جاپانی گاڑیوں کی درآمد وقت کی ضرورت

March 18, 2020 2:32 pm

مصنف -

زاہد اعوان
آرام دہ،اعلی سیکورٹی سسٹم ،کم ایندھن خرچ کرنے اور محفوظگاڑی ہر پاکستانی کا خواب ہے،پاکستان میںتیار ہونیوالی گاڑیاںخریدنے کی سکت نہ رکھنے والے شہریوں کیلئے جاپانی گاڑیاںکسی نعمت سے کم نہیں ہیں، پائیداری اور حفاظتی فیچرز کے باعث جاپانی گاڑیاںپاکستان کے عوام کی اولین ترجیحبن چکی ہیںلیکن حکومت کی جانب سے آٹو پالیسی میںترمیم کے بعد بیرون ممالک سے گاڑیاںمنگوانا انتہائی دشوار اور قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگیاہے جبکہ اگر ہم جاپانی گاڑیوںکا پاکستانی گاڑیوںسے موازنہ کریں تو ہماری آٹو انڈسٹری بہت پیچھے دکھائی دیتی لیکن قیمتیںآسمان سے باتیں کرتی ہیںیہی وجہ ہے کہ پاکستان کے عوام مقامی سطحپر تیار کردہ گاڑیوں کی نسبت جاپانی سے درآمد کی جانیوالی گاڑیوںکو زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔
مالی سال 20-2019 آٹو انڈسٹری کیلئے مایوس کن تھا، گاڑیوںکی تیاری میں نمایاں کمی نے مارکیٹ کو شدید نقصان پہنچایاجبکہ مقامی اسمبلرز کا یہ خیال قطعی غلط ہے کہ جاپانی گاڑیوںکی درآمد سے ملک کو نقصان ہوتا ہے کیونکہ جہاںپاکستان میں گاڑیوں کی ڈیمانڈ کو پورا کرنے کے لئے جاپانی گاڑیوں کی امپورٹ ضروری ہیوہیںیہ بھی حقیقت ہے کہ جاپان سے گاڑیوںکی درآمد بند ہونے سے پاکستانی ہی متاثر ہوئے ہیں۔ جاپان میںاستعما ل شدہ گاڑیاںپاکستان کو فروخت کرنے کی صنعت میںپاکستانی عوام کا نمایاںکردار ہے اوریہ ایکسپورٹرز جاپان سے خطیر زرمبادلہ پاکستان بھجواتے ہیں اور اس صنعت سے نوجوانوں کو وسیع پیمانہ پر باعزت روزگار ملتا ہے۔ جاپان میں بسنے والے پاکستانیوں سے لے کر کراچی پورٹ کا عملہ کلیئرنگ ایجنٹس، پورٹ سے شو روم تک گاڑیاں پہنچانے والے ڈرائیور ،ڈینٹر پینٹر، کمیشن ایجنٹس اورگڈز ٹرانسپورٹ سے لے کر گاڑیوں کی صفائی والے روزگار حاصل کرتے ہیں۔گیس شارٹیج، ماحول، فارن کرنسی ذخائر اور لاکھوں نوجوانوں کے روزگار کی بحالی کے لیے حکومت کوپانچ سال پرانی ہائبرِڈ اور الیکٹرک گاڑیوں کی امپورٹ کی اجازت دینے پر غور کرنا چاہیے۔ہائبرڈ اور الیکٹرک گاڑیوں کی امپورٹ سے آئل بل کو 80فیصد کم کیاجاسکتا ہے اور یہی بچت گاڑیوں کی امپورٹ میں استعمال کی جا سکتی ہے جس سے ماحول بھی آلودگی سے پاک ہوسکتا ہے جبکہ بڑے شہروں میں فوگ اور گرمیوں میں شدید گرمی سے بھی نجات مل سکتی ہے۔گاڑیوںکی درآمد سے حکومت کو ڈیوٹیز کی مد میں اربوں کی آمدنی ہوگی بلکہ پاکستان دنیا میں ترقی کی منازل بھی طے کرے گا اور عوام کی قوت خرید کے مطابق عالمی معیار کی گاڑیاں بھی میسر ہوں گی۔ مقامی اسمبلرز ہر چیز امپورٹ کرتے ہیںاور ڈالر کے بھائو میںتبدیلی کے اثرات آٹو انڈسٹری پر پڑتے ہیں یہ ہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ڈالر کی قیمتیںبڑھنے سے 25 ہزار ڈالرز کی جو کار پہلے پاکستانی کرنسی میں 27لاکھ کی مل جاتی تھی مگر وہ 40 لاکھ روپے تک پہنچ گئی ہیجس کی وجہ سے پاکستانی خریداروں کی قوت خرید تیزی سے کم ہونے لگی ہے۔ملک میںشرح سود کی وجہ سے بینکوں سے لیز پر گاڑیاں لینے کے رجحان میں بھی کم ہوئی ہے، پہلے لوگ پانچ لاکھ روپے دیکر بینک لیز پر گاڑی لے لیتے تھے آج وہ بھی شرح سود کی وجہ سے بینکوںسے گاڑیاں لینے سے گریزاںہیںحکومت مقامی اسمبلرز کو بھی سہولیات فراہم کرے تاکہ عوام کو گاڑیوںکی مناسب قیمتوںپر فروخت یقینی بنائی جاسکے اور امپورٹ کی جانیوالی گاڑیوںکے معاملات پر کڑی نظر رکھی جائے تاکہ مڈل مین امپورٹرز کا استحصال نہ کرسکیں اور لوکل اسمبلرز پاکستانی عوام سے مکمل قیمت لینے کے باوجود کئی ماہ بعد گاڑیاںدیتے ہیںجو دنیا میں کہیںنہیںہوتا۔
حکومت کو گاڑیوںکی صنعت کو بچانے کیلئے ہنگامی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہیں ،پاکستان میں گزشتہ 5سال میں دو لاکھ 70 ہزار استعمال شدہ گاڑیاں باہر سے منگوائی گئی ہیں ،پاکستان میں گاڑیوں کی امپورٹ پر ڈیوٹی سب سے زیادہ ہے جو3سوفیصد سے بھی زائد ہے ،درآمد ڈیوٹی کم کرکے 100 فیصد تک کی جائے ، حکومت جاپانی گاڑیوںکی درآمد کی حوصلہ افزائی کرے اورامپورٹ ڈیوٹی کم کرنے کے ساتھ جاپان سے گاڑیوں کی امپورٹ کو صنعت کا درجہ دے تاکہ معیشت کو مزید فائدہ ہو۔