ارباب اختیار کی نااہلیوں کے اسباب

January 28, 2020 3:46 pm

مصنف -

محمد اکرم خالد

5فروری یوم کشمیر پاکستان نے بھر پور انداز سے منانے کا اعلان کیا ہے اس دن پاکستانی عوام اپنے کشمیری بہن بھائیوں سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں یقینا یوم کشمیر کا انعقاد پاکستان میں کوئی پہلی بار نہیں کیا جارہا بلکہ ہر سال ہم اس ہی لکیر کو پیٹ کرکشمیریوں کے زخم پر نمک پاشی کرتے ہیں اور بھارت کو یہ پیغام دینے کی جرات کرتے ہیں کہ ہم کشمیر کے ساتھ کھڑے ہیں یقینا پاکستانی قوم تو کشمیری عوام کے ساتھ کھڑی ہے مگر بد قسمتی سے ہمارے ارباب اختیار کشمیر ی عوام کے ساتھ کھڑے نظر نہیں آتے البتہ ماضی اور موجود حکومت امریکا برطانیہ سعودیہ اور چین کے ساتھ یقینا کھڑا ہونے کی جدوجہد میں مصروف نظر آئی ہیں پانچ اگست 2019 سے کشمیر میں بھارتی سرکار کی جانب سے کرفیو لگا کر مظلوم کشمیریوں پر زندگی کی سانسیں تنگ کر دی گئی ہیں معصوم بچے بھوک سے بزرگ افراد خوراک دوائیوں کی قلت سے زندگی کی بازی ہار رہے ہیں دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیمں طاقتور یورپی ممالک اور بد قسمتی سے کئی ہمارے اسلامی ممالک جن میں سعودی عرب بھی شامل ہے بھارت کے اس ظلم وستم پر تماشائی بنے ہوئے ہیں ساتھ ہی مودی سرکار کے متنازع شہریت کے قانون سے بھارت میں برسوں سے مقیم ٢٠ کروڑ سے زائد مسلمان بھی اس وقت مودی سرکار کے ظلم وستم کا نشانہ بنے ہوئے ہیں
جنرل اسمبلی کی ٢٧ ستمبر کی وزیر اعظم عمران خان کی وہ تقریر جس کو بڑی پذیراہی ملی وہ تقریر اب بے معنی ہوچکی ہے ہم نے اُس وقت بھی کہا تھا کہ یقینا خان صاحب کی تقریر نہایت مناسب تھی مگر پاکستان کی حکومت بھارت کو کوئی واضح پیغام دینے میں اُس وقت ناکام ثابت ہوئی تھی اقوام متحدہ کی اُس تقریر کو چار ماہ ہوچکے ہیں نہ ہی یہ تقریر چھ ماہ سے لگے کرفیو کا خاتمہ کر سکی ہے اور نہ ہی ظلم و ستم کی تلوار کو روک سکی ہے اور نہ ہی یہ تقریر بھارت کے ایوانوں میں ہلچل مچا سکی ہے اور نہ ہی دنیا کی عالمی طا قتوں پر اس کا کوئی اثر ہوا ہے بلکہ اس تقریر کے بعد جہاں کشمیریوں کے ظلم و ستم میں اضافہ ہوا ہے ساتھ ہی شہریت کے متنازع بل نے بھارت میں بسنے والے مسلمانوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ساتھ ہی عالمی طاقت امریکا ہمارے ہمسایہ اسلامی ملک ایران کو اپنی درندگی کا ہدف بنانے کے درپے ہے جس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ امریکا سمیت تمام یورپ ممالک اور چند مفاد پرست اسلامی ممالک عالم اسلام کے خاتمے کی سازش میں ہر وقت مصروف ہیں جن کا ایک منظم مقصد مسلمانوں کو اور اسلام کو نقصان پہنچانا ہے ۔
برسوں سے پاکستان مسئلہ کشمیر کو سنجیدہ لیتا دیکھائی نہیں دیا ہے کشمیر ہماری شہ رگ ہے کا راگ ہم برسوں سے الاپ رہے ہیں اور مسلسل کشمیر میں ظلم وستم بڑھتا چلا جارہا ہے ہمارے ارباب اختیار کشمیری کمیٹی بنا کر یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ کشمیری ہماری جیب میں ہے اور بھارتی سرکار کشمیر ہم کو پلیٹ میں رکھ کر پیش کر دے گاجہاں ہمارے سیاستدان پاکستان کے بنیادی مسائل اور پاکستانی قوم کے بنیادی حقوق دینے میں ٧٢ برس سے اس قوم کو جھوٹی تسلیاں جھوٹے وعدے بڑے بڑے دعوی ریاست مدینہ کی طرز کا پاکستان بنانے کا سپنا دیکھا کر اقتدار کی کرسی پر براجمان ہوتے رہے ہیں ایسی طرح یہ حکمران کشمیر پر بھی اپنا واضح موقف نہیں رکھتے یہ حقیقت جانتے ہوئے بھی کہ کشمیر مذاکرات سے کسی صورت حاصل نہیں ہوسکتا کشمیر پر بھارت کا بے بنیاد جھوٹا موقف مضبوط ہوتا چلا جارہا ہے دنیا کی عالمی طاقتیں بھارت کی پس پردہ مکمل حمایت رکھتی ہیں برسوں سے بھات اپنے بجٹ کا ایک بڑا حصہ کشمیر میں ہونے والے ظلم و ستم پر خرچ کر رہا ہے بھارت میں چھوٹے بڑے غیر قانی ہتھیار بنانے کے کار خانے دن بدن مضبوط ہوتے جار ہے ہیں بھارت امریکا برطانیہ روس اسرائیل سے ایٹمی ہتھیاروں کی خریدوفروخت میں اپنے بجٹ کا ایک بڑاحصہ جنوبی ایشیا ء کے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے کے لئے خرچ کر رہا ہے اور عالمی طاقتیں اس کی حوصلہ افزائی کر رہی ہیں سعودی عرب اور چین بھارت کے ساتھ معاشی تعلقات کی بہتری میں بھارت کے ساتھ کھڑے ہیں چین اپنے معاشی فائدے کے لئے پاکستان کا رسمی ساتھ دیتا رہا ہے یہاں تک کے افغانستان بھی بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات کو اہمیت دیتا ہے ہم ہر سطح پر تنہائی کا شکار ہیں ۔
دراصل ماضی کی حکومتیں نہ ہی پاکستان کے داخلی معاملات پر سنجیدہ رہی ہیں اور نہ ہی ہم خارجی سطح پر اپنے تعلقات کو بہتر کر سکے بد قسمتی سے پاکستان کے حکمران ذاتی مفادات کے حصول کا شکار ر ہے ہیں ہر دور میں ہمارے حکمران برائے فروخت رہے ہیں جس کی وجہ سے نہ صرف پاکستان کو خارجی دفاعی معاشی سیاسی نقصان کا سامنا رہا ہے بلکہ اس رویے نے مسئلہ کشمیر کو بھی بڑا نقصان پہنچایا ہے آج بھارت جموں کشمیر سے آگے کی طرف پیش قدمی کرنے کو تیار ہورہا ہے آزاد کشمیر سمیت بھارت پاکستان کو اپنا ہدف بنانے کے لئے ہر سطح پر اپنے تعلقات کو بہتر بنانے اور پاکستان کو نیچا دیکھانے کی سازش میں مصروف ہے ۔جبکہ ہمارے حکمران پانچ فروری کو یوم کشمیر پر اظہار یکجہتی کی قوم کو دعوت دینے اور دنیا کو بھارت کا بد نماچہرہ دیکھنے کی کوشش سے آگے بڑھنے کی ہمت جرات سے قاصر نظر آرہے ہیں کشمیر جو ہماری شہ رگ ہے جس کو ہم بھارت سمیت دنیا سے بھیک کی صورت میں مانگتے دیکھائی دے رہے ہیں یہ جان کر سمجھ کر بھی کے بھارت کبھی بھی امن کی زبان کو سمجھنے سے قاصر رہا ہے جو قومیں سچ کو پس پشت ڈال کر آگے بڑھنے کی جدوجہد کرتی ہیں وہ سچ نہ مانے کی بڑی قیمت ادا کرتی ہیں لہذا ہمارے ارباب اختیار کو اس تلخ سچ کا سامنا اب کر لینا چاہے کہ پاکستان کی لاکھوں قربانیوں نرم رویے اور معصوم بے گناہ کشمیریوں کا بہتا خون کشمیر اور بھارت میں بسنے والے مسلمانوں پر بھارت کا ظلم وستم بھارت کی ہٹ دھرمی کبھی بھی پاکستان اور بھارت کے تعلقات کو بہتری کی جانب نہیں گامزن کر سکتی مسئلہ کشمیر ہو یا پانی کی قلت کا بحران کو بھارت سے نرمی پاکستان کو بڑے نقصان کی جانب دھکیل سکتی ہے ۔لہذا ہمارے ارباب اختیار معزز اداروں کو اب یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ اب بھارت کے ساتھ سختی کی زبان اپنانی ہوگی یہ حقیقت ہے کہ بھارت جنگ کی حد تک جانے کی جرات نہیں رکھتا مگر سازش بڑے بڑے طاقتوروں کو مٹی میں میلادیتی ہے پاکستان کو اب کشمیر ڈے یوم کشمیر سے آگے بڑھ کر کشمیریوں کو اپنی یکجہتی دیکھنا ہوگی دنیا پر یہ ثابت کرنا ہوگا کہ کشمیر ہماری حقیقی شہ رگ ہے جیسے ہم دنیا کی بھک سے نہیں اپنی طاقت جرات سے حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں کشمیر پر بھارت جو ڈرامے بازی کر رہا ہے پاکستان کو بھی اب ڈرامے بازی سے نکل کر مئوثر اقدامات کرنے ہونگی ایسا نہ ہوکر ٢٧ ستمبر کی تقریر کے بعد وزیر اعظم ٥ فروری کو بھی ایک جذباتی تقریر کر کے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کا فرض ادا کر کے کشمیریوں اور بھارتی مسلمانوں کو بھارت کے ظلم وستم پر چھوڑ کر اپنے اقتدار کو محفوظ رکھنے کی جدوجہد میں مصروف ہوجائیں اگر ایسا ہوتا رہا تو کشمیریوں کا بہتا خون تو ایک دن آزادی کا رنگ لے آئے گا مگر شاید کشمیر پاکستان کے ساتھ کھڑا نہ ہو ۔۔۔۔۔۔