تمام تعلیمی ادارے بند رہیں گے

تمام تعلیمی ادارے بند رہیں گے

April 13, 2020 3:15 pm

مصنف -

شہریار شوکت
دنیا بھر میں اس وقت کورونا وائرس سے 150 ممالک متاثر ہوچکے ہیں۔ہزاروں افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں کوئی اسے سازش قرار دے رہا ہے کوئی اسے ترقیافتہ ممالک کیلئے بڑا چیلنج سمجھتا ہے تو کسی کے مطابق یہ سب حرام اشیاء کے استعمال سے ہوا۔نام کچھ بھی دیں بلاشبہ یہ خدا تعالیٰ کا ایک بڑا عذاب ہے۔ایک ایسا عذاب جس کے بعد ہم مساجد میں زیادہ وقت نہیں گزار سکتے،ایک ایسا عذاب جس کے بعد ہم عمرے کی سعادت سے محروم ہورہے ہیں،ایک ایسا عذاب جس کے بعد ہمیں اپنی معیشت کی فکر لاحق ہوگئی،کیا کھانا ہے کیا پہنا ہے کیسے چلنا ہر ہر معاملے میں دنیا بھر کے لوگ اس وقت پریشان ہیں۔دنیا کا جائزہ لیجئے مسلمانوں پر ظلم کرنے والے،حجاب پر پابندی لگانے والے،اسلام کا نام لینے والوں کو دہشت گرد کہنے والے،مولوی اور سیکیولر ہونے کی لڑائی لڑنے والے میرا جسم میری مرضی کے نعرے لگانے والے سب بے بس ہو کر رہ گئے۔اس تمام صورتحال میں ایک ہی صدا سنائی دے رہی ہے”اے ابن آدم ایک تیری چاہت ہے اور ایک میری چاہت ہے پر ہوگا تو وہی جو میری چاہت، پس اگر تونے سپرد کردیا اپنے آپ کو اس کے جو میری چاہت ہے تو میں بخش دوں گا تجھ کو وہ بھی جو تیری چاہت ہے اور اگر تونے رو گردانی کی اس سے جو میری چاہت ہے تو میں تھکا دوں گا تجھ کو اس میں بھی جو تیر ی چاہت ہے،پھر ہوگا وہی جو میری چاہت ہے۔کورونا کہ باعث ملک کے تمام تعلیمی ادارے بند ہیں۔تنظیم المدارس اہلسنت اور وفاق المدارس العربیہ ا پاکستان نے بھی معاملے کی سنگینی کو سمجھا اور حکومتی اعلان کے مطابق مدارس و جامعات بند رکھنے کا اعلان کیا۔اس صورتحال سے قبل مختلف جامعات کی سالانہ تقریب تقسیم انعامات ہوئیں۔مولانا طلحہ رحمانی کی دعوت پر جامعہ بنوری ٹاؤن کی تقریب میں جانا ہوا اور پھر جامعہ باب الرحمت میں بھی حاضری لگی۔جامعہ میں ناظرہ کی تعلیم مکمل کرنے پر 15 طالب علموں کو اسناد دی گئیں،13 علما بھی ملک کے سپرد کئے گئے جبکہ 25 طلبہ نے قرآن کریم کو اپنے سینوں میں محفوظ کیا۔جامعہ کا اہم شعبہ تعلیم بالغان ہیجہاں بالغان کو دینی تعلیم دی جاتی ہے 8 افراد نے اس شعبے سے اپنی تعلیم مکمل کی۔اگر ملکی تعلیمی نظام کی بات کی جائے تو سرکاری اسکولوں کا کیا حال ہے سب کے سامنے ہی ہے 70 سالوں میں مختلف سیاسی جماعتوں کی حکمتیں بنی لیکن شعبہ تعلیم میں حکومتوں نے کہاں کہاں اپنے جھنڈے گاڑھے اس کا ہمارے پاس کوئی جواب نہیں۔اگر کہیں سرکاری اسکول، کالج موجود ہیں بھی تو انکا حال یہ ہے کہ کہیں استاد نہیں تو کہیں طالب علم نہیں اور جہاں دونوں ہیں وہاں پڑھانے کی جگہ نہیں کیوں کہ اسکول کالج کے لئے مختص جگہوں پر بااثر افراد کے مویشی بندھے ہوتے ہیں۔پرائیویٹ اسکول اگر تعلیم دیں تو وہاں پڑھانے والوں کو وزیراعظم ہاؤس جیسی بلڈنگ نظر آنی چاہیئے پھر اگر وہ زیادہ فیس مانگ لیں تو وہ مافیا بن قرار دے دیئے جاتے ہیں۔لیکن جامعہ بابرالرحمت اور اس جیسی دیگر جامعات اور مدارس میں جاکر احساس ہوا کہ جن والدین کو ٹشن کی چاہت نہیں،انہوں نے اپنے بچوں کو بہتین تعلیم دینی ہے تو یہ جامعات انکی توجہ کا مرکز بن سکتی ہیں جہاں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیاوی تعلیم بھی دی جاتی ہے اور بچوں کو رہائش،کھانا اور میڈیکل کی سہولت بھی ادارے کی جانب سے دی جارہی ہے۔اس ادارے کی تقریب میں آنے والا شاید ہی کوئی شخص ایسا ہو جو ادارے کے طالب علموں کے نظم و ضبط اور اخلاق سے متاثر نہ ہوا ہو، ادارے کی کوئی بھاری فیس بھی نہیں ہے۔یہاں پڑھنے والے اکثر طالب علموں کو مہمان طالب علم کہا جاتا کیوں کہ وہ دوسرے شہروں سے یہاں تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں۔ان طالب علموں سے بھی کسی قسم کی فیس نہیں لی جاتی۔اس سلسلے میں مخیر حضرات ادارے کی مدد کرتے ہیں اور انکی مدد اور اللہ کی نصرت سے یہ ادارے چلتے ہیں۔جامعہ باب الرحمت توشہر کراچی کا ایک ادارے ہے۔کراچی بھر میں ایسے مدارس کی بڑی تعداد موجود ہے جو طالب علموں کے رہن سہن کے ساتھ کھانے پینے اور کپڑوں کا انتظام بھی کرتے ہیں۔ملک میں ہر طرف قومی نصاب کی بات کی جاتی ہے لیکن میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ قومی نصاب کی بات کرنے والی حکومت بیشتر اسکولوں کو حفظ و ناظرہ قرآن پڑھانے پر راضی نہیں کر سکتی۔ان کا ایک ہی جواب ہوگا ہمارے پاس وسائل نہیں۔لین یہ مدارس و جامعات واقعی کسی حد تک قومی نصاب پر عمل پیرا ہیں،یہاں کے طالب علم دینی تعلیم کے ساتھ مناسب انداز میں دنیاوی علم بھی حاصل کررہے ہیں۔اس وقت تو اسکول مدارس تمام ادارے ہی مشکلات میں ہیں،حکومت کا بھی موجودہ صورتحال کا ذمہ دار نہیں کہا جاسکتا،حکومت اپنے انداز میں کورونا کی وبا سے نمٹنے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے،لیکن اس وبا کی وجہ ہم سب ہیں کیوں کہ ہم نے خود کو اللہ کی چاہتوں سے دور کرلیا ہے۔اس وبا سے پہلے کی صورتحال پر غور کریں تو ذہن میں ایک بات آتی ہے کیا ان مدراس کو نظر انداز کرنا بھی تو اللہ کی ناراضگی کی ایک وجہ نہیں؟کیا ہم نے عام معاشرے میں ان افراد کو قبول کیا؟کیا انہیں ملازمتوں میں حصہ دیا؟آج دو استاد دینے کی پیشکش کرنے والی حکومت نے یا ماضی کی حکومتوں نے جامعہ باب الرحمت،جامعہ بنوری ٹاؤن یا کسی اور تعلیمی ادارے کے ساتھ کیا تعاون کیا؟کیا یہ مدارس و یہاں کہ طالب علم حکومتی توجہ کے حقدار نہیں؟ کیا حکومت کی ذمہ داری نہیں کہ مدارس کے طالب علموں کے لئے بھی کوئی یوتھ ڈیولپمنٹ پروگرام لایا جائے۔بلاشبہ اللہ کا نام لینے والوں کو اللہ کی ہی ضرورت ہے لیکن یہ درس گاہیں بھی حکومت کی ذمہ داری ہیں حکومت کو ان کے اکابرین سے سنجیدہ مذاکرات کرنے ہوں گے یہ ادارے تو ہمیشہ سے قومی دھارے میں ہیں کیوں کہ یہ نظریہ پاکستان پر آج بھی عمل پیرا ہیں نظریہ پاکستان کا تو مطلب ہی لاالہ اللہ ہے۔خدا جامعہ باب الرحمت اور دیگر تمام مدارس کے طالب علموں کو اسی طرح کامیاب کرے اور انہیں ملک کی خدمت کیلئے قبول کرے۔امید ہے کہ تمام تعلیمی ادارے بد رہیں گے کہ احکامات جب ختم ہوں گے تو ہم خدا کی چاہت کو ہی اپنی چاہت بنا لیں گے اور ان عظیم درسگاہوں سے محبت کی پالیسی کو مزید مستحکم کریں گے۔