مولانا صرف سیاست کریں

November 7, 2019 2:55 pm

مصنف -

 

امیر محمد خان
یہ وطن عزیز اور یہاں بسنے والے 22 کروڑ سے زائد عوام کی نہ جانے خوش قسمتی ہے یا بد قسمتی کے جتنے بھی سنجیدہ اور افسوس ناک واقعات ظہور پذیر ہوتے ہیں و ہ زیادہ طویل المدتی نہیں ہوتے ، واقعات کی مثال اگر ٹرک کی لال بتی سے دی جائے تو شائد بہتر ہو ایک مسئلہ ٹرک کی بتی کے طرح عوام کے سامنے آتا ہے عوام کی توجہ اس طرف ہوتی ہے تو وہ بغیر کسی نتیجہ کے منظر سے غائب ہوجاتا ہے ، اس دوران دوسرا سنگین مسئلہ آجاتا ہے ، جمہوری ملک سے مراد جمہور کی آواز کی اولیت ہوتی ہے جسے ارباب اقتدار گزشتہ ستر سالوں سے نہیں سمجھ پائے ،انہیں عوام کی ضرورت صرف اسی وقت ہوتی ہے جب نام نہاد عوامی رائے حاصل کرنے کیلئے انتخابات نامی ڈرامہ رچایا جاتا ہے اور مراعات یافتہ طبقہ جو اقتدار کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے وہ خود کو کسی نظریہ سے مبرا سمجھتا ہے اسلئے جہاں اسے پڑائو کی جگہ ملے وہیں اسکا نظریہ اس جماعت کے مطابق ہوجاتا ہے اور نہائت ڈھٹائی کے ساتھ اپنے پرانے نام نہاد نظریہ ، بیانات منافقانہ طور پر بھول کر نئی راہ پر چل پڑے ہے ۔ عوام تو بیچارے معصوم ہیں اور جب تک یہ معصوم رہینگے انہیں سیاسی بازی گر اسی طرح دن دھاڑے لوٹتے رہینگے ، مہنگائی ، بے روزگار ی کے مارے عوام کو دھرنوںکی سیاست میں اپنے مقاصدکیلئے دھکیل دیا جاتا ہے ۔ ہمارے رہنما بڑے باہمت ہیں چونکہ کسی بھی وقت اپنی سیاسی سوچ ، بیانات ، سے منہ پھیر لیتے ہیں اور اپنی اس بے رخی کو وہ سیاست میں سب کچھ ممکن ہے کہتے ہیں یہ ہی سیاست تو اس پر لعنت ہی بھیجی جاسکتی ہے جس میں انسان کی اپنی سابقہ سوچ ، بیان پر معافی تک نہ مانگے اور نئی راہ پر چل پڑے۔ اسلام آباد ایک مرتبہ پھر یرغمالی بنالیا گیا ہے میڈیا اس بات میں مصروف ہے کہ پی ٹی آئی دھرنے میں وہ کیا تقاریر کرتے رہے ہیں ؟ اور مولانہ کیا تقاریر کررہے ہیں؟ جبکہ عوام اندھے نہیں ہیں انہیں معلوم ہے مگر بد قسمتی سے سیاسی رہنما سیاسی مخالفت کو اس نہج پر لے آئیں ہیں جس نے عوامی کو کند ذہن کردیا ہے اور آنکھیںبند کرکے اپنے پسندیدہ رہنما کی تقلید کرتے ہیں ، جس میں کسی پارٹی کا نظریہ یا سوچ نہیں بلکی شخصیت پسندی نوے فیصد ہے چونکہ عوام کو سیاسی سوچ یا نظریہ کی تربیت ہی نہیں دی گئی انہیں صرف ، بھٹو، بے نظیر ، میاں نواز شریف ، شہباز شریف ، مریم نواز، عمران خان کے پیچھے چلنے کی تربیت دی گئی ہے ، یا پھر علاقے کے جاگیر دار، سردار ، میر ، کے ہدائت پر کبھی ایک جماعت اور کبھی دوسرے جماعت جہاں انکا زمینی نا خدا کہے وہاں ووٹ ڈالنے کی تربیت دی گئی ، جو بانی پاکستان کی سوچ ، ملک کی اساس کی سوچ کیلئے سخت نقصان ہے ۔ سرحدوں کی حفاظت کیلئے ، بہادر افواج تو ہم نے رکھی ہے جو اپنا فریضہ انجام دیتی ہے مگر ملک کی نظریاتی سوچ کا کوئی وجود نہیں۔مرحوم مجید نظامی، ادارہ نوائے وقت ، نظریہ پاکستان ٹرست ملک کی نظریاتی سرحدوںکی مضبوطی کیلئے آواز یں بلند کرتا رہاہے اور تاحال کررہا ہے مگر اسکے لئے اجتماعی کوشش کی ضرورت ہے جس فی الحال نہیں۔ اسلام آباد کے حالیہ دھرنہ کو ہی لے لیں جسکی عمر زیادہ نہیں چونکہ اجتماع مدرسوں کے لوگوں ہے ، بہ حیثیت پاکستان وہ قابل احترام ہیں مگر وہاںسوچ وہ ہے جو مولانہ فضل الرحمان دینگے یا دے رہے ہیں ، 2014 دو سولہ روزہ دھرنے میں بھی ابتدائی طور ہر طاہر القادری کے مریدوں کی نفری تھی ، بعد میں پھر وہی شخصیت پسندی ، موجودہ وزیر اعظم عمران خان کی جادوئی شخصیت ، رات کو ہونے والے موسیقی کے پروگرام تھے، ایک میلہ کا سماع تھا اس وقت بھی کسی ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے ، مار دھاڑ ، جلا دونگا، آگ لگادونگا کی جذباتی تقاریر کرکے عوام کے متحرک کیا گیا آج بھی اسلام آباد میں وہی کچھ ہورہا ہے دنون جانب سے کسی سنجیدگی کا شائبہ نہیں ، حکومت کی جانب لگتا ہے کہ بہترین پالیسی مرتب کی گئی ہے جس سے کوئی اختلاف کرے یا پسند کرے ، حکومت کے کچھ مشیروں اور وزیر اعظم نے دھرنہ پارٹی یا حزب اختلاف کے خلاف الزامات اور دھمکی آمیز رویہ رکھا ہے جبکہ ایک مذاکراتی ٹیم بھی بنا دی گئی جو اسی ماحول میں مذاکرات کررہی ہے ، دوسری جانب حزب اختلاف ہے جن کا عملی طور پر مولانہ فضل الرحمان کے دھرنے سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا ، تقاریر کنٹینر پر ضرور کیں اور یقینا عوام کے جم غفیر کو دیکھ کر انکی بھی آنکھیں کھل گئیں، کیونکی موجودہ صورتحال میں پی پی پی ، مسلم لیگ ن سمیت کوئی جماعت اتنے افراد کو سڑکوںپر لانے سے قاصر ہیںعوام کو مولانا فضل الرحمان کے دھرنے میں جو سب سے زیادہ نا پسند بات ہے وہ انکے ساتھ مستقل کھڑے محمود اچکزئی ہیں جنکی پاکستان دشمن سوچ سے عوام اور دانشور واقف ہیں ،۔دوسری مولانہ اور انکی جماعت کا لیڈران کی جانب سے پاکستان کی پیشہ ور اور بہادر افواج جنہیں حرف عام میں ادارے کہا جاتا ہے اسکے خلاف بد زبانی اور پروپگنڈہ ہے مولانا کے مطالبات چاہے کچھ بھی ہوں مگر یہ دو معاملات عوام کیلئے تکلیف دہ ہیں۔ویسے بھی اب اس دھرنے کی عمر زیادہ طویل نہیں ، حکومتی اتحادی مسلم لیگ ق کے سربراہ مصالحت کا بیڑہ اٹھا چکے ہیں ۔