دشمن اور وجہ دشمنی یاد رکھیں!!!!

January 1, 2020 3:39 pm

مصنف -

محمد اکرم چوہدری
سولہ دسمبر گذرا ہے سولہ دسمبر ہمیں ایک سبق سکھاتا ہے۔ بدقسمتی ہے کہ انیس سو اکہتر سے لے کر اب تک ہم نے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ ملک ٹوٹ گیا لیکن ہماری جھوٹی انا آج بھی قائم ہے، ملک ٹوٹ گیا، ملک بنانے والے روتے روتے آنسو بہاتے دنیا سے چلے گئے لیکن ہم ملک سنبھالنے اور بزرگوں کے خواب کو تعبیر دینے کے بجائے دو دو اینٹ کی مسجد بنانے میں مصروف ہیں۔ تقسیم کے وقت ہمیں ہندووں اور سکھوں نے لوٹا تقسیم کے بعد ہم اپنوں کے ہاتھوں لٹ رہے ہیں۔ تقسیم کے وقت ہمیں غیر مسلموں نے مذہب کے نام پر کاٹا آج اپنے ہی مذہب کے نام پر ایک دوسرے کو کاٹ رہے ہیں، تقسیم کے وقت ہجرت کرنے والوں پر مظالم ڈھائے گئے آج اپنے ملک میں گھر سے نکلتے ہیں تو راستے میں لٹ جاتے ہیں راستے میں بچتے ہیں تو گھر واپسی پر زندگی بھر کی جمع پونجی سے محروم ہو چکے ہوتے ہیں۔ تقسیم کے وقت اسلام اور پاکستان کے دشمنوں نے ہجرت کے وقت دشمنی نبھائی اور آج بھی انکی طرف سے دشمنی میں کوئی کمی نہیں آئی۔ دشمن آج بھی ہمارے پیچھے ہیں اب وہ سرحد پار سے ہی کارروائیاں نہیں کرتا بلکہ ہمارے اندر بھی اس کے نمائندے موجود ہیں جو وقتا فوقتا کارروائیاں کرتے رہتے ہیں۔ یہ ملک میں سیاسی عدم استحکام، انتشار، دہشت گردی سمیت دیگر مسائل میں بھی ان دشمنوں کا بڑا ہاتھ ہے۔ کلبھوشن جادھو اسکی بڑی مثال ہے۔ انیس سو اکہتر کے بعد دوہزار سولہ میں دشمن نے ہمارے مستقبل پر حملہ کر کے ایک مرتبہ پھر دشمنی نبھائی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم نے ان سانحات سے کیا سیکھا ہے۔ کیا ہم دشمنوں کا مقابلہ اس شدت کے ساتھ کر رہے ہیں جس شدت سے حملے ہو رہے ہیں یا پھر ہم مصلحتوں کا شکار ہیں، تقسیم ہیں اور اپنے اپنے مفادات کو سینے سے لگائے بیٹھے ہیں۔ دشمن پاکستان کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔
ان لوگوں سے پوچھیں جو پاکستان کے لیے سب کچھ لٹا کر یہاں پہنچے، جو بے سروسامانی کے عالم میں پاکستان پہنچے، جنہوں نے خون کے دریا عبور کیے، جنہوں نے عزتوں کی پامالی برداشت کی، جنہوں نے گھر بار چھوڑا، گردنیں کٹوائیں، معصوم بچوں کے لاشے دیکھے۔ افسوس وہ نہ رہے جنہوں نے اس ملک کو قائم کرنے میں حصہ ڈالا، ان کے بعد جو آئے ہیں انکی بھوک ہی ختم نہیں ہو رہی، کوئی عزت اور شہرت کا بھوکا ہے تو کوئی دولت کا بھوکا ہے۔ کسی کو حکومت کا لالچ ہے تو کوئی جاگیریں بنانا چاہتا ہے۔ اس دوڑ میں کسی کو ملک کی فکر ہے نہ قوم کی۔ سرمایہ داروں کو اپنی سرمایہ کاری عزیز ہے تو جاگیر داروں کو جاگیر سے محبت ہے اور سیاست دانوں کو صرف اپنی حکومت سے غرض ہے۔ اسی دوڑ میں ملک دولخت ہوا، اندرونی طور پر ہم تقسیم در تقسیم ہوتے چلے گئے، صلاحیتوں کے اظہار کے یکساں مواقع ناپید ہوتے گئے، پیسہ مطمع نظر بن گیا، رواداری کہیں دور بہت پیچھے رہ گئی، بزرگوں کی قربانیوں کو بھلا دیا گیا، آزادی کی قدر و قمیت کو نظر انداز کر دیا گیا، میرٹ اور انصاف کا گلا گھونٹ دیا گیا۔ سطحی صلاحیتوں کے حامل افراد کا ریاستی وسائل پر قبضہ ہوا اور آج اس کے تباہ کن نتائج ہم بھگت رہے ہیں۔ ملک قرضوں میں جکڑا گیا، ہزاروں ارب کے قرضوں میں پھنسے ہوئے، امپورٹ خطرناک حد تک بڑھ گئیں اور ایکسپورٹ خطرناک حد تک کم ہوتی چلی گئیں۔ ہم نے اداروں کی تعمیر کیا کرنا تھی ہم تو انسانوں کی تعمیر میں ہی ناکام رہے۔ ہم نے بیرونی دشمن کا سامنا کیا کرنا ہے ہم تو اپنے اندر کے دشمن کا مقابلہ نہیں کر پائے۔ آسان پیسے کے پیچھے بزرگوں کی قربانیوں کو بھلایا تو وقتی آسائش کے لیے اپنی نسلوں کا مستقبل گروی رکھ دیا۔ ستم یہ ہے کہ آج بھی اسی راستے پر دوڑے چلے جا رہے ہیں۔
ہمارا سب سے بڑا اثاثہ ہمارا ملک تھا ہم اسے سنبھالنے میں ناکام رہے، دوسرا بڑا اثاثہ ملک کے نوجوان تھے آج تک وہ آگے بڑھنے کے لیے سمت کے متلاشی ہیں، ملک ٹوٹ گیا اور ہمارا نوجوان دہشت گرد بن گیا اس سے بڑی ناکامی کیا ہو سکتی ہے۔ ملک ٹوٹنے جیسے بڑے سانحے سے بھی ہم سبق حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ ہم اپنے دشمن کو ہی نہیں پہچان سکے اور نہ ہی اس کی وجہ دشمنی کی تہہ تک پہنچنے میں کامیاب ہو سکے باوجود اس کے کہ ہمیں قرآن نے واضح بتا دیا پھر دو قومی نظریے کی بنیاد پر پاکستان کا قیام سب سے بڑا سبق اور مثال تھی لیکن ہم آج بھی اسی دشمن کے آگے بچھے بچھے جاتے ہیں دوستی کے راستے تلاش کرتے ہیں۔ ہم نے اپنے ازلی دشمن کے ساتھ مقابلہ کی تیاری کرنے کے بجائے آپس میں الجھ الجھ کر وقت ضائع کیا ہے۔ دوسری طرف دشمن اپنی طاقت میں اضافہ اور ہمیں نقصان پہنچانے میں مصروف ہے۔ کشمیر لاک ڈاون اور کرفیو کی سینچری ہو چکی ہے ایک سو پچاس ہوں گے اور پھر ڈبل سینچری بھی ہو جائے گی نہ ہم اب تک کچھ کر سکے ہیں نہ کچھ کر سکیں گے۔ مسئلہ کشمیر کو صرف پاکستان کا مسئلہ سمجھنے کا خمیازہ مسلم امہ کو بھگتنا ہو گا اور اس مسئلے پر بھارتی جارحیت کے خلاف اپنے ردعمل کو صرف بیانات تک محدود کرنے کا سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو ہو گا۔ کشمیر لاک ڈاون سقوط ڈھاکہ کے بعد دشمن کا دوسرا بڑا وار ہے۔ بابائے قوم نے اسے شہ رگ قرار دیا تھا۔ ہمارا ازلی دشمن شہ رگ پر قبضہ جمائے بیٹھا ہے اور ہم اس انتظار میں ہیں کب انسانی حقوق کی تنظیموں کا دبائو بڑھے گا اور بھارت کشمیر سے انسانیت سوز کرفیو اور لاک ڈاون کا خاتمہ ہو گا۔ کیا ایسا ممکن ہے؟؟؟؟
ہمارے ازلی دشمن نے شہریت بل کی صورت میں مسلم دشمنی کا ایک اور ثبوت دیتے ہوئے اپنے عزائم واضح کر دیے ہیں اس کے بعد بھی اگر کسی کے ذہن میں کوئی غلط فہمی ہے تو وہ دور ہو جانی چاہیے۔ متنازع شہریت بل کی منظوری کے بعد کوئی شبہ نہیں رہا کہ نریندرا مودی کی حکومت میں بھارت میں ہندووں کے علاوہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہو سکتی۔ آج مسلمانوں پر زمین تنگ کی جا رہی ہے تو کل متعصب ہندووں کا نشانہ کسی اور مذہب سے تعلق رکھنے والے ہوں گے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم کب تک اپنے ازلی دشمن کو نظر انداز کرتے رہیں گے، کب تک اس کی حقیقت سے آنکھیں چراتے رہیں گے۔ ہم اپنے سب سے بڑے دشمن کو جتنی جلدی جان لیں اور وجہ دشمنی کو سمجھ جائیں گے اتنا ہی ہمارے لیے بہتر ہو گا۔ ہم اپنی غلطیوں سے پہلے ہی ناقابل تلافی نقصان اٹھا چکے ہیں۔ کیا ہم اور نقصان برداشت کر سکتے ہیں؟؟؟؟