افواج پاکستان کے آپشنز!!!!

September 23, 2019 4:12 pm

مصنف -

محمد اکرم چوہدری

مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لیے پاکستان کو کیا کرنا پڑے گا، پاکستان اس بارے کیا کر سکتا ہے اور پاکستان کو اس بارے کیا کرنا چاہیے۔ اس حوالے سے ہمارا موقف بہت واضح ہے کہ کشمیر کا مسئلہ فیصلہ کن جنگ کے بغیر حل نہیں ہو سکتا۔ اس موقف سے اختلاف بھی کیا جاتا ہے اور اس کی حمایت کرنے والے بھی موجود ہیں۔ یہ دلیل بھی دی جاتی ہے کہ مسئلہ بات چیت کے ذریعے ہی حل ہو سکتا ہے۔ دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے ہیں، دنیا کے امن کو خطرہ ہے۔ دنیا ایٹمی جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ ایسی بہت سی باتیں ہوتی رہتی ہیں۔ اسی طرح ایک طبقہ اس حق میں ہے پاکستان کشمیر کے لیے اپنے ازلی دشمن سے حتمی اور فیصلہ کن جنگ کرے۔ یہ مسئلہ بات چیت سے حل ہونے والا نہیں ہے۔ دہائیاں گذر گئی ہیں کشمیریوں پر ظلم و ستم ہو رہا ہے۔ اگر یہ مسئلہ اتنا آسان ہوتا تو اب تک بات چیت کے ذریعے یہ مسئلہ حل ہو چکا ہوتا۔ بات چیت کی ضرورت پیش نہ آتی اور عین اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کو حل کیا جاتا۔ چونکہ بھارت نے طاقت کے زور پر کشمیریوں کے حقوق غصب کر رکھے ہیں۔ نو لاکھ سے زائد فوج کشمیریوں پر زندگی کو تنگ کر رہی ہے۔ اگر بھارت مسئلے کے منصفانہ حل میں دلچسپی دکھاتا تو یہ مسئلہ حل ہو چکا ہوتا۔ اس لیے ماضی کے حالات، واقعات اور شواہدات کو دیکھا جائے تو یہ سمجھنے میں کوئی مشکل نہیں رہتی کہ کشمیر کسی بات چیت ثالثی یا دلائل سے آزاد نہیں ہو گا۔ کشمیریوں کو بھارتی تسلط سے نجات دلانے کے لیے پاکستان کو آج یا کل میدان جنگ میں اترنا ہو گا۔ اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ بھارت کے حالیہ اقدامات، کشمیر کی حیثیت کو تبدیل کرنے، مقبوضہ وادی میں لاک ڈاون، ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاریوں، ذرائع ابلاغ پر پابندی، مواصلاتی رابطوں کو منقطع کرنے ، طبی سہولیات کو روکنے سمیت دیگر تمام فیصلوں کے بعد بھی اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ بھارت کسی بات چیت کی حمایت نہیں کرے گا بلکہ وہ کشمیر پر اپنی مرضی اور فائدے کے مطابق فیصلہ کرے گا۔ اس سلسلہ میں وہ کسی عالمی طاقت کے دباو میں آنے کے بجائے اپنے مفادات اور موقف کے حق میں فیصلہ کرے گا۔ کشمیریوں پر زندگی تنگ کرنے جیسے اقدامات کے بعد بھی کسی کو کوئی غلط فہمی ہے تو اسے علاج کی ضرورت ہے۔
پاکستانی فوج کے پاس کیا آپشنز ہیں۔ کیا افواج پاکستان کشمیر کے لیے کسی بیک ڈور چینل کے ذریعے مذاکرات اور ثالثی کے آپشن کی حمایت کر سکتی ہے، کیا فوج مسلسل بات چیت کے ذریعے تنازع کو حل کرنے کے موقف کے ساتھ کھڑی ہو سکتی ہے۔ افواج پاکستان کشمیر کو شہ رگ قرار دیتی ہے اور دہائیوں سے وہ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے مطالبے کو تسلیم کرتے ہوئے کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے مطالبے کی حمایت کرتی ہے۔ لیکن کیا بھارت ان نکات پر بات کرنے پر رضامند ہے اگر نہیں تو افواج پاکستان کے پاس کیا آپشن بچتا ہے کہ وہ اپنی شہ رگ سے دستبردار ہو جائے، وہ برسوں جس مسئلے کے ساتھ کھڑے رہے، جس مقصد کی حمایت کرتے رہے اس سے الگ ہو جائیں، اپنی شہ رگ کو دشمن کے قبضے میں دے دیں اور چپ چاپ الگ ہو جائیں۔ یہ سب باتیں کسی بھی ایٹمی ملک کی فوج کے لیے ممکن نہیں ہیں۔ افواج پاکستان پانچ اگست سے اب تک متعدد بار اپنے عزم اور کشمیر کاز کے ساتھ اپنی لگن اور جذباتی وابستگی کا بار بار اظہار کر چکی ہے۔ اس اظہار کے پیچھے ایک ہی دلیل ہے کہ کشمیریوں کی حمایت کے لیے آخری حد تک جائیں گے۔ آخری گولی اور آخری فوجی تک کشمیر کا ساتھ دیں گے۔ یہ آخری گولی پاکستان میں نہیں چلنی نہ ہی آخری فوجی کی باری آنے کا انتظار پاکستان میں بیٹھ کر کیا جانا ہے یہ سب اس حتمی اور فیصلہ کن جنگ کے اشارے ہیں جس کا اظہار ہم آج کر رہے اور اس سے پہلے بھی کئی بار کر چکے ہیں۔ بھارتی فوج کے افسران، بی جے پی کے سرکردہ سیاست دانوں کے خیالات اور مقبوضہ وادی میں بھارتیوں کے بڑھتے ہوئے مظالم خطے کو جنگ کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ بھارت جنگی جنون میں مبتلا ہے دنیا اس کے اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے کرفیو اٹھانے اور معمول کی زندگی بحال کرنے پر زور دے رہی ہے اور مقبوضہ وادی کو آزاد کرنے کے بجائے مقبوضہ کشمیر کو زبردستی اپنا حصہ بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ ان حالات میں افواج پاکستان کے پاس کوئی راستہ نہیں بچتا۔
افواج پاکستان کے پاس ایک ہی راستہ ہے اور وہ ہے ” جنگ” یہ کب ہوتی ہے اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے لیکن یہ بات طے ہے کہ افواج پاکستان کو اپنی شہ رگ بچانے کے لیے دشمن کی شہ رگ کاٹنا ہو گی۔ افواج پاکستان کو اپنی ساکھ بچانے کے لیے حتمی جنگ کا آپشن استعمال کرنا ہو گا۔، افواج پاکستان کو کشمیریوں سے کیے گئے وعدے نبھانے کے لیے بھارتیوں کا غرور میدان جنگ میں توڑنا ہو گا۔ فوج کے پاس کوئی آپشن نہیں ہے۔ اس کے آگے بھی جنگ ہے اور پیچھے بھی جنگ!!!
شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے، شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے، میدان جنگ سے بہتر بہادری جانچنے اور وعدوں کی تکمیل کا کوئی میدان نہیں ہے، جذباتی وابستگی کو ثابت کرنے اور مقصد کے ساتھ جڑے رہنے کا سب سے افضل پیمانہ جنگ کا میدان ہے۔ آج تک جنگ کے بارے نہیں سوچا یا امن کی خواہش میں نہیں کی تو اپنی شہ رگ بچانے کے لیے اب بھارت اور خطے کا امن داو پر لگانے سے گھبرانا نہیں چاہیے کیونکہ ہمارا مستقبل ہماری نئی نسل ہے اور نئی نسل کو بہادری کا سبق دینے کے لیے دشمن کے دانت کھٹے کرنا ضروری ہے۔