افغان امن معاہدہ! تحفظات و مضمرات!

March 18, 2020 2:28 pm

مصنف -

شوکت علی شاہ
یہ بات پہلے بھی کئی بار لکھی جا چکی ہے کہ جو لوگ تاریخ سے سبق نہیں سیکھتے تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کرتی۔ کچھ یوں گمان ہوتا ہے کہ ایک بہت بڑی طاقت ہونے کے باوصف امریکہ نے کچھ نہیں سیکھا، جبھی تو بار بار رسوائی اور ہزیمت سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ یہ درست ہے کہ دوسری جنگ عظیم میں اس کا پلڑا بھاری تھا لیکن اس میں یہ اکیلا نہ تھا۔ تمام دنیا دو ملکوں کے خلاف برسرِ پیکار تھی۔ اگر بنظرِغائر دیکھا جائے تو جرمنی اورجاپان اپنی شکست کے خود ذمہ دار تھے۔ اگر ہٹلر تھوڑی سی بھی سوجھ بوجھ اور حکمتِ عملی سے کام لیتا تو آج دنیا کی تاریخ کسی اور ڈھنگ سے لکھی جاتی۔ جیمز بانڈ کی طرح چومکھی صرف فلموں میں لڑی جاتی ہے وہ تو سومکھی لڑ رہا تھا۔ اگر وقفے وقفے سے ایک ایک کر کے یدھ کرتا تو برطانیہ کا کانٹا بھی اس کے حلق سے نکل جانا تھا۔ امریکہ کی جنگ میں شمولیت کی نوبت ہی نہ آتی۔ امریکہ سے پہلے ہی اس نے ایٹم بم بھی بنا لینا تھا۔ چند برسوں کی بات تھی۔ یہ جرمن یہودی سائنس دان تھے جو جان بچا کر امریکہ دوڑ گئے تھے۔ فتح کے شادیانے ابھی پوری طرح تھمنے بھی نہ پائے تھے کہ امریکہ کو احساس ہوا کہ ہرجنگ جیتنی مشکل ہوتی ہے۔ کوریا میں اسکے قدم روک دئیے گئے۔ جنرل لِن پیائو جب ٹڈی دل فوج کے ساتھ پہاڑسے نیچے اترا تو پیسیفک کمانڈ کے جنرل ڈگلس میک آرتھرکو پسینہ آ گیا۔ نتیجتا صلح کرنا پڑی اور کوریا دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔دوسری غلطی ویت نام میں کی۔ فرانس کو بیئن ۔ ڈمیئن ۔ فو میں جو ذلت آمیز شکست ہوئی اس سے بھی امریکہ بہادر نے کچھ سبق نہ سیکھا۔ بموں کی برسات بھی ویت نامی قوم کا عزم متزلزل نہ کر سکی اور ہوچی مِن کی فوجوں نے اسے پسپا ہونے پر مجبور کردیا۔ آخری غلطی افغانستان میں ہوئی۔ یہاں بھی تاریخ آئینے کی طرح ا کے سامنے تھی۔ برطانوی فوج کو افغانوں نے مکمل تباہ کر دیا تھا۔ صرف ایک ڈاکٹر جان بچا کر واپس آیا ۔ روس بھی سوپر پاور تھا اس نے افغانستان پر قبضہ جمانے کی کوشش کی اسے فتح کیا نصیب ہونی تھی خود ہی شکست و ریخت کا شکار ہو گیا۔ یہ درست ہے کہ 9/11 کے واقعہ کے بعد افغانستان کیخلاف کارروائی ضروری ہو گئی تھی۔ اتنا بڑا سانحہ امریکی تاریخ میں پہلے کبھی نہ ہوا تھا۔ گو افغانستان اس میں براہ راست ملوث نہ تھا لیکن اس نے ماسٹر مائنڈ اسامہ بن لادن کو پناہ دے رکھی تھی۔ بش کا مطالبہ تھاکہ اسے یا تو امریکہ کے حوالے کر دیا جائے یا پھر افغانستان سے نکال دیا جائے۔ پہلی بات ماننا تو مشکل تھی افغان روایات اس کی اجازت نہ دیتی تھیں۔ دوسری نسبتا آسان تھی۔ وہ کسی دوسرے ملک میں چلا جاتا۔ یہاں ملا عمر سے بھی غلطی ہوئی۔ وہ نہ تو اس کو بچا سکا اور نہ ہی اس کی حکومت قائم رہی۔ امریکہ یہ کام بغیر فوجیں بھیجے بھی کر سکتا تھا۔ 18 سال کی بے نتیجہ جنگ کے بعد اب امریکہ کو احساس ہوا ہے کہ جنگ مکمل طور پر جیتی نہیں جا سکتی۔ نتیجتا امن معاہدہ ہوا ہے۔ اس معاہدے کی مختلف تاویلیں نکالی جا رہی ہیں۔ کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ امریکہ کو شکست ہوئی ہے۔ یہ تجزیہ اس مفروضے پر قائم کیا گیا ہے کہ حملہ آور اگر اپنے مقاصد میں مکمل طور پر کامیاب نہ ہو سکے تو وہ اس کی ناکامی متصور ہوتی ہے۔ بالفرض یہ تجزیہ درست مان لیا جائے تو بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ کے مقاصد کیا تھے؟ (i )بن لادن کو زندہ یا مردہ گرفتار کرنا (ii ) افغان حکومت کا خاتمہ (iii ) افغانستان میں اپنی مرضی کی حکومت قائم کرنا اور اس طرح وہاں رہ کر چین پر نگاہ رکھنا اور اسکی ناکہ بندی کرنا۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو پہلے دو مقاصد میں اسے کامیابی ہوئی ہے۔ اسامہ بن لادن کو امریکی کمانڈوز نے مار دیا ہے۔ ملا عمر کی حکومت ختم کر ڈالی ہے۔ وہ بیچارہ بھی روپوشی میں اللہ کو پیارا ہو گیا۔ تمام پہلے درجے کی افغان لیڈر شپ کو چن چن کر ڈرون حملوں کے ذریعے ہلاک کر دیا گیا ہے۔ البتہ کٹھ پتلی حکمران ٹھیک طرح سے اپنا تسلط قائم نہیں رکھ سکے۔ پہلے حامد کرزئی کو صدر بنایا گیا اور اب اشرف غنی کو صدر منتخب کرانے کا ڈھونگ رچایا گیا ہے۔ حیران کن بات ہے کہ جمہوریت کی داعی اور علمبردار حکومتیں اپنے عزائم کی تکمیل کے لئے اس قسم کا کھلواڑ کر سکتی ہیں۔ چھوٹا سا ملک ، گنتی کے ووٹر ، پھر بھی چھ ماہ تک الیکشن کے نتائج کا اعلان نہیں ہوتا۔ پھر اچانک خبر آتی ہے کہ اشرف غنی صدر منتخب ہو گیا ہے۔ اس کے مخالف امیدوار عبداللہ عبداللہ نے جس کا تعلق شمال سے ہے، نتائج ماننے سے یکسر انکارکر دیا ہے۔ یہ غالبا دنیا کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ دو صدور نے بیک وقت حلف اٹھایا ہو۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ امریکی فوجوں کے انخلا کے بعد یہ اپنے عہدے پر قائم رہ سکتے ہیں؟ اس کا جواب تلاش کرنے کیلئے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں ہے۔ روایت ہے کہ حضرت سلیمان (جو چرند و پرند کے بادشاہ تھے) کے پاس مچھروں نے شکایت کی کہ ہوا انہیں بہت تنگ کرتی ہے اس کو روکا جائے۔ حضرت سلیمان نے مدعی اور مدعا علیہ کو پیشی پر حاضر ہونے کا حکم دیا۔ پہلے مچھر آئے۔ پھر ہوا آئی۔ اس کی تاب نہ لا کر مچھر تتر بتر ہو گئے۔ اس طرح مقدمہ کا فیصلہ ہو گیا۔اشرف غنی کی طاقت کو اب مچھر سے تشبیہ دے سکتے ہیں یہ شخص طالبان کی یلغار ایک دن بھی برداشت نہیں کر سکتا۔ جس دن آخری امریکی فوجی افغانستان سے نکلے گا یہ حضرت بھی روپوش ہو جائیں گے۔ اشرف غنی کا انجام روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ اسکی آخری قیام گاہ امریکہ ہے۔ اس حیاتِ ناپائیدار کے بقیہ دن اس نے وہیں گزارنے ہیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اسے امریکہ بہادر ہی طالبان کو خوش کرنے کیلئے دیس نکالا دے دے۔ شاہ ایران کا انجام سب کو معلوم ہے۔ امریکہ کا چہیتا تھا لیکن اس پر دھرتی تنگ ہو گئی۔ ڈپلومیسی میں اخلاقیات کا عمل دخل نہیں ہوتا۔ افغان فوج بھی ٹوٹ جائے گی۔ (Mass Desertions) جس کے سینگ جہاں سمائیں گے وہاں چلا جائے گا۔
ایک بات مسلمہ ہے، امریکہ پھر کبھی بھی ، کسی صورت میں بھی واپس افغانستان نہیں آئے گا۔ دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے۔ البتہ اس بات کا امکان ہے کہ طالبان کسی امریکہ مخالف دشمن کو پناہ نہیں دینگے۔ امریکہ کے خلاف کوئی بڑی کارروائی بھی نہیں کرینگے! وجہ؟ انکی حکومت کو مالی مشکلات پیش آئیں گی۔ تباہ حال ملک کی معیشت کو بحال کرنا کاردارد ہو گا۔ اس کے لیے انہیں امریکی امداد کی ضرورت ہو گی جو بہرحال انہیں ایک تسلسل اور تواتر کے ساتھ ملتی رہے گی۔ امریکہ کو بھی احساس ہو گا کہ جو کام پانچ فیصد رقم میں ہو سکتا ہے اس کیلئے وہ سو فیصد خواہ مخواہ خرچ کرتا رہا ہے۔ اس وقت اشرف غنی جو بڑھکیں ہانک رہا ہے کہ وہ افغان قیدی رہا نہیں کرے گا ، اس کی کوئی وقعت یا اہمیت نہیں ہے۔ یہ شخص دریوزہ گر آتش بیگانہ ہے۔ پرائی آگ زیادہ دیر تک نہیںتاپی جا سکتی۔
البتہ ایک بات کا اندیشہ ہے! وہ یہ ہے کہ طالبان کے اپنے اندر اقتدار کی جنگ شروع نہ ہو جائے۔ وار لارڈز اپنا حصہ مانگیں گے۔ عبداللہ عبداللہ اور رشید دوستم کو کیسے رام کیا جا سکے گا۔ اب تک شہریوں کو جو آزادیاں ملی ہیں ان کا کیا بنے گا؟ بالخصوص عورتوں کا مستقبل تاریک ہو جائیگا۔ حقوقِ نسواں کے علمبرداروں پر دھرتی تنگ ہو جائیگی۔ ایک طویل اور خونریز جنگ! اسکے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہونگے۔ لہذا حکومت کو بڑی سوچ بچار اور فہم کے ساتھ چلنا ہو گا۔ متحارب گروہوں میں سے کسی کا ساتھ دینا ہے کس کا نہیں دینا! سب سے بڑامسئلہ توازن قائم کرنا ہوتا ہے۔ البتہ ایک بات روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ ہندوستان کی ریشہ دوانیاں کم ہو جائیں گی۔ چور چوری سے جائے ، ہیرا پھیری سے نہ جائے یہ مقدور بھر کوشش کریگا لیکن سوائے ذلت اور رسوائی کے کچھ حاصل نہ ہو گا۔ اسکی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری رائیگاں جائیگی۔ اشر ف غنی کی ایجنسیوں اور R.A.W کے روابط ختم ہو جائیں گے! طالبان ہندوازم اور اسلامی فلسفے کا فرق جانتے ہیں۔ انہیں اس بات کا بھی ادراک ہے کہ افغانستان کی خوشحالی کا ہر راستہ پاکستان سے ہو کر گزرتا ہے۔ ہمیں ایک روشن مستقبل کی امید رکھنی چاہئے!