ایک جھلک بطور چیف الیکشن کمشنر

March 18, 2020 2:29 pm

مصنف -

ارشاد حسن خان
جمہوری اداروں کا فوجی حکمرانوں کے ساتھ چلنا آسان نہیں ہوتا اور اس وقت تو مزید مشکل ہو جاتا ہے جب آپ ہر معاملے میں مکمل طور پر متفق نہ ہوں۔ ایسے میں درمیانی راستہ نکالنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ راقم کو بطور چیف الیکشن کمشنر کئی بارایسا کرنا پڑا۔ ظفر علی شاہ کیس میں تین سال میں انتخابات کرانے کا فیصلہ میری سربراہی میں فل کورٹ نے کیا تھا۔اس فیصلے کے اڑھائی سال بعد انتخابات ہوئے۔ حکومت کی طرف سے انتخابات کے انعقاد کا ٹائم فریم دینے میں لیت و لعل کیاجارہا تھا مگر ہم نے بالآخر حکومت سے اگلے اڑھائی سال میں انتخابات کرانے کی کمٹمنٹ لے لی تھی۔ اڑھائی سال بھی اس لیے دیئے کہ انتخابی لسٹیں اور حلقہ بندیاں ہونا تھیں۔اس مدت میں مسلم لیگ ن کے وکیل خالد انور نے بھی اتفاق کیا تھا۔ اتفاق سے انتخابات ہوئے تو میں چیف الیکشن کمشنر تھا۔ جنرل پرویز مشرف بطور چیف جسٹس مجھے ایک سال کی توسیع دینا چاہتے تھے۔مگر میںنے معذرت کر لی تھی۔ اسی طرح چیف الیکشن کمشنر کی مدت بھی پانچ سال کرنے کی تجویزان دِنوں آئی جب میںچیف الیکشن کمشنر تھا۔تب چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی تین سال کے لئے ہوتی تھی۔ میں نے5سال کی مدت بھی قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا البتہ بعدازاں یہ مدت پانچ سال کر دی گئی جو اب رائج ہے۔ 2002 کے انتخابات کے اعلان کے بعد کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا مرحلہ آیا تو اس حوالے سے ایک تاریخ دے دی گئی۔اس کے بعد حکومت کی جانب سے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی مدت میں تین چار روز کی توسیع کا پیغام ملا۔ میں بچپن سے ہی اپنے کام میں مداخلت قطعا پسند اور برداشت نہیں کرتا۔ میں نے اس تجویز کو مسترد کر دیا تاہم بعد میں خیال آیا کہ دو چار روز کی توسیع سے کچھ فرق نہیں پڑے گا لہذا میں نے سیاسی پارٹیوں سے مشورہ کیا ان میں راجہ ظفر الحق،نوابزادہ نصراللہ اور مخدوم امین فہیم بھی شامل تھے۔راجہ ظفر الحق نے اس تجویز سے اتفاق نہیں کیا جبکہ دیگر پارٹیوں نے اس تجویز کی حمایت کی لہذا توسیع کر دی گئی۔دوسرے روز پیغام ملا کہ جنرل پرویز مشرف ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔ میں ان کے آفس چلا گیا۔ ایوانِ صدر میں ملاقات ہوئی۔ ان کے ساتھ چیف آف سٹاف جنرل حامد جاوید بھی تھے۔علیک سلیک کے بعد صدر صاحب نے بڑے دھیمے انداز میں پوچھا۔ جناب جب ہم نے آپ سے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے حوالے سے توسیع کی بات کی تو آپ نے انکار کر دیا اور اب آپ نے توسیع دیدی۔ آپ نے کہیں کسی کے زیرِ اثر تو یہ فیصلہ نہیں کیا۔ان کا اشارہ میاں نواز شریف کی طرف تھا۔جنرل مشرف کے ایسا کہنے پر میں آپے سے باہر ہو گیا میرا لہجہ ویسے ہی بلند آہنگ ہے، میں نے کہا، جناب! آپ کے ہاتھ میں گن ہے اور آپ باوردی بھی ہیں اگر میںآپ کے زیرِ اثر نہیں تو اور کسی کے زیرِ اثر کیسے ہو سکتا ہوں۔ اگر آپ کو مجھ پر اعتماد نہیں تو ابھی کاغذ لائیں میں استعفی دے دیتا ہوں۔ اس پر مشرف نے کہا ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ میرے اس طرح بات کرنے سے سناٹا چھا گیا اور ماحول میں کشیدگی در آئی۔ مجھے بھی اپنے زیادہ ہی جذباتی ہونے کا احساس ہوگیا۔ میں نے ماحول میں بہتری لانے کے لیے کہا صدر صاحب! میرا گلابند ہو رہا ہے چائے منگوا لیں اور ساتھ سینڈوچ کی فرمائش بھی کر دی۔ اس پر جنرل حامدجاوید اٹھ کر جانے لگے تو جنرل پرویز مشرف نے کہا، آپ کہاں جا رہے ہیں۔ ویٹر کو بلا کر کہہ دیں یوںماحول میں تلخی اور کشیدگی جاتی رہی۔جب انتخابی نشانات کی الاٹمنٹ کا مرحلہ آیا تو سیکرٹری الیکشن کمشنر محمد حسین نے کہا کہ پیغام آیا ہے پی پی پی کو تیر اور مسلم لیگ ن کو شیر کا نشان الاٹ نہ کیا جائے۔ میں نے محمد حسین سے کہا یاد رکھو! تم مجھ سے نہیں ملے ہو۔اس روز پارٹیوں کو نشانوں کی الاٹمنٹ کے لیے بلایا گیا تھا۔ اجلاس شروع ہونے سے قبل میں نے تمام رابطے منقطع کروا دیئے۔اس دوران یاد دہانی کے فون ضرور آئے مگر سٹاف نے میرے حکم کے مطابق مجھ تک کال ٹرانسفر نہیں کی۔ان پارٹیوں کومذکورہ نشانات الاٹ کئے گئے تو ان کو یقین نہیں آ رہا تھا۔ وہ نشانات کو الٹ پلٹ کر دیکھ رہے تھے کہ کہیں تیر سے ملتا جلتا نشان پنسل وغیرہ تو نہیں دے دیا گیا۔ شیر والوں کو بلی کا شبہ تھا۔ان نشانوں کی الاٹمنٹ کے بعد اوپر سے فون آ گیا اور گلہ کیا گیا لیکن سانپ نکل چکا تھا اب لکیر پیٹی جارہی تھی ۔انتخابات کے روز گورنر سندھ محمد میاں سومرو کا شام کو فون موصول ہوا۔ان کے والد میرے دوست تھے ۔ ان کے ساتھ یہ بھی مجھ سے ملتے رہتے تھے۔ مجھے انکل کہتے تھے۔ اس روز فون پر کہہ رہے تھے کہ ہم نے آپ کیلئے انتخابی عمل کو مانیٹر کرنے کے لیے ہیلی کاپٹر تیار کراکے بھجوا دیا تھا، اس پر میں نے ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پوچھا۔ میرے لائق کیا خدمت ہے؟ تو انہوں نے کہا کراچی کے کچھ حلقوں میں پولنگ کے وقت میں توسیع ۔۔۔۔۔ وہ بات کر رہے تھے میں نے دو تین بار ہیلو ہیلو کہا اس کے بعد کال کٹ گئی۔مجھے ان کی اپروچ کا اندازہ تھا۔ اس وقت میں لاہور میں تھا۔ پولنگ کا وقت ختم ہونے والا تھا۔ اسی علاقے میں میری بیٹی کا گھر ہے میں گارڈز اور سکواڈ کو وہاں چائے وغیرہ کے لیے لے گیا ۔ اس دوران فون اور وائرلیس سمیت تمام رابطے خاموش کروا دیئے۔بعد میںجنرل حامد جاوید کا فون آیا سومرو صاحب نے ان سے بھی بات کی تھی ،وہ بھی میرے ساتھ رابطے کی کوشش کرتے رہے تھے ،انہوںنے شکوہ کی مگر اب کیا ہوسکتا تھا۔گزشتہ کالم میں تفصیل کے ساتھ حکومت کی طرف سے انتخابی نتائج کا نوٹیفکیشن موخر کرانے کی کوشش کا تذکرہ کیا تھا۔2002 کے انتخابات کو عالمی میڈیا اور مبصرین نے بھی مانیٹر کیا تھا۔ ان انتخابات کی ساکھ اس کے نتائج کے مطابق شک و شبہ سے بالاتر تھی۔ان انتخابات میں بہت کم اعتراضات سامنے آئے۔ جو شکایات موصول ہوئیں وہ مقرر ہ مدت120دن میں دور کر دی گئیں۔2002 کے انتخابات اس دور کے حالات کے تناظر میں ایک چیلنج تھے،جس میں اللہ تعالی نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو سرخرو کیا جس پر میں ہمیشہ اللہ کریم کا شکر گزار رہا ہوں۔