درشنی پہلوان اور اصل اوقات

November 7, 2019 2:57 pm

مصنف -

طارق امین
ہماری قوم کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ایک تو ہماری یادداشتیں ریت کی بنیاد پر کھڑی ہوتی ہیں اور دوئم ہم ہمیشہ دھوپ کی دیوار پر سپنے لکھ رہے ہوتے ہیں۔ یہ بیانیہ راقم کو لکھنا پڑا کہ پچھلے کچھ روز سے متواتر بیشمار دوستوں کے پیغامات موصول ہو رہے ہیں کہ ہماری تیسری آنکھ مولانا فضل الرحمان کی حالیہ پیشقدمی کا کیا انجام دیکھ رہی ہے۔ ان تمام دوستوں سے ایک عرض ہے کہ نہ تو میں کوئی ولی اللہ ہوں اور نہ کوئی سیاسی پنڈت کہ میری کہی گئی باتیں حرف بہ حرف صحیح ثابت ہوں البتہ میں اپنا کالم لکھتے وقت دو چیزوں کا بڑا دھیان رکھتا ہوں اول جو بات کروں وہ حقائق کے منافی نہ ہو اسلیئے اس معاملے میں ریسرچ پر کافی توجہ دیتا ہوں اور دوسرا مشاہدے پر بڑا زور دیتا ہوں کیونکہ کتابوں کے علاوہ بہت سی حقیقتیں آشکار کرنے میں اسکا بھی بڑا کردار ہوتا ہے۔ مولانا کی حالیہ پیشقدمی پر کچھ بھی کہنے سے پہلے سابقہ تجربات اور حقائق کی روشنی میں ہمیں اس حقیقت سے آگاہی کی ضرورت ہونی چاہیئے کہ آیا اس پیشقدمی کا شمار مارچ کے زمرے میں کیا جا رہا ہے یا اسے دھرنے کا نام دیا جا رہا ہے کیونکہ ماضی کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جن احتجاجی اقدامات کو مارچ کا نام دیا گیا وہ اپنے ابتدائی مراحل میں ہی مطلوبہ نتائج کے حصول میں کامیاب ہو گئے جبکہ اسکے برعکس جن احتجاجی تحریکوں کو دھرنے کے نام سے منسوب کیا گیا وہ ایک سو چھبیس دن گزرنے کے باوجود بھی اپنے مطلوبہ مطالبات کے حصول میں ناکام رہیں اس سلسلے میں تاریخ کے اوراق پلٹیں تو اولذکر کی واضع مثالیں خان قیوم خان کا سکندر مرزا کے خلاف لانگ مارچ، بھٹو صاحب کا ایوب کے خلاف ٹرین مارچ، پی این اے کا بھٹو کے خلاف لانگ مارچ، بینظیر کا نواز حکومت کے خلاف لانگ مارچ اور نواز شریف کا افتخار چوہدری کی بحالی کیلئے لانگ مارچ کی صورت میں موجود ہیں اور تاریخ گواہ ہے کہ جہاں جہاں مارچ کا نام آیا وہاں پیشقدمیاں مطلوبہ کامیابیوں کی صورت میں سامنے آئیں جبکہ اسکے برعکس اگر آپ ان پیشقدمیوں کا ایک سرسری جائزہ لیں جنکو دھرنے کا نام دیا گیا جسکی اولین مثال مشرف دور میں لال مسجد کا دھرنا، عمران خان کا نواز حکومت کے خلاف ایک سو چھبیس دن کا دھرنا، طاہر القادری صاحب کے زرداری اور نواز دور میں تمام دھرنے، مولانا خادم رضوی کے سابقہ دونوں دھرنے حتی کہ اس شمار میں افتخار چوہدری کی بحالی کے سلسلے میں وہ دھرنا بھی آتا ہے جسکی قیادت اعتزاز احسن اور متعدد دوسرے وکلا نے کی تھی تو اس سباق میں تاریخ گواہ ہے کہ یہ تمام احتجاج جن کو دھرنوں کا نام دیا گیا وہ اپنے مطلوبہ اہداف کے حصول میں ناکام رہے۔ وسوسے میں ہوں کہ کہیں دوست اس سلسلے میں یہ تاویل پیش نہ کر دیں کہ چونکہ لفظ “مارچ” کی اصطلاح ایک مخصوص قوت سے جڑی ہوئی ہے لہذا ان مارچ کی کامیابی کا راز بھی اسی بات میں پنہاں ہے کہ انکے ڈانڈے کہیں نہ کہیں اسی نرسری کی پیداوار ہوتے ہیں لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے اگر ان تمام مارچز کا گہرائی میں مطالعہ کریں تو بہت سی تلخ حقیقتیں بہت سے حقائق کا منہ چڑا رہی ہوتی ہیں۔ یہ تو تھی ایک مختصر تاریخ جسکی یاددہانی اسلیئے ضروری تھی کہ ہماری یادداشتیں اکثر ریت کی دیوار پر کھڑی ہوتی ہیں۔ اب بات کرتے ہیں مولانا کی حالیہ پیشقدمی کی جسکے بارے میں شروع دن سے اسے آزادی مارچ کا نام دیا جا رہا ہے اور آج جس وقت یہ تحریر لکھی جا رہی ہے اسے اسلام آباد میں ڈیرے ڈالے پانچواں روز لگ چکا ہو گا۔ خدا جانے جس وقت اپ یہ تحریر پڑھ رہے ہونگے اس وقت یہ احتجاجی پیش قدمی کیا نام اختیار کر چکی ہو گی اور کن مراحل میں ہو گی لہذا تاریخی حوالوں کی روشنی میں اسکے مطلوبہ نتائج پر کچھ کہنے سے قاصر ہوں لیکن اتنا کہہ سکتا ہوں کہ اس دفعہ ملکی سیاست میں شطرنج کے کھیل کی بجائے تاش کی بازی کھیلی جارہی ہے جس میں بظاہر چار فریق جے یو آئی، نون لیگ، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف نظر آ رہے ہیں اور نظر یوں آئیگا جیسے ہر کوئی جیت گیا ہے لیکن وقت بتائے گا کہ اصل میں فاتح وہ تھا جس نے اس کھیل میں حصہ ہی نہیں لیا اور پنجاب کی پگ لینے میں کامیاب ہو گیا۔ واقعاتی شہادتوں کا جائزہ لیں تو گو اس میں شک کی کوئی گنجائش ہی نہیں رہ جاتی کہ مولانا نے نون لیگ اور پیپلز پارٹی کو پیچھے چھوڑتے ہوئے اپوزیشن کی مرکزی حیثیت حاصل کر لی ہے اور اسٹیبلشمنٹ سے اپنے روابط استوار کرنے میں بھی کامیابی حاصل کر لی ہے لیکن اسکے ساتھ جو گہری فکر ابھرتی نظر آ رہی ہے کہ کہیں اس تناظر میں عالمی سطح پر استعماری قوتیں ہمارے ماتھے پر کوئی اور لیبل چسپاں نہ کر دیں جس سے ایک دفعہ پھر ہمیں جان چھڑانی مشکل ہو جائے البتہ مولانا کی لاکھ خواہشوں اور کوششوں کے باوجود جب پیپلز پارٹی اور نون لیگ دھرنا یلغار سے اپنی قطعی لاتعلقی کا اظہار کر رہی ہیں تو ایک معدوم سی امید کی کرن نظر آ رہی ہے کہ ملکی سیاست میں باتیں اب سڑکوں کی بجائے شائد پارلیمان میں طے کرنے کا رواج جنم لے لے البتہ آج کے اس پورے کالم کا لبِ لباب یہ ہے کہ اس پورے episode کے نتیجے میں کامیاب پھر اسٹیبلشمنٹ ہی نظر آ رہی جو آنے والے دنوں میں بہت سے درشنی پہلوانوں کو انکی اصل اوقات دکھاتے ہوئے بہت اہم تبدیلیوں پر مجبور کرے گی۔