درخواست تو مودی کے بڑوں نے کی تھی

August 9, 2019 4:43 pm

مصنف -

جاوید صدیق
مودی حکومت کے وزیر داخلہ امیت شانے کہا ہے کہ ہم نے کشمیر کو بھارت کا حصہ بناکے تاریخی غلطی کو درست کردیا امیت شااور اس کے گرو نریندر مودی دونوں جواہر لعل نہرو کو اس بات کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں کہ کانگریس کے اس سرکردہ رہنما نے کشمیریوں کو ان کے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا حق دینے کا جو وعدہ کیا تھا وہ تاریخی غلطی تھی نریندر مودی کو یہ بھی پتہ ہونا چاہئے کہ کن حالات میں جواہر لعل نہرو کشمیر میں سیز فائر کرانے کی درخواست لے کر سیکیورٹی کونسل میں گیا تھا اکتوبر1948 میں جب کشمیری مجاہدین اور قبائلی علاقوں سے آنے والے جہادیوں نے بھارتی فوج کے چھکے چھڑا دئے تھے اور مجاہدین کی کشمیر کی طرف پیشقدمی جاری تھی کہ نہرو کو یہ ڈر لگا کہ کشمیر بھارت کے ہاتھ سے نکل رہا ہے اس لئے وہ سیز فائر کی درخواست لے کر اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے پاس پہنچ گیااور اس بات سے اتفاق کرلیا کہ بھارت اقوام متحدہ کی طرف سے قائم کئے گئے کمیشن کے تحت کشمیر میں استصواب رائے کرائے گا اور کشمیر یوں کو یہ حق ہوگا کہ وہ پاکستان کے ساتھ الحاق کریں یا بھارت کے ساتھ ۔
یہ بھارت ہی کی درخواست تھی جس پر اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل نے قرارداد نمبر38 کی منظور دی یہ منظوری1948 میں دی گئی قرارداد 38 میں کونسل نے کہا تھا کہ علاقے میں امن و استحکام کیلئے کشمیر میں استصواب رائے کرایا جائے گا پاکستان اور بھارت دونوں استصواب رائے کیلئے تعاون کریں گے اس کیلئے خصوصی کمیشن بنایا جائے گاکمیشن کی یہ ذمہ داری ہوگی کہ وہ اس استصواب رائے تیاریوں سے سیکیورٹی کونسل کو آگاہ رکھے پاکستان سے اس قرارداد کے ذریعے کہا گیا تھا کہ وہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ساتھ لڑنے والے قبائلیوں کو فوری طور پر علاقے سے نکالے 1948 کی کشمیر کی جنگ کے بارے میں میجر جنرل اکبر جو جنرل طارق کے خفیہ نام کے ساتھ مجاہدین کی کمان کر رہے تھے اپنے کتاب RAIDERS IN KASHMIR میں 1948 کی پاک بھارت جنگ کی تفصیلات لکھی ہیں جنرل اکبر نے لکھا کہ قبائلی کشمیری مجاہدین کی مدد کیلئے آئے تھے وہ کبھی جنگی آپریشن میں شریک نہیں ہوئے انہیں بھارتی فوج کو ہراساں HARASSING مشن دیا گیا تھا قبئلیوں کو محاذ جنگ کی مختلف چوٹیوں پر متین کیا گیا تھا جہاں سے وہ بھارتی فوج پر وقفے وقفے سے فائرنگ کرتے اور اسے ہراساں کرتے رہے RAIDERS IN KASHMIR میں میجر جنرل اکبر نے لکھا کہ اس وقت کے پاکستانی فوج کے کمانڈر انچیف سے جو انگیریز تھا میں نے درخواست کی کہ مجاہدین کیلئے کشمیر کے محاذ پر دو مشین گنیں بھیجی جائیں لیکن انگریز کمانڈر انچیف نے انکار کردیا اس کے باوجود مجاہدین اور قبائلیوں نے بھارتی فوج پر اس قدر دبائو ڈالا کہ نہرو کو مجبورا جنگ بندی کی درخواست لے کر سیکیورٹی کونسل سے رجوع کرنا پڑا اقوام متحدہ نے مداخلت کرکے کشمیر میں جنگ بند کرادی ۔
میجر جنرل اکبر نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ اگر چند روز مزید سیز فائر نہ ہوتا تو مجاہدین سرینگر میں داخل ہوجاتے خود جنرل اکبر دریا کو عبور کرکے رات سرینگر چلے جاتے اور حالات کا جائزہ لے کر واپس آجاتے نہرو کی درخواست پر سیکیورٹی کونسل نے جنگ بندی کرادی ۔
پاکستان کے اس وقت کے وزیر اعظم لیاقت علی خان نے سیز فائر کی تجویز سے اتفاق کرلیا اس سیز فائر سے پاکستانی مجاہدین جنہیں بھارت ہمیشہ پاکستان آرمی کے ریگو لر سولجرز کہتا رہا اور دعوی کرتا رہا کہ پاک فوج کے دستے مجاہدین کے روپ میں بھارتی فوج کے ساتھ لڑ رہے ہیں اس سیز فائر سے پاکستانی فوج اور مجاہدین کے اندر سخت مایوسی پیدا ہوئی کشمیر کی جنگ میں میں حصہ لینے والے افسروں نے ہی راولپنڈی سازش کیس کی مبینہ طور پر منصوبہ بندی کی جنہیں بعد میں گرفتار کرلیا گیا ان افسروں پر الزام لگا کہ وہ وزیر اعظم لیاقت علی خان کی حکو مت کا تختہ الٹنے کی سازش کر رہے تھے ان پر مقدمات چلائے گئے اور سزائیں بھی دی گئیں ایوب خان نے اپنی کتاب FRIENDS NOT MASTERS میں اس واقعہ کو تفصیلا بیان کیا ہے ۔
بات ہورہی تھی کہ جواہر لعل نہرو نے خود کشمیر میں سیز فائر کی درخواست دی بلکہ استصواب رائے کرانے کا بھی وعدہ کیا اقوام متحدہ نے استصواب رائے کرانے کیلئے جو کمیشن بنایا تھا امریکہ کی سابق وزیر خارجہ میڈلین البرائیٹ کے والد اس کمیشن کے پہلے ایڈ منسٹریٹر مقرر ہوئے تھے بھارت اور پاکستان سے کہا گیا کہ وہ علاقے سے اپنی اپنی فوجیں نکالیں بھارت سے کہا گیا کہ وہ امن و امان قائم رکھنے کیلئے مقامی افراد کی خدمات حاصل کرے بھارت نے اس پر اعتراض کیا کہ پاکستان اور بھارت کو اس معاملے میں مساوی کیوں رکھا جارہا ہے بھارت نے یہ اعتراض بھی کیا کہ پاکستان کو جارح کیوں نہیں قرار دیا گیا بھارت کی اس ہٹ دھرمی اور بدنیتی کی وجہ سے آج تک کشمیر میں استصواب رائے نہیں ہوسکا کشمیر پر1948 کے بعد کم سے کم تین جنگیں ہو چکی ہیں اس سال ہونے والی پاک بھارت فضائی جھڑپ تازہ ترین لڑائی ہے ۔
آرٹیکل 370 جواہر لعل نہرو ، شیخ عبداللہ اور میلا بھائی پٹیل میں طویل صلاح مشورے کے بعد بھارت کی آئین ساز اسمبلی سے منظور کرائی تھی مودی نے اپنے بڑوں کا بھی خیال نہ کیا اور اس نے آرٹیکل370 آئین سے خارج کردیا لگتا ہے بھارت کا یہ مجرد وزیر اعظم اس خطے کو آگ کے شعلوں میں دھکیل کر رہے گا ۔