کرونا وائرس کا پاکستان میں خطرہ

January 28, 2020 3:40 pm

مصنف -

شہریار شوکت

چین میں کرونا وائرس کے انسانی حملے کے بعد دنیا بھر میں بے یقینی کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ یہ وائرس انسانی سانس کے نظام پر حملہ آور ہوکر ہلاکت کی وجہ بن سکتا ہے اور اب تک دو درجن سے زائد افراد اس کے ہاتھوں لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ابتدا میں جس طرح ڈینگی لوگوں کیلئے خوف کی ایک علامت بنا تھا اس وقت کرونا وائرس نے لوگوں پر اپنی دہشت طاری کر رکھی ہے۔چین نے پراسرار وائرس پر قابو پانے کے لیے وہان سمیت 12 قریبی شہروں میں ٹرانسپورٹ اور عوامی مقامات کو بند کر دیا ہے، 4 کروڑ 10 لاکھ افراد کو 14 دنوں کے لیے اپنے گھروں میں رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔ شہریوں کو جھیلوں، دریاؤں اور نہروں پر جانے سے روک دیا گیا ہے۔امریکی حکام کے مطابق مشتبہ وائرس سے متعلق 50 مریضوں کے ٹیسٹ کئے جا رہے ہیں۔ برطانیہ میں کرونا وائرس کے شبے میں 14 مریضوں کو کلیئر قرار دے دیا ہیجبکہ ملتان میں بھی ایک چینی باشندے کو کرونا وائرس کے شبے میں اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
اس جراثیم کے نمونیجن مریضوں سے حاصل کیے گئے ہیں اور ان کا لیبارٹری میں جائزہ لیا جا رہا ہے۔ چین میں حکام اور عالمی ادارہ صحت اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ وائرس زکام سے پیدا ہونے والی وبا ہے۔جو سانس کی نالی پر اثر انداز ہوتا ہے۔کرونا وائرس وائرس کی ایک قسم ہے یا یوں کہیں کہ وائرس کا ایک مکمل خاندان ہے لیکن اس قسم کے وائرس میں صرف چھ ایسے ہیں جو کہ انسان کو متاثر کرتے ہیں۔نیا کرونا وائرس ساتویں ایسی قسم ہوسکتی ہے جو انسانی زندگی پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔چین میں سنہ2002 میں نظام تنفس کو شدید متاثر کرنے والی بیماری (سارس) جو کہ کروناوائرس کی وجہ سے پھوٹی تھی اس میں 8098 متاثرہ افراد میں سے 774 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔کرونا وائرس نزلے کی علامت سے شروع ہو کر مریض کی ہلاکت کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔
کسی بھی وائرس کے بارے میں جب تحقیق کی جائے تو اہم سوال یہ ہوتا ہے کہ یہ وائرس کہاں سے آیا۔واضح رہے کہ زیادہ وائرس جانوروں میں پائے جاتے ہیں لیکن ان کے متعلق معلومات تب حاصل ہوتی ہے جب یہ انسانوں میں منتقل ہوں۔ایڈز افریکا کہ جنگلات میں موجود بندروں کی ایک بیماری تھی لیکن جب یہ انسانوں میں منتقل ہوئی اس کے متعلق تحقیق کا آغاز اس وقت کیا گیا۔کرونا وائرس کے بارے میں بھی گمان یہی ہے کہ یہ جانوروں میں پائے جانے والے ایک وائرس ہے جو انسانوں میں منتقل ہوا ہے۔ایک بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق موجودہ کیسز کا تعلق ساؤتھ چائنہ سی فوڈ ہول سیل مارکیٹ سے پایا گیا ہے۔اس مارکیٹ میں جہاں سمندری جانور فروخت کئے جاتے ہیں وہیں اس مارکیٹ میں مرغیاں،چمگاڈر اور خرگوش بھی بڑی تعداد میں رکھے جاتے ہیں،طبعی ماہرین کا کہنا ہے کہ امکانات یہی ہیں کہ وائرس انہیں جانوروں میں سے کسی سے انسان میں منتقل ہوا ہے۔چین ایک گنجان آبادی والا ملک ہے اور وہاں اس قسم کے جانور خوراک کے طور پر استعمال کئے جاتے ہیں اور ایسا بھی ممکن ہے کہ کسی انسان کی ان جانوروں میں سے کسی سے سے قربت نے اسے اس وائرس کا شکار بنایا ہو۔
اس وائرس کے انسانوں سے انسانوں میں پھیلنے کے متعلق ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا لیکن پھیپھڑوں کو متاثر کرنے والی یہ وبا چھینکوں اور کھانسی سے پھیلتے ہیں۔چین میں جن لوگوں میں اس وائرس کی تشخیص ہوئی ہے ان افراد نے بد ہضمی، سردی لگنے، بخاراور کھانسی کی شکایت کی ہے۔ جن مریضوں پر حملہ شدید ہوا انہوں نے سانس لینے میں دقت بیان کی ہے۔ صحت کے عالمی اداروں کے مطابق وائرس سے متاثر ہونے کے دو روز سے دو ہفتے کے دوران اس کی ظاہری علامات سامنے آتی ہیں۔ اس کے بعد ضروری ہے کہ مریض کو الگ تھلگ رکھا جائے۔
ماضی میں بھی مختلف ممالک سے پھوٹنے والی وبا نے پاکستان کے لوگوں کو بھی متاثر کیا۔اس بیمارے کے متعلق بھی سوال ذہن میں آسکتا ہے کہ کیا یہ وائرس پاکستان میں بھی موجود ہوسکتا ہے یا پھر یہ کہہ لیں کہ کیا یہ وبا پاکستان میں بھی پھوٹ سکتی ہے تو واضح رہے کہ آغاز میں ہی ذکر کردیا گیا کہ ملتان میں ایک چینی باشندے کو کرونا وائرس کے شبے میں اسپتال منتقل کردیا گیا لہذا بالکل ایسا ممکن ہے کہ یہ بیماری پاکستانیوں کو بھی متاثر کرے۔ واضح رہے کہ چینی شہر ووہان کا یہ وائرس پہلے دیگر شہروں میں پھیلا ہے۔ اس کے بعد جاپان، تھائی لینڈ، سنگاپور اور امریکا میں اس کی تصدیق ہوچکی ہے۔ پوری دنیا کے ہوائی اڈوں پر چینی مسافروں کی اسکیننگ کی جارہی ہے۔ ایک مریض برطانیہ میں بھی سامنے آیا ہے لیکن عالمی ادارے نے اس کی تصدیق نہیں کی۔پاکستانی ہوائی اڈوں پر بھی اسکیننگ کے انتظامات کیے گئے ہیں۔ بڑی تعداد میں چینی ماہرین سی پیک اور دیگر منصوبوں کے لیے پاکستان آتے رہتے ہیں۔ اس ضمن میں ان کی کڑی نگرانی اور اسکیننگ کی ضرورت ہے۔ صرف چین میں ہی ایک شخص سے کئی افراد متاثر ہونے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔
وزیرِ مملکت برائے صحت ظفرمرزا نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کے پاس کرونا وائرس کی شناخت اور اسکریننگ کے مناسب انتظامات موجود نہیں۔ اس صورتحال میں پاکستان کو مزید چوکنا ہونے کی ضرورت ہے۔عالمی ادارہ صحت نے کرونا وائرس سے بچاؤ کیلئے ہدایات و تدابیر جاری جاری کردی ہیں،ان تدابیر پر عمل کرنا لازمی ہے تاکہ اس وائرس سے بچا جاسکے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس وائرس سے بچاؤ کیلئے بار بار اچھے صابن سے ہاتھ دھویا جائے۔ سردی اور زکام کے مریضوں سے دور رہیں۔ کھانستے اور چھینکتے وقت منہ اور ناک ڈھانپیں۔اس سلسلہ میں ٹشو پیپر کا استعمال کیا جائے اور استعمال کے فورا بعد اسے پھینک دیا جائے۔زکام کھانسی اور بخار کے مریضوں سے جنسی تعقات سے گریز کیا جائے۔ پالتو جانوروں سے دور رہیں۔ کھانا پکانے سے قبل اور بعد میں ہاتھوں کو اچھی طرح دھوئیں۔ کھانا اچھی طرح پکائیں اور اسے کچا نہ رہنے دیا جائے۔ کسی کی بھی آنکھ، چہرے اور منہ کو چھونے سے گریز کیا جائے۔