Jiddat

شہ رگ کشمیر اور حکومت پاکستان کے ناکافی اقدامات

August 9, 2019 4:41 pm

مصنف -

بادشاہ خان
پہلی بات جو عرض کرنا چاہتا ہوں ،سیالکوٹ سے اوپر کی جانب پاکستان اور بھارت کے بیچ ایل او سی یعنی لائن آف کنٹرول ہے ،انٹرنیشنل بارڈر نہیں،اسے روندنے کا وقت آگیا ہے ،ورنہ بھارتی اقدام کے بعد اگر یہی خاموشی رہی تو یہ انٹرنیشنل بارڈر بن جائے گا، یہ لکھنے کی بنیادی وجہ یہ ہے ،کہ بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات ،تجارتی تعلقات ،ثقافتی تعلقات ختم کرنے اور اقوام متحدہ سمیت ،اوآئی سی میں جانے سے ہندوستان پر کوئی اثر نہیں پڑھے گا، بھارتی حکومت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے اور مقبوضہ کشمیر میں مزید فوج تعینات کرکے اپنا لائحہ عمل واضح کردیا ہے جنگ سے مسائل حل نہیں ہوتے ایسا بھی نہیں ہے ،دفاع اگرنہ ہو تو پھر ہندوستان مزید آگے بڑھے گا،ردعمل کا وقت پاکستان کا ہے ،جب تک پاکستان مضبوط ردعمل نہیں دکھائے گا ،دنیا بھی درمیان میں آنے کو تیار نہیں ، پتہ نہیں کیا وجہ ہے، کہ پاکستانی ردعمل سست نظر آرہا ہے ،اس سے مظلو م کشمیری بھی مایوس ہوسکتے ہیں ، یہ مسئلہ صرف کشمیریوں کا نہیں پاکستان کی شہ رگ کا ہے ،قوم مسئلہ کشمیر پرریاستی اداروں کی جانب دیکھ رہی ہے ،امت مسلمہ اس پر کیا ردعمل دے گی یا نہیں ،مسئلہ ہمارا ہے ، دوسروں کی جانب دیکھنے سے زیادہ خود عمل کرنا ہوگا،بقا کی جنگ ہے دیر بڑے نقصان سے دوچار کرسکتی ہے آگے بڑھو اور الکفر ملت واحد کو منہ توڑ جواب دو اور ثابت کرو کہ مسلمان جسم واحد کی طرح ہیں، ہمارے جس حصے میں بھی تکلیف ہوگی پورے جسم کو ہوگی پھر دیکھو یہ کفر کے بادل کیسے غائب ہوتے ہیں ،مظلوم کشمیری اپنے مسلمانوں بھائیوں سے اسی کی امیداور آس لگائے بیٹھے ہیں،بھارت کے زیرتسلط کشمیر سے دنیا بھر کا رابطہ منقطع ہے، بی جے پی کی ہندوتوا پر قائم حکومت اسرائیل کے طرز پر کشمیریوں کی آبادی کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے لئے اقدامات کررہی ہے ،کئی روزسے مقبوضہ کشمیر میں ہندوستانی فوج کے مظالم جاری ہیںبھارتی فوج نے مظالم کی نئی داستان رقم کردی اور تاحال مظلوم کشمیریوں کی شہادتوں کا سلسلہ جاری ہے،تین سو سے زیادہ زخمی وشہید ہوچکے ہیں ،جبکہ ہزاروں کو گرفتار کرلیا گیا ہے ،بھارتی فوج نوے کی دہائی کے مظالم کو تازہ کررہی ہے، مگر سلام ہے کشمیری مسلمانوں کو کہ ان کا جذبہ آزادی کو، جو کم ہونے کے بجائے اور بڑھتا جارہا ہے ،پاکستان سے ان کی محبت کم نہیں ہورہی ،ان کی نظریں عالم اسلام اور بالخصوص پاکستانی بھائیوں اور حکمرانوں کی مدد کی جانب ہیں،کشمیری بزرگ حریت رہنما سیدعلی گیلانی کا ایک بیان سوشل میڈیا پر گردش میں ہے ، ہندوستانی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں تاریخ کا بدترین بلیک آوٹ کسی خطرناک اور سنگین معاملے کی جانب اشارہ کررہی ہے، کشمیریوں کی چوتھی نسل تحریک آزادی میں برسرپیکار ہے ،کشمیر کی حالیہ صورت حال اور پر امن مظاہروںاور اس پر بھارتی فوج کے تشدد اور قتل عام پر عالمی دنیا کی خاموشی ایک طرف پاکستانی حکمرانوں کا رویہ افسوس ناک ہے ،ایک جانب مقبوضہ کشمیر میں شہید ہونے والے کو پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر دفن کیا جارہا ہے ،اور دوسری جانب پاکستانی حکمران چپ سادے ہوئے ہیں،مذمتی بیانات سے مسئلہ حل نہیں ہونے والا، سخت جواب کا وقت آچکا ہے۔
مقبوضہ کشمیر کی آزادی ہندوستان کا نامکمل ایجنڈہ ہے،بابائے قوم محمدعلی جناحؒ نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ کہاتھا، سوال یہ ہے کہ بابائے قوم نے کیوں کہا؟ اور پاکستانی جماعتیںاور حکمران اس لفظ پر سیاست کیوں کرتے رہے،حقیقت یہی ہے کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ تھی اور ہے اب مسئلہ سنگین ہوچکا ہے ہندوستانی حکومت کے مظالم ہیں کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے نریندر مودی کی فاشسٹ حکومت میں تو آئے روز بھارت کے دیگر علاقوں میں مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوںکے لوگوں کو قتل کیا جارہا ہے ،لوگوں کو زبردستی ہندو بنایا جارہا ہے اور ہمارے ہاں موجودذہنی طور پر بھارت کا غلام طبقہ سب ٹھیک ہے کی رٹ لگائے قوم کو گمراہ کرنے میں لگے ہوئے ہےں ،جس کی وجہ سے کشمیر کی آزادی کے انیس سال ضائع ہوگئے ۔
کئی برسوں سے یہ پروپیگنڈہ جاری ہے کہ برف پگھل رہی ہے؟ بہت جلد کشمیر آزاد ہوگا؟ اورپھر کشمیر کے حوالے سے منعقد کئے جانے والے دن اور پروگرامز کم ہوتے گئے جس سے یہ پیغام مقبوضہ کشمیر میںغلط انداز سے گیا کہ پاکستان نے کشمیریوں کی اخلاقی سفارتی مدد سے ہاتھ اٹھالیا ہے،اور سودے بازی کرلی ہے ہندوستان نے بھی اس پروپیگنڈے کو ہوا دی،جس سے بہت سے لوگ متاثر ہوئے مگرکچھ ڈٹے رہے، کشمیر کی آزادی اور جنگ جاری رہی، سوال یہ ہے کہ ہم اپنے بھائیوں کے ساتھ کس مقام پر کھڑے ہیں،ان کی قربانیں جاری ہیں ،کشمیری مسلمان اپنی جدوجہد سے ہٹنے کو تیار نہیں، سوال ہماری اخلاقی اور اسلامی بھائی چارے کا ہے۔دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعویداربھارت میں ہندوتوا زورں پر ہے،بھارت میں دیگر مذاہب کے ساتھ ساتھ مسلمان بھی انتہاہی مظلومانہ زندگی گذارنے پر مجبور ہیں،بالخصوص کشمیری مسلمانوں پر بھارت نے ہر قسم کے مظالم ڈھائے ،میںسلام پیش کرتا ہوں اپنے کشمیری مسلمان بھائیوں کو اور ان کے عظیم جہاد کو کہ جس نے بھارت کے ناپاک عزائم کو پورا کرنے سے روک رکھا ہے، بھارت جس نے اب تک ڈیڑہ لاکھ سے زیادہ بے گناہ کشمیری مسلمانوں کو شہید کیا ہے ،اور ہزاروں ہندوستان کے جیلوں میں پابند سلاسل ہیں،بھارت نے تحریک آزادی کشمیر کو ختم کرنے کے لئے ہر حربہ استعمال کیا مگر کشمیر میں جاری جہاد کونہ ختم کرسکا ، اب ہندوستان نے تحریک کو ختم کرنے کےلئے اسرائیلی تجربے کواستعمال کرنے کا پروگرام بنایا ہے ، جس سے کشمیریوں میں پاکستان کے خلاف بے چینی بڑہ رہی ہے اور ہندوستان یہی چاہتا ہے کہ کشمیری مسلمان پاکستان کے حکمرانوں سے بدظن ہوکر چپ ہوجائیں تاکہ تحریک آزادی کو دبانے کا ایک اور موقع میسر آجائے ۔
اسے موقع پرایک اہم بات کی جانب توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ دنیا بھر میں پاکستان کی سفارتی ٹیم اور بالخصوص قومی اسمبلی کی قائم کردہ کشمیر کمیٹی کیا کررہی ہے ؟بڑا سوالیہ نشان ہے،2001 کے بعد مسئلہ کشمیر کو جس طرح نظر انداز کیا گیا انتہائی افسوس ناک ہے ،کشمیر کمیٹی کا کردار بھی صرف بیانات تک رہا،حکمران بھی مسئلے کشمیر کے بارے میں کھل کر کیوں نہیں بولتے اور عوام کو اعتماد میں کیوں نہیں لیتے ، سمجھ سے بالاتر ہے ۔ سوال یہ بھی ہے کہ اقوام متحدہ میں موجود پاکستانی مستقل مندوب اورہماری وزارت خارجہ کی ٹیم ان اہم مسائل پر کتنا دنیا کو آگاہ کرسکی ،کشمیر ،سیاچن ،سرکریک اور کابل میںہندوستان کی دلچسپی وہ اہم مسائل ہیں جس پر ایک سنجیدہ پاکستانیوں کی جذبات کی ترجمانی والی خارجہ پالیسی ہی ان سازشوں کے روک تھام کے لئے ضروری ہے ورنہ نریندرمودی سے یہ امید رکھنا کہ وہ کشمیر سمیت ہر مسئلے بات مان جائے گا ،سیاچن سے فوجی واپس بلانے کے احکامات جاری کرے؟ گا دیوانے کے خواب سے زیادہ کچھ نہیں۔ہندوستانی وزیر خارجہ نے کئی بار واضح کہا ہے، پاکستان کشمیر پر اپنا موقف نرم کرے اور زیادہ زور نہ دے۔ کیا حکومتی ایوانوں کی دیواریں ساونڈ پروف ہیں جہاں کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کی آوازنہیں پہنچ رہی ،اس لئے جواب کا آغازکشمیر سے کیا جائے اور دریائے سندھ کے کنارے سرکریک کے سمندر پر ختم کی جائے کشمیر کی آزادی خطے کے مسائل کا واحد حل ہے اگر کوئی سمجھے ؟شہادتوں کا سفر جاری ہے ،ہے اگر خود نہیں لڑ سکتے تو مسلم حکمران اتنا تو کریں اپنے ڈپو کھولیں ،ورنہ یہ اسلحہ پڑے پڑے زنگ ہو جائے گا ،وقت پاکستان کے مضبوط اور سخت ردعمل کا ہے،بقا کی جنگ ہے کہی دیر نہ ہوجائے۔۔۔