ہم عظیم تم حقیر

November 7, 2019 3:01 pm

مصنف -

 

روبینہ فیصل
31اکتوبر 1984 کو ہندوستان کی وزیر ِ اعظم محترمہ اندرا گاندھی کو صفدر جنگ روڈ پر ان کے اپنے باڈی گارڈز نے گولیوں سے چھلنی کر دیا تھا ۔ آج اس بات کو 35سال ہو گئے ۔۔سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا انڈیا اس سانحے سے ابھی بھی باہر آسکا ہے ؟ یا ایسے سانحے نسلوں تک اپنا اثر لئے رکھتے ہیں ؟ انڈیا میں اندرا گاندھی کو آج بھی آئرن لیڈی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔وہ ،پنڈت جواہر لعل نہرو کی پتری تھیں ۔ اور وہ انہیں صرف ایک سیاست دان یا لیڈر ہی نہیں بلکہ اس ملک جسے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بنانے میں ان کا سب سے بڑا ہاتھ تھا ، اپنی بیٹی کو اس ملک پر حکمرانی کرتے دیکھنا چاہتے تھے ۔ کہا جا تا ہے کہ ان کی بیٹی ان کی کمزوری تھی اور اسی لئے انہوں نے اس کی سیاسی تربیت اپنی زندگی ہی میں شروع کر دی تھی ۔ بلکہ میں تو کہتی ہوں جب نہرو جیل میں بیٹھے اپنی سالہ بیٹی کو خطوط میں دنیا کی تاریخ بتا یا کرتے تھے تو وہ ایک ایسی عورت کو تیار کر رہے تھے جو مستقبل میں ایک بڑی لیڈر بن کر ابھرے گی ۔ کہا جاتا ہے کہ اندرا گاندھی کو آئینہ دیکھنے کی بھی عادت نہیں تھی کہ سیاست ہی اس کی رگ رگ میں اتری ہو ئی تھی ۔۔ چہرے کو حسین بنانے کومیک اپ کے قریب تک نہ جاتی تھیں کاسمیٹکس سرجری تو دور کی بات ہے ۔۔
اندراگاندھی کی مضبوطی اور اعتماد کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے کیونکہ بات سچی تعریف کی ہو تو ہم دشمنوں کی بھی کر نے سے نہیں چوکتے ۔۔ مگر حیرت اس وقت ہو تی ہے جب دوسری طرف نیوٹرل ہو نے کے دعوی دار ، بڑے بڑے امن پسند اور عظیم لوگ جب چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھی تعصب کر تے نظر آتے ہیں ۔ اپنے ملک سے اندھی محبت ،اپنے آپ پر جائز یا ناجائز فخر اور اپنے لیڈروں کو دنیا کا عظیم لیڈر بنا کر پیش کرنا کوئی ہندوستانیوں سے سیکھے ۔۔۔
اندرا گاندھی کی برسی ہے اور کچھ سالوں سے میری ایک عادت ہے کسی مشہور شخصیت کی تاریخ پیدائش یا موت کی تاریخ یاد ہو تو اس دن اس کے بارے میں کچھ نہ کچھ پڑھنے لگتی ہوں ۔۔ ذاتی لائیبریری سے کتاب نکل آئے تو کیا کہنے ورنہ اب تو یو ٹیوب پر دستاویزی فلموں نے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی ۔میں ہر مہینے میں ایک نسبت باندھ کے رکھتی ہوں اور اکتوبر کا مہینہ خزاں ، ہیلو وین کے ساتھ ساتھ میں نے اندرگاندھی کے قتل کے حوالے سے منسوب کر رکھا ہے ۔عجب اتفاق ہوا کہ اکتوبر کے شروع میں ہی ،پاکستان سے تازہ تازہ لائی گئی کتابوں کے ذخیرے میں سے کلدیپ نئیر صاحب کی کتاب کا مطالعہ شروع کر رکھا تھا ۔ کلدیپ نئیر ، جنہوں نے اپنی صحافت کا آغاز ، اردو زبان سے کیا تھا ، پاکستان میں بھی اتنے ہی جانے پہچانے جاتے ہیں جتنے انڈیا میں ۔
سیالکوٹ میں پیدا ہو نے والے ان صحافی کا اعزاز یہ ہے جو انہیں باقی صحافیوں سے ممتاز کرتا ہے کہ ان کی صحافت تقسیم ہند سے پہلے اور بعد کے کئی سالوں پر محیط ہے ۔
“لیڈرز اور آئی کونز” نامی اس کتاب میں مجھے دلچسپی یوں ہو ئی کہ یہ مشہور شخصیتوں کے خاکوں پر مبنی کتاب ہے ۔ تاریخ کی خشک کتابوں میں مشہور لیڈروں کو پڑھنا اور بات ہو تی ہے مگر اگر کسی کو یہ اعزاز ہو کہ وہ قائد اعظم سے بھی ملا ہو ، گاندھی جی سے بھی ملا ہو ، نہرو ، خان غفار ، بھٹو ، مجیب سے ہو تا ہو ا اندرا گاندھی اور نر یندر مودی تک پہنچا ہو تو ایسی کتاب کی کشش دس گنا بڑھ جاتی ہے اور ہم جیسے تاریخ میں مختلف انداز سے گھس گھس کر جھانکنے والوں کے لئے تو جیسے کوئی موتی ہاتھ لگ گیا ہو۔ ۔۔ محمد علی جناح پر لکھی جانے والی اندرونی بیرونی رائٹرز کی سب کتابیں ایک طرف اور سعادت حسن منٹو کا جناح صاحب کے ڈرائیور آزاد سے انٹرویو سے کھینچا ہوا خاکہ دوسری طرف ۔ وہ خاکہ مجھے جناح پر لکھی گئی سب کتابوں سے بھاری معلوم ہوتا ہے ۔