کرپشن اور گھبرانانہیں کا بیانیہ

January 28, 2020 3:54 pm

مصنف -

بادشاہ خان
قارئین ایک بات تو ماننے والی ہے کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان اپنے دو بیانیوں پر ڈٹ کر کھڑے ہیں ، کرپشن کا خاتمہ اور گھبرانا نہیں ،ڈٹ کر کھڑا ہے کپتان،لیکن بیانات کی حد تک ،حقیقت کیا ہے ،اب اس کے بارے میں عالمی ادارے بھی سوال اٹھا رہے ہیں،اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ عالمی ادارے کی رپورٹ سو فیصد درست ہو،اس میں بھی غلطیاں ہوسکتی ہیں ، جانب داری ہوسکتی ہے ، پرانی رپورٹ ہوسکتی ہے، ایسی اطلاعات سامنے آرہی ہیں ،کہ یہ مسلم لیگ ن کے دور حکومت کی ہے ،اسے بہت کچھ اس کے پس منظر میں ہے ، اور ہوسکتا ہے ،ایک بات واضح ہے کہ عالمی ادارے نے اسے دوہزار انیس کی رپورٹ کہا ہے ،اور شائع کیا ہے ،اور دوسری جانب پی ٹی آئی حکومت کے دعوے اور نااہلی کی انتہاء ہوگئی ہے ، کرپشن کی روک تھام میں پی ٹی آئی کی حکومت مکمل ناکام ہوگئی ہے ، جن پر کرپشن کے الزامات تھے ،ان کی رہائیاں جاری ہیں ، حکومت اسے عدالت پر نہیں ڈال سکتی ، پی ٹی آئی کی حکومت کرپشن کے روک تھام کے حوالے سے نئے قوانین بھی نہ لاسکی ،اب تو گھبرانا نہیں کہ اعلان کے بعد پھر کسی نئے بحران کا خدشہ دل میں اٹھنے لگتا ہے ،عالمی ادارے کی رپورٹ اور وزیراعظم عمران خان کا ڈیوس میں خطاب سامنے پڑھا ہوا ہے ،ایک جانب عالمی اداریٹرانس پیرنسی انٹرنیشنل کی جاری کردہ 2019ء کی کرپشن پرسیپشن انڈیکس (سی پی آئی) کی عالمی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 2018ء کے مقابلے میں 2019ء میں کرپشن میں اضافہ ہوا ہے۔
2019ء کی فہرست میں 32واں نمبر حاصل کرکے پاکستان نہ صرف 2018ء میں حاصل کردہ 33 نمبرز میں سے ایک نمبر نیچے گرا بلکہ عالمی رینکنگ میں بھی سابقہ 117ویں نمبر سے گر کر 180 ممالک کی فہرست میں 120ویں نمبر پر آ گیا ہے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ پاکستان جو پہلے دنیا کا 63واں کرپٹ ترین ملک تھا وہ اب 60واں کرپٹ ترین ملک ہے۔لیکن جو بات سب سے زیادہ پریشان کن ہے وہ یہ ہے کہ 2010ء کے بعد سے یہ پہلی مرتبہ ہے کہ پاکستان رینکنگ میں نیچے گرا ہے۔ گزشتہ دس سال کے دوران پاکستان کرپشن کیخلاف اپنی پوزیشن بہتر کر رہا تھا لیکن 2019ء یعنی عمران خان حکومت کا مسلسل ایک سال پہلے کے مقابلے میں زیادہ کرپٹ ثابت ہونے کی وجہ سے زیادہ مایوس کن ثابت ہوا۔سی پی آئی 2019ء رپورٹ مرتب کرنے کیلئے 13 سروے ذرائع کا سہارا لیا گیا جن میں سے پاکستان کا جائزہ لینے کیلئے8 سرویز پر غور کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان 8 میں سے 5 ذرائع سے پاکستان کا جائزہ لیا گیا تو ان کے منفی نتائج سامنے آئے۔پاکستان کا منفی جائزہ پیش کرنے والوں میں درج ذیل اداروںکے سروے شامل ہیں:… ورلڈ اکنامک فورم کا ایگزیکٹو اوپینئن سروے 2019، ورلڈ جسٹس پروجیکٹ رول آف لاء انڈیکس ایکسپرٹ سروے 2019ئ، ویرائٹیز آف ڈیموکریسی (وی ڈیم) 2019، برٹیلسمن فائونڈیشن ٹرانسفارمیشن انڈیکس، اور گلوبل انسائٹ کنٹری رسک ریٹنگز۔ان پانچ ذرائع کی جانب سے سروے میں پوچھے گئے سوالات سرکاری افسران، عدلیہ، فوجیوں، سیاست دانوں کی کرپشن کے متعلق ہیں اور ساتھ ہی اس بارے میں بھی ہیں کہ آیا ان کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی کی گئی یا نہیں۔ذرائع کے مطابق، پانچ سروے ذرائع سے حاصل ہونے والی پاکستان کیلئے منفی اسکورنگ سے معلوم ہوتا ہے کہ کاروبار میں سرمایہ کاری کا فقدان ہے۔قانون کی بالادستی نہیں ہے، لوگوں کے ذہنوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ عدالتی اقدامات ”یہ ہونا چاہئے” اور ”یہ نہیں ہونا چاہئے” کے حوالے سے امتیازی ہیں، اور ساتھ ہی مفادات کے تضاد کے معاملے کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ درج ذیل پانچ اداروں نے 2019ء کیلئے پاکستان کی منفی رپورٹ پیش کی ،(اول) درآمدات اور برآمدات، (دوم) پبلک یوٹیلیٹیز، (سوم) سالانہ ٹیکس ادائیگیاں، (چہارم) سرکاری ٹھیکے اور لائسنس دیے جانے کا عمل، (پنجم) من پسند عدالتی فیصلوں کا حصول۔ان وجوہات کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان میں کرپشن میں اضافہ قرار دیا ہے۔دوسری جانب ڈیوس میں خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر نہ گھبرانے کا ورد کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے تحریک انصاف کی حکومت کو شفاف ترین قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ وہ تنقید سے گھبرانے والے نہیں اورنہ ہی اپنے نظریہ پر سمجھوتہ کریں گے۔حکومت کو گزشتہ ڈیڑھ سال سے میڈیا کی شدیدتنقید کا سامنا ہے اس لئے میں لوگوں کو کہتا ہوں کہ وہ اخبار نہ پڑھیں اور شام کو ٹی وی ٹاک شوز ہرگز نہ دیکھیں’سب ٹھیک ہوجائے گا۔ہمارے لئے سب سے بڑاچیلنج کرپشن اور کرپٹ مافیا ہے۔کرپٹ اسٹیٹس کو پاکستان کا بہت بڑا مسئلہ ہے’ ہماری حکومت نے کرپٹ عناصر کا محاسبہ کیا جن میں سے کچھ اب جیل میں ہیں’ڈیڑھ سال ہم نے بڑی مشکلات کا سامنا کیا’ ہماری حکومت کے لئے بڑا چیلنج ماضی کی حکومتوں کی طرف سے لیا گیا قرضوں کا انبار اور گردشی قرضہ تھا’سب سے سستا دورہ میرا ہو گا۔ وزیراعظم کا کہناتھاکہ پاکستان میں کرپٹ عناصر نے 30 سال حکومت کی۔ ہمارا بڑا چیلنج ان لوگوں کا مقابلہ کرنا ہے جو نہیں چاہتے کہ حکومت کامیاب ہو کیونکہ انہیں ڈر ہے کہ اگر ہم کامیاب ہو گئے تو وہ اقتدار سے باہر اور جیلوں میں ہوں گے جن میں سے اب کچھ جیلوں میں بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کرپٹ عناصر ریاستی اداروں کو تباہ کردیتے ہیں۔ اس وقت میڈیا کے بارے میں وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بھی اعتراض اٹھ چکا ہے ،اس بات سے انکار نہیں کہ میڈیا میں موجود چند کالی بھیڑیں اسے بدنام کررہی ہیں ،اور سب سے زیادہ ذمہ داری بھی میڈیاکی ہے کہ وہ حقائق کو عوام کے سامنے رکھ دے۔ایک جانب وہ کرپٹ لوگ ہیں جو کرپشن کے نام پر اپنی سیاست چمکانے میں مصروف ِ عمل ہیں دوسری جانب مفاد پرستوں نے میڈیا کی تصویر مسخ کر کے رکھ دی ہے یہی وجہ ہے کہ دن رات خصوصاً الیکٹرانک میڈیا خاص نظریہ و مقصد سے وابستہ افراد کے کوریج میں مصروفِ عمل ہے۔نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ میڈیا میں فاشسٹ اور لبرل منفی سوچ رکھنے والوں کی تعداد بڑھتی ہی جا رہی ہے یا دوسرے لفظوں میں سچائی کے علمبرداورں کو یہ لوگ خریدنے میں بہت تیزی کے ساتھ کامیاب ہوتے نظر آ رہے ہیں۔توجہ طلب بات کہ جب حقیقت کی عکاسی کرنے والوں کے بازار لگے ہوں اور ان کی خرید و فروخت جاری ہو تو کیسے ممکن ہے کہ وہ جو میڈیا میں پیش کریں، اس میں جانب دارانہ رویہ وہ اختیار نہ کرتے ہوں گے؟پھر یہ بھی کہ جانب داری چاہے وہ کسی بھی قسم کی ہو ایک برائی ہے جو انسان کو سچ کہنے ،لکھنے اور بیان کرنے سے روک دیتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج میڈیا کی بیان کی جانے والی رپورٹوں میں جانب داری کی بو محسوس کی جاتی ہے اور یہ طرز عمل خود کرپشن کے دائرے میں آتا ہے، لیکن سوال وہی ہے کہ کرپٹ سیاست دان اور بیورو کریٹ بری کیوںہورہے ہیں ،؟ کیا ان کی رہائی میں پی ٹی آئی کی حکومت ملوث نہیں ؟ کیا یہ نظام انہیں بری کررہا ہے ؟ کیا یہ نظام کرپٹ تو نہیں ہوچکا؟ سوال کرپشن کے بڑنے اور گھبرانے دونوں کا ہے ، کیونکہ کرپشن تو کم نہیں ہوئی مگر مہنگائی بے روزگاری نے عوام ،تاجروں سمیت معاشرے کے ہر طبقے کی چیخیں نکال دی ہیں ۔۔