عدلیہ نے اپنے تاریخی فیصلوں سے درحقیقت سول سپرمیسی کی بنیاد مستحکم کی ہے

January 1, 2020 3:43 pm

مصنف -

پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مسٹر جسٹس وقار احمد کی سربراہی میں قائم خصوصی عدالت نے مشرف غداری کیس کا فیصلہ صادر کرتے ہوئے سابق صدر مملکت اور سابق آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کو آئین کی دفعہ 6(1) کے تحت آئین پاکستان کو سبوتاژ کرنے کے جرم میں سزائے موت سنا دی۔ فاضل خصوصی عدالت کا یہ مختصر فیصلہ بنچ کے دو فاضل ججوں کی اکثریت کے تحت صادر کیا گیا جبکہ بنچ کے ایک فاضل رکن اور سندھ ہائیکورٹ کے جج جسٹس نذر محمداکبر نے اس فیصلے میں اپنا اختلافی نوٹ تحریر کیا۔ بنچ کے سربراہ جسٹس وقاراحمد نے فیصلہ پڑھ کر سنایا۔ جنرل مشرف کیلئے سزائے موت کا فیصلہ صادر کرنیوالے بنچ کے دوسرے رکن لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم ہیں۔ گزشتہ روز دوران سماعت فاضل بنچ کے روبرو استغاثہ اورصفائی دونوں جانب کے وکلا نے کیس کی سماعت میں التوا کی کوشش کی۔ استغاثہ کی جانب سے پراسیکیوٹر علی ضیا باجوہ ایڈووکیٹ نے فاضل عدالت میں تین الگ الگ درخواستیں دائر کیں جن میں استدعا کی گئی کہ حکومت سنگین غداری کیس میں مزید افراد بشمول سابق وزیراعظم شوکت عزیز سابق چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر اور سابق وزیر قانون زاہد حامد کو بطور ملزم نامزد کرنا چاہتی ہے اور انکے علاوہ مشرف کے سہولت کاروں اور ساتھیوں کو بھی اس کیس میں ملزم نامزد کرنا مقصود ہے جبکہ ان تمام ملزمان کا ایک ساتھ ٹرائل ہونا ضروری ہے۔ اس پر جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیئے کہ ساڑھے تین سال بعد ایسی درخواست آنے کا مطلب ہے کہ حکومت کی نیت ٹھیک نہیں۔ جسٹس نذر اکبر نے باور کرایا کہ اب تحقیقات اور شواہد کا مرحلہ گزرچکا آپ کی مزید افراد کو بطور ملزم نامزد کرنے کی درخواست درحقیقت مشرف کی ہی دائر کردہ درخواست کا تسلسل ہے جبکہ سپریم کورٹ مشرف کی درخواست مسترد کرچکی ہے۔ فاضل ججز نے باور کرایا کہ ترمیم شدہ چارج شیٹ دینے کیلئے آپ کو دو ہفتے کی مہلت دی گئی تھی اب عدالت کی اجازت کے بغیر فرد جرم میں ترمیم نہیں ہوسکتی۔ اگر اب مزید تین افراد کو ملزم بنایا گیا تو حکومت سابق کابینہ اور کورکمانڈرز کو بھی ملزم بنانے کی درخواست لے آئیگی۔ کیا حکومت مشرف کا ٹرائل تاخیر کا شکار کرنا چاہتی ہے۔ دوران سماعت جسٹس شاہد کریم نے استفسار کیا کہ سیکرٹری داخلہ کابینہ کی منظوری کے بغیر چارج شیٹ میں کیسے ترمیم کر سکتے ہیں۔ اس میں وفاقی حکومت اور کابینہ کی منظوری کہاں ہے جبکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت وفاقی حکومت کا مطلب کابینہ ہے۔ دوران سماعت جسٹس نذر اکبر نے پراسیکیوٹر علی ضیا باجوہ کو یہ بھی باور کرایا کہ آپ وہ بات کررہے ہیں جو ملزم کے دلائل ہونے چاہئیں۔ فاضل خصوصی عدالت نے استغاثہ کی پیش کردہ تینوں نئی درخواستوں کو ناقابل سماعت قرار دیکر چار سطور پر مشتمل اپنا مختصر فیصلہ صادر کر دیا اور مشرف کو 3نومبر 2007 کو آئین پامال کرنے کے جرم میں موت کی سزا سنادی۔ اس حوالے سے چیف جسٹس سپریم کورٹ مسٹر جسٹس آصف سعید کھوسہ کی ایک گزشتہ تقریر کا حوالہ دینا بھی ضروری ہے جو انہوں نے سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کو علاج معالجہ کیلئے ملک سے باہر جانے کی اجازت ملنے کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان کی تقریر پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے باور کرایا کہ آج کی عدلیہ کا 2007 والی عدلیہ سے موازنہ نہ کیا جائے۔ ہم نے دو سٹنگ وزرائے اعظم کو نااہل قرار دیکر گھر بھجوایا ہے اور ایک سابق جرنیلی آمر کے کیس کا فیصلہ صادر ہونیوالا ہے۔ ہمیں یہ نہ سنایا جائے کہ غریب آدمی کیلئے الگ اور امیر آدمی کیلئے الگ قانون ہے۔ اسی تناظر میں آرمی چیف کے منصب میں توسیع کے حوالے سے سپریم کورٹ کے روبرو کیس کی سماعت اور اسکے دوران فاضل چیف جسٹس کے ریمارکس اور اب اس کیس میں سپریم کورٹ کے جاری کئے گئے تفصیلی فیصلہ کا حوالہ دینا بھی ضروری ہے جس میں فاضل عدالت عظمی نے آئین و قانون کی پاسداری کا ہی ٹھوس عندیہ دیا اور عہد کیا ہے۔ اس فیصلہ کی روح کے مطابق آرمی چیف کے منصب کی متعینہ مدت کے بعد انکے منصب میں توسیع کی آئین میں گنجائش ہے نہ اسکی ضرورت ہے۔ فاضل عدالت عظمی نے اپنے اس فیصلہ میں بے شک پارلیمنٹ کو یہ راستہ دکھایا ہے کہ آرمی چیف کے منصب میں توسیع مقصود ہے تو اس کیلئے آئین کی دفعہ 243 اور آرمی ایکٹ میں ترمیم کیلئے گنجائش نکالی جاسکتی ہے جس کیلئے حکومت کو چھ ماہ کے اندر اندر قانون سازی کا پراسس مکمل کرنا ہوگا۔ اگر اس عرصہ میں متعلقہ آئینی اور قانونی ترمیم نہ ہوسکی تو آرمی چیف چھ ماہ بعد اپنے منصب سے ریٹائر ہو جائینگے اور انکی یہ ریٹائرمنٹ انکی ریٹائرمنٹ کی اصل تاریخ 23 نومبر 2019 سے ہی تصور کی جائیگی۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر عدلیہ اپنے نظریہ ضرورت والے ماضی کے دور کو لپیٹ کر آئین و قانون کی حکمرانی اسکی پاسداری اور عملداری کے ساتھ پرعزم ہو کر کھڑی ہوگئی ہے تو عدلیہ جن کی خاطر سول سپرمیسی کو یقینی بنانے اور اس کا تحفظ و دفاع کرنے کا عندیہ دے رہی ہے کیا انہیں خود بھی سول سپرمیسی عزیز ہے یا نہیں۔ اس کا اندازہ یقینا آنیوالے دنوں میں ہو پائے گا کہ حکومت آرمی چیف کے منصب میں توسیع کے حوالے سے سپریم کورٹ اور جنرل مشرف کی سزائے موت کے حوالے سے خصوصی عدالت کے فیصلہ پر عملدرآمد کیلئے کیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہے۔مشرف کے پاس اپنی سزا کیخلاف مجاز اتھارٹی کے روبرو اپیل دائر کرنے کے صرف دو مواقع موجود ہیں اور وہ بھی مشروط ہیں۔ سپیشل کورٹس آرڈی ننس کی دفعہ 12 کے تحت خصوصی عدالت کے فیصلہ کیخلاف صرف سپریم کورٹ میں اپیل دائر ہوسکتی ہے اور اس میں بھی سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلہ کے تحت متعلقہ مجرم کو پابند کیا ہے کہ وہ خود عدالت میں پیش ہو کر اپیل دائر کرینگے۔ سپریم کورٹ کے بعد مشرف کے پاس صرف صدر مملکت کے روبرو رحم کی اپیل دائر کرنے کا آپشن ہوگا اور اپیل کے ان دونوں مراحل میں مجاز اتھارٹی آئین کی دفعہ 6 ذیلی دفعہ 2۔اے کو ملحوظ خاطر رکھنے کی پابند ہوگی جس میں واضح طور پر قرار دیا گیا ہے کہ آئین کی دفعہ 6(1)(2) میںدرج غداری کے مستوجب کسی اقدام کو سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ سمیت کوئی بھی عدالت جائز قرار دینے (ویلیڈیٹ کرنے) کی مجاز نہیں۔ اس تناظر میں مشرف کی سزائے موت انکی اپیل میں بھی برقرار رہنے کا امکان ہے۔ اب اصل امتحان خصوصی عدالت کے فیصلہ پر عملدرآمد کا ہے۔ مشرف گزشتہ چھ سال سے ملک سے باہر ہیں اور انکی طبیعت بھی خراب ہے اس لئے انکی ملک واپسی کا امکان بہت کم ہے۔ اگر معروضی حالات میں بالفرض محال انکی سزائے موت پر عملدرآمد نہ بھی ہو پایا تو بھی خصوصی عدالت کا فیصلہ آئین و قانون کی حکمرانی یقینی بنانے کے معاملہ میں یادگار رہے گا کیونکہ اس لئے بہرصورت آئندہ کیلئے کسی ماورائے آئین اقدام کے تحت منتخب جمہوری حکومت کی بساط الٹانے کا راستہ مستقل طور پر بند ہوگیا ہے کیونکہ آئندہ جو بھی ایسا اقدام اٹھانے کا سوچے گا خصوصی عدالت کا فیصلہ اسکے ضرور پیش نظر ہو گا۔