اینٹ کا جواب پتھر،وزیراعظم کا عزم

September 23, 2019 4:13 pm

مصنف -

اسد اللہ غالب
بھارت نے تمام عالمی قوانین کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کو ایک جیل خانے میں تبدیل کر دیا ہے اور اب چالیس روز سے اوپر گزر چلے ہیں کہ کرفیو بھی نافذ ہے۔ اسکول کالج بھی بند ہیں،ٹی وی اورا خبارات بھی بند پڑے ہیں۔ دکانیں اور ٹرانسپورٹ کا نظام مفلوج ہے ۔ کہیں پٹرول کا نام و نشان ہی نہیں۔ علاج معالجے کی سہولتیں نا پید ہیں۔ کشمیر کے باہر کے افراد کو اس علاقے میں داخلے کی اجازت نہیں اور خدا ہی جانتا ہے کہ بھارتی غاصب فوج اس تاریکی کے پردے میں کس بے دردی اور فاشست طریقے سے کشمیریوں کی نسل کشی کر چکی ہے۔
وزیر اعظم عمران خان نے شروع دن سے اعلان کیا تھا کہ وہ مظلوم کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ساری دنیا میں کشمیر کے سفیر بن کر دورہ کریں گے۔ اس ضمن میں پہلے قدم کے طور پر وہ سعودیہ کا رخ کرر ہے ہیں جہاں تیل کے ذخائر کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ نہ جانے کس طرف سے ڈرون آئے اور ان کی وجہ سے ا ئل ریفائینریز تباہ و برباد ہو گئیں۔ وزیراعظم عمران خان سعودی حکومت اور عوام سے اس نقصان عظیم پر اظہار افسوس کریں گے اور انہیں اپنی حمایت کی یقین دہانی کرائیں گے ۔ ساتھ ہی وہ ان کے سامنے کشمیریوں کی داستان غم اور ان کا جائز مقدمہ بھی بیان کریں گے اور ان کی عملی، اخلاقی، سیاسی اور سفارتی مدد کے لئے سعودی حکومت کو ان کی ذمے داریوں سے آگاہ کریں گے اور خاص طورپر مسلم امہ کو بیدار کرنے کے لئے اسلامی کانفرنس کے پلیٹ فارم کو متحرک اور سرگرم کرنے کی درخواست بھی پیش کریں گے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے باہمی تعلقات مفادات کے بجائے تاریخی ، تہذیبی، ثقافتی اور مذہبی رشتوں سے منسلک ہیں ۔اور ان میں کبھی اونچ نیچ دیکھنے میں نہیں آئی۔
وزیر اعظم اگلے قدم کے طور پر جنرل اسمبلی کی تیاریوں میں مصروف ہیں اور حکومت کی اب تک کی کاوشیں ثمر بار ہو رہی ہیں۔ کشمیر کا مسئلہ پہلی مرتبہ پچاس سال بعد سکیورٹی کونسل میں زیر غور لایا گیا۔ یورپی یونین نے بھی کشمیر میں بھارتی مظالم پر احتجا ج کیاا ور اقوا م متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل نے بھی کشمیریوں کے حقوق پر آواز اٹھائی۔ دنیا کے کئی ممالک میں پاکستانیوں ، کشمیریوں، سکھوں اور انسانی حقوق سے وابستہ افراد نے بھارت کے خلاف احتجاجی جلوس نکالے سب سے بڑی ریلی لندن میں نکالی گئی۔ پیرس میںمظاہرہ ہوا ۔ اسپین میں جلوس نکلا ۔ پرتگال تک میں احتجاج ہوا اور اب جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر جب مودی تقریر کرر ہے ہوں گے تو باہرمین ہیٹن اور نیو یارک کی سڑکوں پر لاکھوں افراد مودی کے خلاف مذمتی نعرے لگا رہے ہوں گے، عالمی شخصیا ت بے تابی سے وزیر اعظم عمران خان کی تقریر سننے کی منتظر ہیں مگر جیسا کہ وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارت کوئی ایسی شرارت کر سکتا ہے جس کی وجہ سے دنیا کی نظر کشمیر سے ہٹ جائے اور پاکستان کی دہشت گردی کی طرف مرکوز ہو جائے۔اسی لئے مظفر آباد کے عوامی جلسے میں وزیر اعظم عمران خان نے کشمیریوں اور پاکستانیوں سے کہا کہ فی الحال صبر سے کام لیں اور کنٹرول لائن کی طرف بڑھنے کے لئے ان کی کال کا انتظار کریں، وزیر اعظم کو بجا طور پر خدشہ ہے کہ اگر پاکستانی عوام نے لائن آف کنٹرول پر جانے کی کوشش کی تو وہ جس قدر بھی پر امن ہوں بھارت یہی پروپیگنڈہ کرے گا کہ یہ سب لوگ جہادی ہیں ۔ لشکر طیبہ اور جیش محمد کے ہیں حالانکہ ان جماعتوںکی قیادت ا ور ان کے کارکنوں کو قید کیا جا چکا ہے تاکہ بھارت کو فتنہ پردازی کا کوئی بہانہ ہاتھ نہ آئے۔
پاکستان نے کشمیر پر ہمیشہ ایک ہی بات کی ہے کہ یہ مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں حل کیا جائے اور کشمیریوں کو وہ حق خود ارادیت دیا جائے جس کا وعدہ یہ عالمی ادارہ کرچکا ہے۔ بھارت نے جب کہا کہ یہ دو طرفہ معاملہ ہے تو پاکستا ن نے کبھی انا کا مظاہرہ نہیں کیاا ور یہ کہا کہ آئو کمپوزٹ مذاکرات کے ذریعے اسے حل کر لیتے ہیں لیکن یہ مذاکرات جب بھی شروع ہوئے تو بھارت نے کسی نہ کسی بہانے سے بائیکاٹ کر دیا اور مذاکرات سے منہ موڑ لیا۔اب تو بھارت نے سلامتی کونسل کی قراردادوں کو بھی مسل ڈالا ہے اور شملہ معاہدہ ا ورا علان لاہور کو بھی اپنے ہی پائوں تلے روند ڈالاہے اور اپنے آئین میں ایک ایسی ترمیم کر دی جس کی نظیر دنیا وی تاریخ میں کہیںنہیں ملتی۔ کشمیر کو خصوصی حیثیت خود بھارت کے بانیوں نہرو اور پٹیل نے دی تھی۔ یہ اگر ستر برس سے بھارت کے لئے کسی خرابی کا باعث نہیں بنی تو اب اس کو ختم کرنے کی ضرورت کیا تھی۔مگر مودی حکومت نے آئو دیکھا نہ تائو اور ریاست کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے لئے بھارتی آئین کے آرٹیکل تین سو ستر کو منسوخ کر دیاا ور ساتھ ہی آرٹیکل پینتیس اے بھی ختم کر دیا جو کہ کوئی ایک سو سال پہلے مہا راجہ کشمیر نے نافذ کیا تھاا ور جس کی وجہ سے کوئی غیر کشمیری ریاست میں جائیداد نہیں خرید سکتا تھا۔ اس طرح کی خصوصی حیثیت بھارت نے اپنی چھ اور ریاستوں کو بھی آرٹیکل تین سو بہتر کے تحت دے رکھی ہے مگر ان کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کی اسے جرات نہیں ہوئی ، اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ یہ ریاستیں غیر مسلم آبادی پر مشتمل ہیں جبکہ مودی کو کشمیریوں کی مسلم اکثریت سے بیر ہے اور یہ بیر جن سنگھ ۔ آر ایس ایس کے زمانے سے ہندو اکثریت کولاحق ہے، وہ بھارت کو محض ایک ہندو ریاست بنانے پر تلے ہوئے ہیں جو کہ یو این او کے بنیادی انسانی حقوق کے چارٹر کے منافی ہے اور ہٹلر کے فاشزم کے ہتھکنڈوں سے مماثلت رکھتا ہے۔ اس آئینی تبدیلی سے مودی نے ایک ہتھوڑا چلایا ہے جس کی ضرب سے وادی کشمیر کے مسلمانوں کو ملیا میٹ کر دینا چاہتا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے گزشتہ روز طورخم کے دورے میں کہا ہے کہ کوئی ذی ہوش چالیس پینتالیس دنوں کے کرفیو کا خیال تک ذہن میںنہیں لا سکتا مگرمودی کا دماغ چل گیا ہے اوراسے دنیا نے روکنے ٹوکنے کی کوئی کوشش نہ کی تو یا درکھئے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان تصادم روایتی جنگ سے بڑھ کر ایٹمی تصادم کی شکل اختیار کر سکتا ہے اور اس سے جو تباہی مچے گی اس کی ذمے داری عالمی بے حسی پر عائد ہو گی۔وزیر اعظم عمران خان ستائیس ستمبر کو جنرل اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کے دوران ایک کوشش اور کریں گے کہ دنیا اپنی بے اعتنائی اور بے حسی کو ختم کرے اور بھارت کے دست جفا کو روکنے کی کوشش کرے۔ مظلوم کشمیریوں کے بنیادی حقوق بحال کروائے اور وادی کشمیر میںمعاملات زندگی کو بحا ل کروائے تاکہ دنیا کی انسانی حقوق کی تنظیمیں آزادانہ طور پر جائزہ لے سکیں کہ مودی کے جن سنگھی اور ہٹلرانہ عزائم کیا ہیں اور وہ کس فاشست طریقے سے کشمیریوں کی نسل کشی کر کے وادی کی آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔
وزیر اعظم عمران خان کہہ چکے ہیں کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائیگا۔ سوال یہ ہے کہ کیا مہذب دنیا خاموش رہ کر ایک عظیم انسانی تباہی کو یقینی بنانا چاہتی ہے۔