کئی رنگ ہیں وجود زن میں موجزن

کئی رنگ ہیں وجود زن میں موجزن

April 13, 2020 3:16 pm

مصنف -

شانزہ راجپوت
دنیا کے ہر معاشرے و مذہب میں عورت کا وجود قدرتی و فطری ہے۔یہ فلسفہ ربِ کائنات کا ہے جو ہماری عقل سے پرے ہے۔دنیا میں وجود زن سے کئی رنگ موجزن ہیں۔ہمارے دینِ اسلام نے عورتوں کے حقوق کا تعین کر کے ناصرف انہیں آزادیِ حیات بخشی ہے بلکہ انہیں اعلیٰ مقام عطا کر کے ان رنگوں کی خوبصورتی کو اجاگر کردیا ہے۔حضور اکرمۖ نے اولادوں میں بیٹی کو رحمت قرار دیا ہے۔
”تمہاری اولاد میں بیٹیاں بہتر اولاد ہیں۔”
لوسائل ٥١: ٦١١۔ بحار الانوار ١٠١: ١٩۔ مکارم الاخلاق: ٩١٢)
لیکن عصرِ حاضر میں یہ آزادی اور اس کے رنگ فقط ان جملوں پر مکمل ہوتے ہیں کہ ”میرا جسم میری مرضی”
یہ دورِ حاضر کی عورتوں کی انتہائی پست ذہنیت کی سوچ ہے۔ آزادی کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ عورتوں پر تشدد یا ان کے حقوق سلب ہونے کی صورت میں آزادی مارچ کی جائے،سڑکوں پر نکل آئیں، ریلی میں چیخ و پکار اور بے ہنگم طریقے سے طرح طرح کے نعرہ لگائے جائیں یا پھر مختلف عبارت سے مزین رنگا رنگ بینرز ہاتھ میں لیے میڈیا کی زینت بن جائیں۔
مومن عورتوں کا یہ کونسا روپ ہے۔یا پھر یہ روپ مومن عورتوں کا ہے بھی یا نہیں۔ اگر یہ واقع مومن عورتوں کا روپ ہے تو کیا اسلام میں عورتوں کا یوں خود کا پرچار کرنا ضروری ہے۔ایسی کون سی حدیث ہے،ایسی کون سی سنت ہے یا نسخہ کیمیا(قرآن پاک) کی ایسی کون سی سورة ہے جس میں حقوق نہ ملنے پر عورتوں کو یوں سڑکوں،ٹیلیوژن اور رنگ رنگ کے مردوں کی نظروں کا مرکز بننے کا حکم ہے نعوذبااللہ۔
اپنے حقوق اور آزادی کی لڑائی میں اس قدر نہیں گرنا چاہیے کہ سر اٹھانے پر ذلت و رسوائی کا سورج ہمیں دوبارہ نگاہ جھکانے پر مجبور کردے۔لڑیں ضرور لڑیں سر اٹھا کر ،مگر اپنی حدود کے دائرے میں رہ کر وہ حدود جو اللہ تعالی نے مقرر کی ہیں۔
ترجمہ:
” اور کسی مو من اور مومنہ کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ جب اللہ اور اس کے رسول کسی معاملے میں فیصلہ کریں تو انہیں اپنے معاملے کا اختیار حاصل رہے اور جس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی وہ صریح گمراہی میں مبتلا ہو گیا۔”(سورةالاحزاب۔آیت۔??)
وجودِ زن میں ہی تو دنیا کا ہر رنگ موجزن ہے۔بنا اس کے دنیا بے رنگ ہے۔دنیا کو اپنے رنگوں سے کس طرح رنگنا ہے۔یہ ہمیں ہمارا دین سکھاتا ہے۔اسلام نے اس کے کچھ اصول وضوابط رکھے ہیں۔
عورت با حیا ہو،باپردہ،فرمانبردا ہو اور متقی ہو۔پھر چاہے اس کے کتنے ہی روپ ہوں۔ماں،بہن،بیٹی،بیوی۔ہر روپ وفاداری با حیائی کا پیکر ہوناچاہیے۔
ترجمہ:
”اے نبیۖ! اپنی ازواج اور اپنی بیٹیوں اور مومنین کی عورتوں سے کہ دیجئے: وہ اپنی چادریں تھوڑی نیچی کر لیا کریں، یہ امر ان کی شناخت کے لیے (احتیاط کے) قریب تر ہو گا۔(سورةالاحزاب۔آیت۔)
ترجمہ:
”اوڑھنیاں ڈالے رکھیں اور اپنی زیبائش کو ظاہر نہ ہونے دیں۔”
(سورة نور۔آیت۔)
قرآن حکیم کی یہ آیتیں اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ عورت حیا کے دائرے میں رہ کر اپنے حقوق پورے کرے ناکہ سرکشی اور ہٹ دھرمی پر اتر آئے۔
”میرا جسم میری مرضی”۔نہیں یہ جسم اللہ کا بنایا ہوا ہے۔اے بنتِ حوا کس بات کا غرور ہے تو فقط مٹی کے ایک زرے کی مار ہے۔یہاں تو یہ خاک بھی رب کے آگے جوابدہ ہے۔تو پھر ہماری کیا اوقات؟؟؟
اسلام سے پہلے جب چہار سو جہالت کا اندھیرا اور ظلم و بربریت کی تاریکی تھی۔تب عورتوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جاتا تھا وہ نا قابلِ بیان ہے۔بیٹی پیدا ہوتے ہی اسے زندہ دفنا دیا جاتا تھا۔
ترجمہ
”اور جب زندہ درگور لڑکی سے پوچھاجائے گا کہ وہ کس جرم میں ماری گئی۔”۔(سورة التواکیر آیت)
اس کی آہیں اس کی پکاریں سب پس ِپشت ڈال دی جاتی تھیں۔عورتوں کو غلامی کی زنجیر میں باندھ کر اسے دل لبھانے کا سامان سمجھاجاتا تھا۔
حسن کے بازار سر گرم تھے جہاں عورتوں کی بولی لگائی جاتی تھی۔جس کا دل کرتا تھا جھولی بھر مال دے کر لونڈیا اٹھا لے جاتا تھا۔شراب،جوا اور زنا سب عام تھا۔ظلم کے اس دور کی تاریخ گواہ ہے۔جن کے اوراق چیخ چیخ کر عورتوں پر ہونے والے ظلم کی داستانیں سناتے ہیں۔
لیکن جب ظلم حد سے بڑھ جاتا تو مٹ جاتا ہے صبر کا پیمانہ لبریز ہوجاتا ہے۔عرب کے دورِ جہالت میں بھی جب ظلم حدوں کو چھونے لگا تھا تو میرے پروردگار نے ہادیِ برحق کو زمین پہ اتاراتھا۔چہار سو علم کی روشنی چھائی تھی جہالت کا اندھیرا چھٹا تھا۔وہ اکیلے نہیں آئے تھے۔وہ دین لے کر آئے تھے وہ علم لے کر آئے تھے۔وہ قرآن لے کر آئے تھے۔میرے نبی خود معجزہ بن کر آئے تھے۔پوری دنیا منور ہوئی تھی۔
وہ حضور ۖکی صورت مبارک تھی جس نے پورے عرب کی سر زمین کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔دشت و جبل حق نامے سے گونج اٹھے تھے۔انہوں نے عورتوں کے وہ حقوق متعین کیے جن کا زمانہ جاہلیت میں تصور بھی نا ممکن تھا۔
اسلام نے عورت کے ہر روپ کے حقوق کا تعین کیا اور ان کی ادائیگی کو اپنے ماننے والوں پر لازم قرار دیا۔
بحیثیت ماں اس کے قدموں تلے جنت رکھ دی گئی۔اولاد کو تاکید کی گئی کہ ماں باپ کے سامنے جب وہ بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو اُف تک نہ کریں۔شوہر پرلازم کیا کہ وہ اپنی بیوی سے حسنِ سلوک روا رکھے اور اس کی تمام تر ضروریات کا خیال رکھتے ہوئے اس کی جائز خواہشات کو چار دیواری کے اندر پوراکرے۔
ترجمہ
”اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے دیا کرو، ”
(سورة النسا: آیت)
وراثت میں بھی عورتوں کو حق رکھا گیا۔
ترجمہ
”جو مال ماں باپ اور قریبی رشتے دار چھوڑ جائیں اس میں تھوڑا ہو یا بہت عورتوں کا بھی ایک حصہ ہے، یہ حصہ ایک طے شدہ امر ہے۔”(سورة النسائ۔ آیت)
تعلیم میں بھی عورتوں کو مرد کے مساوی حقوق ادا کیے۔اسلام سے پہلے عورت کی آزادی کا تصور بھی کسی معاشرے میں نہیں ابھرا تھا۔یہ دینِ اسلام ہے جس نے عورتوں کا مقام بلند کیا۔
عورتوں کی آزادی اور تعلیم کی ممانعت نہیں بلکہ اس کی ایک حدود مقرر ہے کہ شرم و حیا کے دائرے میں رہا جائے ۔اگر عورتیں تعلیم حاصل کر کے یوں ہسپتالوں، کوٹ کچہریوں، دفاتر، بازاروں اور مارکیٹوں کی زینت بنی رہیں گی تو جہالت کے زمرے میں آئیں گی۔تعلیم کا اصل مقصد جہالت دور کرنا ہے جب یہی مقصد پورا نا ہو تو یہ تعلیم کس کام کی۔
آج عورتیں مغریبی تہذیب و تمدن اپنائے ہوئے ہیں پہننے اوڑھنے سے لے کر رہن سہن اور رسم و مراسم بھی مغربی طرز کے ہیں۔جبکہ ہماری تعلیم ہمیں ہماری اسلامی تہذیب سے روشناس کراتی ہے۔تعلیم،پیسہ،آزادی اور اونچا سٹیٹس یہ نہیں کہتا کہ سر سے دوپٹہ اتار کر اسے گلے میں کتے کے پٹے کی صورت سجالیا جائے یا سرِ بازار دعوتِ حسن بن کر غلیظ اور ہوس بھری نظروں کا مرکز بنا جائے۔عورت چاہے امیر طبقے کی ہو یا غریب عورت کو اللہ تعالی نے شرم و حیا کا پیکر ہی بنایا ہے۔عورت اگر تعلیم اور آزادی کے ساتھ ساتھ شعورِ حیات اور دینِ اسلام سے بھی قریب تر ہو تو اپنی آئندہ آنے والی نسلوں کو بھی اسی طرز سے پروان چڑھائے گی۔
کیونکہ وہ ہماری نسلوں کی امین ہے۔
کئی رنگ ہیں وجودِ زن میں موجزن
اے بنتِ حوا! خود کو سنوار کر تو دیکھ،