں آئین بدلنا چاہئے قانون بدلنا چاہئے رولزآف بزنس ()بدلنے چاہئیں ہم کہتے ہیں کہ یہ سب بدل جائیں گے بس آپ خود بدل جائیے پھر سب کچھ نہ بدلا تو جوسزا چور کی وہی سزا ہماری! آپ دل کی آرزونہیں بدل رہے تو افسر اور عوام اپنی خُو کیسے بدلیں گے موسم بدلا ہے
نظام بدلو قبل اس کے خود کو بدلو