مدینہ کی ریاست کیسی تھی

January 1, 2020 3:37 pm

مصنف -

تنویر ظہیر
وزیراعظم عمران خان اپنی تقریروں میں اکثر مدینہ کی ریاست کا ذکر کرتے ہیں۔ ان کا ویژن ہے کہ پاکستان میں اس ریاست کا عکس نظر آئے۔ کیا عملا وہ ایسا کر پائیں گے۔ جبکہ صورتحال یہ ہے کہ مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بیروزگاری بڑھ رہی ہے۔ عوام پریشان ہیں۔ مہنگائی کے خلاف جلسے جلوس ہو رہے ہیں۔ ریلیاں نکل رہی ہیں اور دھرنے دئیے جا رہے ہیں۔ مدینہ کی ریاست کے بارے میں وزارت عظمی کا عہدہ سنبھالنے سے قبل بھی عمران خان ایسی باتیں کرتے رہے ہیں۔ 2002 میں پشاور میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کیا ہم نہیں جانتے کہ پہلی شہری ریاست مدینہ میں بہت مضبوط جمہوری ادارے قائم تھے۔ صرف انتخابات کا نام جمہوریت نہیں ہے، آزاد عدلیہ جیسے جمہوری ادارے جمہوریت کو یقینی بناتے ہیں۔ مدینہ میں انتہائی اعلی عدالتی نظام قائم تھا۔ مسلم دنیا میں عدلیہ سیکڑوں سال انتظامبہ سے آزاد رہی۔ ہم تغیر کو نہیں روک سکتے۔ جب مغرب میں تبدیلی کی ہوا چل رہی تھی، امریکہ آئین اور قوانین بنا رہا تھا، مسلم دنیا میں بادشاہتیں قائم تھیں جو زوال کو بڑھا رہی تھیں قارئین مدینہ کی ریاست کی جھلک پیش ہے۔ حکومت کا یہ عالم تھا کہ ایک وسیع و عریض سلطنت کے سربراہ حضور نبی کریم ہیں لیکن سادگی کا یہ عالم ہے کہ اپنے نعلین آپ مرمت کر رہے تھے۔ ایک صحابی عرض کرتے ہیں کہ حضور لائیے میں ٹانک دوں تو فرماتے ہیں یہ خود پسندی ہے جو مجھے پسند نہیں۔ گھر میں اپنے کام کاج خود کرتے ہیں۔ مسجد قبا اور مسجد نبوی کی تعمیر اور خندق کھودنے میں عام مزدوروں کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔ دوستوں کی مجلس میں دعوت کا سامان تھا۔ سب نے کام بانٹ لیے۔ آپ نے فرمایا کہ جنگل سے لکڑیاں میں لاوں گا۔ صحابہ نے تامل کیا تو فرمایا کہ میں امتیاز پسند نہیں کرتا۔ غزوہ بدر میں سواریاں کم تھیں اس لیے باری باری سے اونٹوں پر چڑھتے اترتے تھے۔ حضور بھی دوسروں کی طرح ایک اونٹ کے ساتھ دو آدمیوں میں شریک تھے۔ جاں نثار ہمراہی اپنی باری حضور کی خدمت میں پیش کرتے تو آپ فرماتے کہ نہ تم مجھ سے زیادہ پیدل چل سکتے ہو اور نہ میں تم سے کم ثواب کا محتاج ہوں۔ غزوہ خیبر میں جب آپ کا داخلہ ہوا تو آپ ایک عام خچر پر سوار تھے جس میں لگام کی جگہ کھجور کی چھال بندھی تھی۔ ابن ارث ایک صحابی تھے جنہیں حضور نے کسی غزوہ پر بھیجا۔ انکے گھر میں پیچھے کوئی مرد نہ تھا اور عورتوں کو دودھ دوہنا نہیں آتا تھا۔ آپ ہر روز انکے گھر جاتے اور دودھ دوھ آتا کرتے۔ برابر کے صحابی تو ایک طرف، مدینہ کی لونڈیاں آپ کی خدمت میں آتیں اور جو کام کہتیں حضور اٹھ کر کر دیتے۔ مدینہ کی بیوائیں اور مساکین سب اطمینان سے رہتے تھے کہ انکے کام حضور نے اپنے ذمے لے رکھے تھے۔ مجلس میں اپنے لیے کوئی امتیازی مقام متعین نہیں فرمایا تھا۔ آنے والوں (بالخصوص دوسری سلطنت کے سفیروں) کو حضور کے پہچاننے میں دقت ہوتی، آپ کے بیٹھنے میں ذرا سی اکواونچی نشست بنا دی تو حضور سخت بر فردختہ ہوئے اور اسے فورا گرا دیا۔ مزدلفہ میں قریشی دوسروں سے ممتاز جگہوں پر بیٹھتے تھے۔ صحابہ نے چاہا کہ آپ کیلئے ایک طرف چھوٹا سا چھپڑ ڈال دیا جائے۔ آپ نے اس سے منع فرمایا اور کہا کسی مقام پر کسی کا حق نہیں۔ جو چاہے پہلے پہنچ جائے، وہ اسی کی جگہ ہے۔ تخاطب میں بھی کوئی امتیازی لقب پسند نہ فرماتے تھے۔ ایک مرتبہ ایک شخص نے آپ کو مخاطب کر کے سیدنا کہہ دیا۔ آپ نے کہا کہ تقوی کی راہ اختیار کرو۔ شیطان تمہیں تمہارے مقام سے گرا نہ دے۔ میں عبداللہ کا بیٹا محمد ہوں۔ خدا کا بندہ اور اس کا رسول۔ ایک مرتبہ حضور تشریف لائے تو صحابہ تعظیما کھڑے ہوگئے۔ فرمایا کہ یہ عجمیوں کا دستور ہے، ایسا نہ کیا کرو۔ البتہ اظہار محبت کیلئے آپ اٹھ کھڑے ہو جاتے تھے۔ حضرت فاطمہ تشریف لاتیں تو آپ کھڑے ہو جاتے اورجوش محبت میں بیٹی کا ہاتھ چوم لیتے۔ یہ بظاہر چھوٹے چھوٹے واقعات ہیں لیکن انسانی سیرت کا صحیح اندازہ تو چھوٹے چھوٹے واقعات ہی سے لگایا جاتا ہے۔ بڑے بڑے واقعات میں تو تصنع کا بھی امکان ہوتا ہے۔ انسان کی صحیح زندگی کی جھلک روزمرہ کے کام کاج میں نظر آیا کرتی ہے۔ یہ سادگی اور عدم تمیز و افضلیت اس تعلیم کا جزو تھی جس سے آپ اپنی جماعت کے دلوں میں تمیز بندہ و آقا کا خوف دور کر کے ان میں صحیح جذبہ حریت و روح آزادی پیدا کرنا چاہتے تھے۔ ایک مرتبہ ایک شخص خدمت نبوی میں حاضر ہوا تو نبوت کے رعب سے کانپنے لگا۔ آپ نے فرمایا کہ گھبراو نہیں! میں فرشتہ نہیں ہوں۔ کوئی مافوق الفطرت ہستی نہیں ہوں۔
ایک قریشی عورت کا بیٹا ہوں جو سوکھا گوشت پکا کر کھایا کرتی تھیں۔ مفلسی، جس میں انسان اپنی ضروریات کیلئے دوسروں کا دست نگر ہو جائے، خدا کا عذاب ہے۔ اسی لیے جن باتوں پر حضور بیعت لیتے تھے، ان میں ایک یہ بھی تھا کہ لوگوں سے سوال مت کرنا کہ سوال کرنے سے انسان کی غیرت مٹی میں مل جاتی ہے۔ ایک دفعہ ایک شخص حضور کی خدمت میں حاضر ہوا اور کچھ سوال کیا۔ آپ نے فرمایا کہ تمہارے پاس کچھ ہے۔ اس نے کہا کہ ایک بچھونا ہے اور ایک پانی پینے کا پیالہ۔ آپ نے دونوں چیزیں منگا لیں اور دو درہم میں فروخت کر دیں۔ ایک درہم کا کھانا اس کے گھر بھیج دیا اور ایک درہم کی رسی منگا کر اسے دے دی کہ جاو جنگل سے لکڑیاں لا کر شہر میں بیچا کرو۔ رسول اللہ نے یہی نظام قائم کیا اور لوگوں کو دکھلا دیا کہ دین کا یہ مفہوم ہے۔