کوئی راستہ ہے جنگ کے علاوہ؟؟؟؟؟

August 9, 2019 4:45 pm

مصنف -

محمد اکرم چوہدری
کیا مسئلہ کشمیر امریکہ، انگلینڈ، اقوام متحدہ، یورپ، آسٹریلیا یا دیگر ممالک کا مسئلہ ہے، یقینا نہیں یہ پاکستان کا مسئلہ ہے بلکہ یہ پاکستان کی شہ رگ ہے۔ اگر یہ پاکستان کا مسئلہ ہے تو دنیا اسے حل کیوں کرے گی، اگر یہ پاکستان کی شہ رگ ہے تو اسکی حفاظت دنیا کیوں کرے گی۔ یہ جس کا مسئلہ ہے اسے ہی حل کرنا پڑے گا۔ اگر دنیا نے یہ مسئلہ حل کرنا ہوتا تو اب تک کشمیریوں کو بھارتی فوج کے ظلم و ستم سے نجات مل چکی ہوتی۔ دنیا نے یہ مسئلہ نہ پہلے حل کیا تھا نہ مستقبل میں اس حوالے سے کوئی پاکستان کا ساتھ دے گا البتہ بیانات کی حد تک اگر کوئی بول دے تو ہمیں اس خوش فہمی میں مبتلا ہونے کے بجائے زمینی حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلے کرنے چاہئیں۔ کشمیر کے حوالے سے اب تک عالمی طاقتوں اور اقوام متحدہ کا کردار مایوس کن رہا ہے۔ یہ کیسی اقوام متحدہ ہے کہ ایک طاقتور ملک اپنی طاقت کا غلط استعمال کرتے ہوئے دہائیوں سے مقبوضہ وادی کے رہنے والوں پر ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑ رہا ہے اور ہم صرف اسی پر خوش ہیں کہ فلاں نے کشمیر کے حق میں بیان جاری کر دیا ہے، فلاں نے ثالثی کی پیشکش کر دی، فلاں بہت رنجیدہ ہے، فلاں کو کشمیریوں کا بہت دکھ ہے۔ اس طرح کے روایتی بیانات کا کشمیریوں کو اب تک کوئی فائدہ نہیں پہنچا، الٹا انکی حوصلہ شکنی ہوئی ہے کہ دنیا کی تمام بڑی طاقتیں، ملک اور رہنما مل کر بھی ان کی آزادی کے لیے کچھ نہیں کر سکے۔ یوں مذمت مذمت کے اس کھیل میں دہائیاں گذر گئیں لیکن مسئلہ کشمیر جیسا تھا ویسا ہی رہا۔ اب بھارت نے ظلم و بربریت کی نئی داستان رقم کرتے ہوئے جو اقدامات کیے ہیں اس نے کٹھ پتلیوں کی آنکھیں بھی کھول دی ہیں۔ بھارت کے پسندیدہ فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی بھی بھارت کے ظلم پر چیخ اٹھے ہیں۔
سرینگر، پلوامہ، بارامولا اور دیگر علاقوں میں کشمیری عوام آرٹیکل تین سو ستر اور پینتیس اے کے خاتمے کے خلاف سڑکوں پر آ چکی ہے۔ غاصب بھارتی فوج نے نہتے کشمیریوں پر پیلٹ گنز اور آنسو گیس کا استعمال کیا ہے۔ اپنا حق مانگنے کے لیے احتجاج کرنے والوں کے تمام وسائل کو استعمال کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مہلک ہتھیاروں کے استعمال کی بھی اطلاعات آ رہی ہیں۔ اس احتجاج میں اب تک سو سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں جبکہ چھ افراد شہادت کا رتبہ حاصل کر چکے ہیں۔ بھارت نے اپنے آئین میں تو تبدیلی کر لی ہے کیا بھارت کے آئین میں کوئی ایسی شق موجود ہے جو کشمیریوں سے زبان چھین لے، کشمیریوں سے جدوجہد کا عزم چھین لے، کیا کوئی ایسی شق موجود ہے جو کشمیریوں کو گھروں سے نکلنے کی ہمت ختم کر دے، کیا بھارت کے آئین میں کوئی ایسی شق موجود ہے جو کشمیریوں کو تحریک آزادی کو ختم کر سکے۔ یقینا نہیں کشمیریوں نے شہادتوں کا نذرانہ پیش کر کے اب اس تحریک کو زندہ رکھا ہے اور آج جب بھارت نے ان کے مستقبل کا فیصلہ کرتے ہوئے ان سے پوچھنا تک گوارا نہیں کیا تو بہادر کشمیریوں نے ایک مرتبہ پھر اپنا حق چھیننے کی کوشش کرنے والے بھارت کو اس کی اوقات یاد دلا دی ہے۔ نریندر مودی سرکار نے اس احتجاج کو روکنے کے لیے، اس احتجاج کو محدود رکھنے اور عوام کو بے خبر رکھنے کے لیے تمام ذرائع بند کر رکھے ہیں۔ وادی میں کئی روز سے انٹرنیٹ بند ہے، ٹیلی ویڑن اور ٹیلی فون بھی بند کر دیے گئے ہیں جبکہ کئی اخبارات بھی سخت کرفیو کی وجہ سے شائع نہیں ہو سکے، کیا یہ ہے سیکولر بھارت، کیا یہ ہے دنیا کی سب سے بڑی نام نہاد جمہوریت کی دعویدار ریاست کے اقدامات جہان زبانیں بند کروا دی گئی ہیں، لوگوں کو گھروں تک محدود کر دیا گیا ہے۔ کیا اب بھی دنیا کو بھارت کے متعصب اور ظالم ہونے کی کوئی اور دلیل چاہیے؟؟؟
قارئین کرام نریندر مودی کی حکومت انتہا پسندوں کی حکومت ہے اس عرصے میں بھارت میں انتہا پسندی کو فروغ ملا ہے اور کشمیریوں کے ساتھ ناروا سلوک اس کی واضح اور تازہ ترین مثال ہے۔ بھارت کے اندر سے بھی اس فیصلے کے خلاف احتجاج ہو رہا ہے۔ بھارت کے اندر بھی لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مسلم نسل کشی کی ایک بڑی لہر شروع ہونے کو ہے۔ نریندر مودی اس مہم کے قائد ہیں۔ امریکی قائم مقام نائب وزیر خارجہ برائے جنوبی و وسطی ایشیا ایلس ویلز نے بھارت کی طرف سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے متعلق اقدامات سے امریکہ کو آگاہ کرنے کی خبروں کی تردید کر دی ہے۔ اس سے پہلے ڈونلڈ ٹرمپ کے ثالثی کے بیان پر بھارت نے امریکی صدر کے اس بیان کی تردید کر دی تھی یوں یہ دونوں ملکر تردید تردید کا کھیل کھیل کر کشمیری عوام کا خون کرنے کے لیے تیاریوں میں ایک دوسرے کا بھرپور ساتھ دے رہے ہیں۔ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے بھارتی اقدامات پر واضح موقف اختیار کرتے ہوئے آخری حد تک جانے کا اعلان کیا تھا گذشتہ روز بھی پارلیمنٹ میں کشمیر کے حوالے سے تقاریر ہوئی ہیں پارلیمنٹیرینز نے اہم مشترکہ جلاس کو بھی روایتی سیاسی اجلاس بنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ اس اہم ترین موقع پر پارلیمنٹ اپنا کردار ادا کرنے اور عوام کے نمائندے دنیا کے سامنے اتحاد، یگانگت اور مشترکہ موقف دینے میں ناکام رہے ہیں۔ حکومت اور حزب اختلاف اس موقع پر بھی غیر سنجیدہ رویے کا شکار رہی۔ ان حالات میں کیا پارلیمنٹ کا کردار یہ ہونا چاہیے تھا، کیا عوام اپنے نمائندوں سے ایسے رویے کی توقع کر رہی تھی، ہرگز نہیں۔
مسئلہ کشمیر کا حل کسی بھی قسم کی سفارت کاری اور بات چیت سے ممکن نہیں ہے۔ اس کا حل صرف اور صرف جنگ ہے۔
، وہ جنگ پاکستان ہارے یا جیتے لیکن حقیقت یہی ہے کہ جنگ کے بغیر پاکستان کشمیریوں کو ان کا حق نہیں دلا سکتا۔ بھارت بغیر جنگ کے کبھی کشمیریوں کو آزادی نہیں دے گا۔ اگر پاکستان آج بھی یہ سمجھتا ہے کہ اس جنگ میں کوئی عالمی طاقتیں اس کا ساتھ دیں گی تو فیصلہ سازوں کو اس خوش فہمی سے باہر نکل آنا چاہیے یہ جنگ پاکستان کی ہے اور اسے اس جنگ کو تنہا ہی لڑنا پڑے گا اس کے علاوہ مسئلہ کشمیر کا کوئی حل نہیں ہے۔