سندھ کی شہری سیاست عروج و زوال

September 23, 2019 4:07 pm

مصنف -

رضوان احمد فکری
سندھ کی شہری سیاست کو ایم کیو ایم کے چنگل سے نکالنے کے لئے کراچی کو کر تختہ مشق کامرکز بنا کرسیاسی پنڈت ، سیاسی چغادری، سیاسی و مزہبی جماعتیں ، پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کے بیشتر افراد و گروپس پرانے Perceptionsکی بنیاد پر شہری سندھ اور متحدہ قومی موومنٹ کو ختم کرنے اور اسکے لئے سینوں میں چھپی نفرت میں پیش پیش نظر آتے ہیں ۔ کوئی بلدیہ عظمی کراچی کو جواز بنا کر تو کوئی ڈی ایم سیز کو کوئی بھی سچ و حق اور ایم کیو ایم کی نظریاتی سیاست اور اسکی تباہی ، 22اگست 2016کی سیاہ رات اور 23اگست 2016کی نئی صبح پر بات کرنے کے بجائے بلدیہ فیکٹری ، 22مئی ، دیگر واقعات پر بات کرنے اور اسے 23اگست کی بدلی اور مثبت سیاست کرنے والی ایم کیو ایم کو حقائق کے آئینے میں ڈسکس کرنے کو تیار نہیں ۔ آج کی قیادت جو غلظیوں کا اعتراف بھی کر رہی ہے۔ پارٹی کے بانی سے مکمل لا تعلقی کر چکی ہے ۔ اسکے ساتھ درپیش مسائل ، اسکے شعبہ کے کے ایف کی بربادی ، ماضی میں ہونے والے واقعات سے آج کی ایم کیو ایم کو نکالنے کو تیار نہیں ۔ اگر بحث ہے تو ایم کیو ایم کے گروپس بننے کی ، ایم کیو ایم کے جلسے اگر ہوں اور نعرہ ایک مخصوص گروپ بانی کے لگوادے تو پوری دال کالی قرار، 22اگست 2016کے بعد ایم کیو ایم پاکستان کی مکمل تبدیل شدہ سیاست کو بھی فاروق ستار کی سیاست کا تڑکا لگا کر 5فروری 2018کو ایم کیو ایم پاکستان کی بربادی کا سامان کرکے بھی یہ سارے سیاسی پنڈت ، سیاسی چغادری، سیاسی و مزہبی جماعتیں ، پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا مطمئن نہیں ۔ 22اگست 2016کی بدترین غلطی اور ناقابل معافی عمل کے باوجود بانیان پاکستان کی جماعت کا برقرار رہنا ، چندے ، سپورٹرز اور ہمدردوں کو ایم کیو ایم پاکستان کی مالی مدد سے روکنے اور کارکنان کا اپنی جیبوں سے تنخواہوں سے مدد کرنا۔ اراکین اسمبلی و نمائندگان کی آدھی تنخواہیں پارٹی کو دینے کی مثبت روایت کی کہیں پزیرائی نہیں ۔ ایم کیو ایم پاکستان نے 25جولائی 2018کے انتخابات میں تمام تر پروپیگنڈوں اور مہمات کے باوجود 7اراکین قومی اسمبلی ، 22اراکین سندھ اسمبلی اور ایک سینیٹ کی نشست اپنی پرانی قیادت کے بغیر نکالی ہے۔ شہری سندھ کی سیاست زوال پزیر ضرور نظر آتی ہے لیکن ایم کیو ایم پاکستان کے وجود اور اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ بلدیاتی انتخابات جو 2020میں متوقع ہے اسکی بنیاد پر ایم کیو ایم کو بلدیاتی انتخابات میں نشستوں سے محروم کرنے کے لئے سخت مہم چلائی جا رہی ہے۔ جس کے لئے کچرا سیاست اور بارشوں کے بعد ایک مہم دیکھنے میں آئی ۔ میئر کراچی نے ایک جماعت کے رہنما کو پروجیکٹ ڈائریکٹر گاربیج لگا کر اسکے دعوی کو مکمل کرنے کا حدف دیا ۔ لیکن پروجیکٹ ڈائریکٹر نے ماتحت ہونے کے باوجود میٹروپولیٹن کمشنر کو طلب اور بریفنگ مانگنا شروع کردی ۔ میئر کراچی کو تنقید کا نشانہ اور انکی کردار کشی کی۔ جسکی وجہ سے وہ خدمت کے دیئے جانے والے موقع کو بھی ضائع کر بیٹھے۔ انکی زبان پر کنٹرول نہ ہونے کے بارے میں متعدد اینکرز نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ چاہے کوئی دبائو ہو لیکن ایم کیو ایم پاکستان کو مصطفی کمال کی چرب زبانی کی وجہ سے الائنس کی کوشش سے جان چھوٹ گئی۔ اسکے بارے میں بھی یہی کہا جاتاہے کہ متعدد کوششیں ہوئیں کہ ایم کیو ایم کا لفظ ختم کرادیا جائے یہ دبائو آفاق احمد پر بھی رہا کہ وہ ایم کیو ایم حقیقی کو بھی ختم کردیں ب۔ جس سے یہ واضع ہوتا ہے کہ ڈولفن مہم مہاجر سیاست کو کچلنے کی تھی۔ لیکن ایم کیو ایم پاکستان کو برقرار رکھنے اور اسکی انفرادی حیثیت رکھنے کا کریڈٹ ، کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، سینئر ڈپٹی کنوینر عامر خان ڈپٹی کنوینرز نسرین جلیل ، کنور نوید جمیل، کیف الوری، وسیم اختر، اراکین رابطہ کمیٹی کے سینئر ترین رہنما کشور زہرہ، سید امین الحق ،فیصل سبزواری، خواجہ اظہار الحسن ، اسلم آفریدی ، ارشد حسن ، شکیل احمد ، خالد سلطان ،ارشاد ظفیر، مطیع الرحمان ، عبدالقادر خانزادہ، فرقان اطیب ، عارف خان ایڈووکیٹ، ابوبکر صدیقی، راشد سبزواری، محفوظ یار خان ایڈووکیٹ، عبدالوسیم ، قمر منصورو دیگر شامل ہیں ۔ سندھ کی شہری سیاست میں کئی مرتبہ عروج و زوال آئے ہیں ۔ MQMکی سیاست جو سندھ کے شہری علاقوں کی سیاست میں اہم مقام رکھتی ہے کئی مرحلوں اور مشکلات سے گزری ہے۔ ماضی میں APMSOکے قیام کے چند سال بعد ڈاکٹر سلیم حیدر، شمعون ابرار ،سید کلیم جیلانی اور مختلف افراد نے کنارہ کشی کرکے الگ جماعتیں بنائیں جس میں مہاجر اتحاد تحریک بھی شامل تھی ۔ بعد ازاں شمعون ابرار نے بھی ڈاکٹر سلیم حیدر سے الگ ہوکر ایک اور جماعت بنا لی۔ مہاجر قومی موومنٹ 18مارچ 1984کو بنی اور ایک سال بعد بڑی بغاوت ہوئی جس میں وائس چیئرمین عبدالمجید ، سیکریٹری اطلاعات شیخ جاوید ، آرگنائزر حیدرآباد شبیر ہاشمی اور متعدد افراد شامل تھے جنہیں تحریک سے فارغ کردیا گیا۔ مہاجر سیاست بانی ایم کیو ایم سے پہلے بھی تھی جس میں کراچی اور حیدرآباد کے مئی رہنما شامل تھے جس میں عثمان کینیڈی ، ممتاز جنیدی، نوابزادہ راشد اور مختلف افراد شامل ہیں ۔ کراچی صوبہ تحریک ، مہاجر پنجابی پختون اتحاد بھی ایم کیو ایم کے قیام سے قبل کے ہیں ۔ کراچی اور دیگر شہروں پر مزہبی جماعتوں کی گرفت تھی۔ اسکے باوجود ذوالفقار علی بھٹو نے کوٹہ سسٹم کی تلوار لٹکا کر شہری سندھ کو 40فیصد اور دیہی کو 60فیصد کی شرطوں میں لگا کر لسانیت اور سندھی مہاجر کی سوچ کو جنم دیا۔ مردم شماری میں اعداد وشمار ذوالفقار علی بھٹو نے کراچی کی آبادی کم کرائی۔ سندھی آبادیوں کی تعداد بڑھانے کے لئے الاٹمنٹس کی گئیں ۔ لیکن سندھی انہیں بیچ بیچ کر واپس گائوں چلے گئے۔ لسانی بل اور لسانی فسادات بھی پی پی پی کے ذالفقار علی بھٹو ، ممتاز بھٹو اور دیگر کا کارنامہ ہے۔ مہاجروں کو متروکہ املاک پر قبضوں کا سامنا تو پہلے ہی تھا لیکن لسانی فسادات کے ذریعے دادو، نواب شاہ ، شہداد پور ، لاڑکانہ، ٹنڈوالہ یار کے تعلقوں چمبڑChumbur، جھنڈو مری ، نصر پور، مورو، نوشہروفیروز، گھوٹکی، پنوں عاقل سمیت متعدد علاقوں سے نقل مکانی پر مجبور کیا گیا۔ دادو ، میہڑ، خیرپور ناتھن شاہ، شکار پور، جیکب آباد، محراب پورسمیت متعدد علاقے آج تک مہاجروں کے لئے نو مہاجر نو ایریاز ہیں انکی املاک پر سندھی وڈیروں کا قبضہ ہے۔ دادو کا شاہانی محلہ تعلیم یافتہ مہاجروں کا محلہ تھا جہاں نام کو بھی اردو بولنے والے مہاجر نہیں ۔ کراچی کی ٹرانسپورٹ پر ایک مخصوص کمیونٹی حاوی تھی اور اکثر اردو بولنے والوں کی معمولی تکرار پر پٹائی ہو تی تھی۔ کراچی کے تعلیمی اداروں کی گرانٹ نہ ہونے کے برابر تھی۔ ملازمتوں میں لکھا ہوتا تھا کہ کراچی ، حیدر آباد اور سکھر کے افراد درخواستیں دینے کی زحمت نہ کریں۔ وفاق اور صوبے دونوں کا رویہ سندھ کے شہری علاقوں کے ساتھ متعصبانہ تھا۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ اسوقت بھی مہاجر اور سندھ کے شہری علاقوں کے عوام انہی مسائل کا گیارہ بارہ سال سے دوبارہ شکار ہوگئے ہیں ۔ جس سے یہ بات واضع ہوتی ہے کہ مہاجر کمیونٹی کو صرف ایم کیو ایم جب حکومت میں ہوتی تھی اسکے بغیر حکومت چلانا نا ممکن ہوتا تھا اس بنیاد پر ملازمتیں ملیں ۔ لیکن جب ایم کیو ایم باہر ہوئی استحصالی عمل شروع کرکے صورتحال کو خراب کیا گیا۔ ایم کیو ایم نے جب زور ڈالا اسے بلیک میلنگ کہا گیا۔ لیکن 22اگست 2016کے بعد اردو بولنے والوں کا دل جیتنے کے بجائے ان پر عرصہ حیات تنگ کردیا گیا۔ MQMنے 1990کے بعد 1991میں ایک بڑی بغاوت کا بھی سامنا کیا۔ جس میں بڑی تعداد ایم کیو ایم سے فارغ کی گئی۔ 19جون 1992میں یہ گروپ ایم کیو ایم حقیقی کے طور پر سامنے آیا لیکن متحدہ قومی موومنٹ بدترین آپریشن کے باوجود مذید مضبوط ہوکر سامنے آئی۔ بعد کے الیکشن میں بھی ایم کیو ایم پہلے سے زیادہ ووٹ لیکر کامیاب ہوئی۔ بائیکاٹ بھی اتنے موثر کئے گئے کہ یہ کہنے میں کوئی عار نہیں رہی کہ ایم کیو ایم کو عوام کی مکمل حمایت حاصل تھی۔ سوال یہ ہے کہ ایم کیو ایم عروج کے بعد زوال اور زوال کے بعد عروج پاتی رہی ۔ اب اس پر بد اعتمادی کیوں ؟ جبکہ 1978سے طلبہ سیاست اور 1984میں ایم کیو ایم کا قیام ان زیادتیوں کا نتیجہ تھا جو اردو کمیونٹی سے ہوتی رہی۔ بشری زیدی کیس سے پہلے ایم کیو ایم موجود نہیں تھی۔ لیکن عوام کا احساس محرومی ہی تھا جو ری ایکشن بن کر آیا۔اب دوبارہ حالات اسی رخ پر ڈالے جا رہے ہیں ۔ ایم کیو ایم نے دوران سیاست فاش غلطیاں کی ہیں ۔ جس پر وہ کہتے بھی آئے ہیں کہ ہم ماضی کی کوئی غلطی نہیں دہرائیں گے۔ ایک ایسی صورتحال میں جب اسکے خلاف حقیقی، پی ایس پی، ایم کیو ایم لندن ، ڈاکٹر فاروق ستار گروپ سب کام کر رہے ہیں ۔ مہاجر کمیونٹی کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے ایم کیو ایم پاکستان حکومت میں ہونے کے باوجود حالات کے جبر اور سخت ترین حالات اور پابندیوں کا شکار ہے۔ اسکے دفاتر اسے واپس نہیں کئے جا رہے۔ اسکے فلاحی ادارے کے کے ایف کو تقریبا ختم کردیا گیا ہے۔ اسکو چلانے کے لئے کسی ڈونر کو مدد کی اجازت نہیں دوسری جانب کراچی کے ووٹ بنک کو ایم کیو ایم پاکستان سے چھیننے کے لئے عام آدمی کو بد ظن کیا جا رہا ہے۔ سندھ کی شہری سیاست کو ایم کیو ایم کے چنگل سے نکالنے کے لئے کراچی کو تختہ مشق کامرکز بنا کرسیاسی پنڈت ، سیاسی چغادری، سیاسی و مزہبی جماعتیں ، پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کے بیشتر افراد و گروپس پرانے Perceptionsکی بنیاد پر شہری سندھ اور متحدہ قومی موومنٹ کو ختم کرنے اور اسکے لئے سینوں میں چھپی نفرت میں پیش پیش نظر آتے ہیں ۔ کچرے اور کے ایم سی میں اختیارات نہ ہونے پر بھی سیاست کی جا رہی ہے ۔ میئر کراچی وسیم اختر کے خلاف مہم کے علاوہ بلدیہ اور ڈی ایم سیز جو ایم کیو ایم کے پاس ہیں صرف انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ فنڈز کی کمی ہونے کی وجہ سے مختلف محکمے غیر فعال اور موثر نہیں رہ پا رہے۔ کے ایم سی سے چھینے گئے محکمے لوکل ٹیکس، کے ڈی اے ، کراچی واٹر ایند سیوریج بورڈ، ایل ڈی اے ، ایم ڈی اے، بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، ماسٹر پلان ، ایجوکیشن ، ہیلتھ، میڈیکل، سالڈ ویسٹ مینیجمنٹ ، لٹریسی ، سوشل ویلفیئر ، سن شیڈ ، آکٹرائے، سی ڈیوزو دیگر محکمے شامل ہیں ۔ سٹی گورنمنٹ کے نظام میں لیبر، کلچر، کوو آپریٹو سوسائٹیز، پلاننگ، لینڈ کنٹرول مکمل ماسوائے کنٹومنٹ بورڈز ، ڈیزاسسٹر مینیجمنٹ بھی موجود تھے۔ وفاق اور صوبہ کی مکمل فنڈنگ موجود تھی۔ این ایف سی ایوارڈ بھی صوبوں کو مل رہا تھا۔ لیکن سپریم کورٹ کی ہدایت پر ہونے والے بلدیاتی انتخابات سے قبل سندھ حکومت نے لوکل گورنمنٹ کا نظام بدل دیا ۔ 5دسمبر2015کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں اختیارات منتقلی سے قبل ڈی ایم سیز اور انکی تعداد میں اضافہ کرتے ہوئے کورنگی کی نئی ڈی ایم سی بنائی گئی۔ کے ایم سی کے ذریعے ملنے والے شیئر کو براہ راست ڈی ایم سیز کو دینے کا حکم نامہ جاری کیا گیا۔ میئر بننے سے قبل کے ڈی اے کو الگ، کے ڈی اے اور واٹر بورڈ میں میئر کی نمائندگی ختم کردی گئی۔ ڈیولپمنٹ کے لئے سندھ گورنمنٹ نے کے ایم سی کے اوپر پروجیکٹ ڈائریکٹر لگا دیا۔ ڈائریکٹر جنرل ٹیکنیکل کے ہوتے ہوئے پروجیکٹ ڈائریکٹر کی تخلیق کے بعد یونیورسٹی روڈ، صفورا۔میمن اسپتال روڈ اور دیگر شاہراہیں جو کے ایم سی کا فنکشن تھیں ۔ میئر سے پہلے ایڈمنسٹریٹرز کو سارے اختیارات دیئے گئے لیکن میئر کے آنے سے پہلے لوکل ٹیکس ، ایجوکیشن ، میڈیکل، کے ڈی اے ، ماسٹر پلان سب محکمے چھین کر میئر کراچی کو لنگڑی لولی اور ہاتھ پائوں بندھی کے ایم سی ملی۔ جسے مختص فنڈز بھی نہیں ملے۔جبکہ سالڈ ویسٹ کا محکمہ الگ کرکے چائنیز کمپنی کو ٹھیکے دے دیئے گئے۔ جنکی گاڑیاں اور مشینریز پورٹ پر کلیئرنس کے لئے پڑی تھیں ۔ کچرے کی ابتر حالت دیکھ کر ایم کیو ایم نے میئر کراچی کی مدد کرتے ہوئے کراچی میں سو روزہ صفائی مہم چلائی جس سے کچرا اٹھا۔ نالوں کی صفائی بھی ہوئی لیکن عوام نے نالے دوبارہ کچرے سے بھر دیئے۔ میئر کراچی اور بلدیاتی قیادت نے سیوریج پر بہت محنت کی جبکہ محکمہ سے تعاون نہیں تھا جسکے بعد بہتری آئی لیکن بلدیہ کراچی کی اپنی ریکوری کے ایم سی کے ڈی اے کی لڑائی ، انسدا تجاوزات کے چالانوں کی بندش، عدالت مین جمع ہونے والے پیسوں ، کے الیکٹرک ، اداروں پر واجبات کی عدام ادائیگی کی وجہ سے متاثر ہے۔ کے ایم سی کے فنڈز کی کٹوتی تو ہو رہی ہے لیکن اسکے واجبات نہیں دلائے جا رہے۔ اب ان محکموں کی بات جن پر میڈیا ٹرائل ہو رہا ہے۔ فنڈز مختص کرنا ادارے کی ذمہ داری ہے ۔ لیکن فنڈز نہ ملنا حکومت سندھ کا معاملہ ہے۔ جہاں کام نہیں ہے وہاں دیگر محکموں کے ملازمین لگا دیئے جاتے ہیں لیکن گھوسٹ ملازم کی اصطلاح درست نہیں ۔ ایڈیشنل سیکریٹری بلدیات اورحکومت سندھ کے دیگر افسران سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر ایک ایک ملازم کی شناخت کرچکے ہیں ۔ بائیو میٹرک کے بغیر بنک سے تنخواہ نہیں لی جا سکتی ۔ اس لئے کراچی کے خلاف سیاسی مہم کراچی کو مذید احساس محرومی میں مبتلا کرنے کی کوشش نظر آتی ہے۔ جو مناسب نہیں ۔ حقائق آشکار کئے جائیں سیاست نہ کی جائے۔ سوچ بدلنے کی ضرورت ہے ۔ ایم کیو ایم پاکستان یا میئر کراچی کو ٹارگٹ کرکے کراچی کا امیج بھی خراب کیا جا رہا ہے۔ 70فیصد وفاق اور 90فیصد سندھ کو ٹیکس دینے والے شہر کے لئے مہم کسی صورت مفاد میں نہیں ۔ عوام پر فیصلہ چھوڑ دیا جائے مصنوعی طریقے نتائج نہیں بدل سکتے۔ مہم ایم کیو ایم پاکستان کا ووٹ بنک گرانے میں موثر نہیں ہوسکتی کیونکہ عوام بہتر منصف ہوتے ہیں یہی سوچ رکھنے اور ماضی کی ایم کیو ایم سے ایم کیو ایم پاکستان کو مخصوص مفاد کے لئے استعمال کرنے سے حقیقت نہیں بدلے گی ۔ آنے والا وقت سب تلٹ پلٹ کرسکتا ہے اس لئے تعصب کے بت گرا کر انصاف اور اصولوں پر عمل کیا جائے۔