منی ٹریل اور امتحانی نمبروں کی ٹریل

August 3, 2019 4:40 pm

مصنف -

اسد اللہ غالب
میٹرک کے رزلٹ کے بعد میںنے لاہور بورڈ کے کنٹرولر امتحانات کو فون کیا اور اپنا نام بتا کر کہا کہ آپ سے پچھلے سال بھی بات ہوئی تھی ۔ کہنے لگے کہ ایک سال پہلے کے نام کو میرے لئے یاد رکھنا مشکل ہے۔ میںنے کہا کہ مجھے اپنے پچپن سالہ صحافیانہ کیریئر پر تاسف ہے کہ آپ جیسے صاحب علم اور ذمے دار منصب پر فائز افسر بھی میرا نام نہیں جانتا۔ خیر میں نے کہا کہ میرے ایک پوتے نے پانچ پیپروں کی چیکنگ کی درخواست کی ہے جن میں اس کے اکہتر نمبر کاٹ لئے گئے ہیں ۔ اس کام کے لئے اسے صرف ایک دن دیا گیا ہے ا ور جس کسی نے ایک پیپر چیک کرنا ہے، اسے بھی ایک دن ہی ملا ہے تو کیا آپ میرے پوتے کو دو یا تین دنوں میں چیکنگ کی اجازت دے سکتے ہیں۔ کنٹرولر صاحب نے فرمایا کہ قواعد کے مطابق ایک دن ہی دیا جاسکتا ہے۔ میںنے کہا کہ اس کے سرپرست کی حیثیت سے میں اطمینان کرنا چاہتا ہوں کہ جو لڑکا پریکٹیکل میں پورے نمبر لے رہا ہے ، وہ کہاںمار کھا گیا ہے۔ اس پر انہوں نے تبصرہ کیا کہ لڑکے پریکٹیکل میں نمبر لگوا لیتے ہیں۔ میںنے کہا کنٹرولر صاحب آپ یہ کہہ کر میری توہین کر رہے ہیں۔ اب میں یہ کروں گا کہ رائٹ آف انفارمیشن ایکٹ کے تحت ان طلبہ کے پیپر عدالت کے سامنے پیش کرنے کی اپیل دائر کروں جنہیںٹاپ تھری میں شامل کیا ہے۔ اس پر انہوںنے کہا کہ ہم اس جھگڑے سے بچنے کے لئے آئندہ سے نمبروں کے چکر سے نکل رہے ہیں اور صرف اے یا بی گریڈ کااعلان کیا کریں گے۔ جیساکہ اے لیول اور او لیول کے امتحانات میںاعلان ہوتا ہے۔
مجھے یہ خبر پہلے سے مل چکی تھی کہ بورڈز کے امتحانات میں نمبروں کے بجائے گریڈ کا اعلان کیا جایا کرے گا اور اس فیصلے پر عمل درا ٓمد میں پنجاب کے وزیر تعلیم خصوصی دلچسپی لے رہے ہیں۔ مگر یہ جو ایف اے اور ایف ایس سی کے بعد انٹری ٹیسٹ لے کر طلبہ کی لیاقت کو دوبارہ پرکھا جاتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یونیورسٹیوں کو تعلیمی بورڈز کے امتحانی نظام پر ذرا بھر اعتماد نہیں۔ کیا عجب بات ہے کہ میٹرک میں اعلی پوزیشن لینے والے کی تصویر ایک ٹیوشن اکیڈمی نے بھی آویزاں کر رکھی ہے اور ایک اسکول نے بھی۔ تو کہیںنہ کہیں دال میں کالا ہے اور اگر دال میں کا لا ہے تو نمبروں کی جگہ گریڈوں کا اعلان بھی ہو جائے تو جس طرح عقل سے ماورا نمبر حاصل کئے جا رہے ہیں ، اسی طرح گریڈ بھی خریدے جا سکیں گے۔میرے خیال میں جس طرح ملک میں منی ٹریل کا شور ہے۔ اسی طرح پوزیشن ہولڈرز کے نمبروں کی ٹریل بھی سامنے لانا ضروری ہے تاکہ امتحانی نظام پر اٹھنے والے شکو ک و شبھات کا خاتمہ ہو سکے۔میں نے مزید راہنمائی کے لئے ایک نوجوان تنویر نذیر کو فون کیا کہ ا ٓپ طلبہ کو بیرونی تعلیمی اداروں میں داخلہ دلواتے ہیں اور ان کے لئے اسکالر شپ بھی تلاش کرتے ہیں تو کیا وہ ادارے پاکستانی طلبہ کے گریڈوں پر شک کاا ظہار نہیں کرتے، تنویر نذیر جو یونی گائیڈ جیسے ایک و قیع ادارے کے سربراہ ہیں، کہنے لگے کہ اے لیول اور او لیول کے امتحانات میں پیپرز کی چیکنک پاکستان میں نہیں ہوتی بلکہ یہ آن لائن امتحانی سلسلہ ہے جسے کیمبرج جیسا تاریخی ا دارہ براہ راست کنٹرول کرتا ہے اور برطانیہ کے تعلیمی اداروںمیں داخلے کے لئے ایک ہی ویب پورٹل پر اپلائی کیا جاتا ہے۔ گریڈوں کے اعتبار سے طلبہ کو خود کار نظام کے تحت مختلف یونیورسٹیوں میں داخلہ مل جاتا ہے مگر آکسفورڈ پھر بھی ٹیسٹ اور انٹرویو لیتا ہے۔
تنویر نذیر مجھے پہلے یہ افسوسناک خبر دے چکے تھے کہ امریکہ نے تعلیمی ویزوں پر پابندی لگا رکھی ہے ،۔ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا وزیر اعظم عمران خان نے اپنے دورے میں اس پابندی کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے یا نہیں ، عمران خان نے ایک عوامی جلسے میں یہ تو کہا کہ پاکستان میں تین طرح کے تعلیمی ادارے ہیں جن میں یکساںنصاب تعلیم کو روشناس کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے مگر ابھی تک کسی سرکاری اعلامیے میں تعلیمی ویزوں پر پابندی اٹھانے کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ شاید وزیر اعظم کے مشیروںنے انہیں اس سنگین نو عیت کے مسئلے سے ا ٓگاہ ہی نہ کیا ہو ورنہ سعودی عرب ،امارات ، ملائیشیا وغیرہ میں قید پاکستانیوں کی رہائی کے لئے وزیر اعظم نے کامیاب کوششیں کی ہیں۔ تنویر نذیر نے کہا کہ اعلی تعلیم کے لئے آج بھی امریکی یونیورسٹیاں سر فہرست سمجھی جاتی ہیں ۔ پھر برطانیہ کے ادارے ہیںمگر پابندیوں کی وجہ سے طلبہ ہنگری، چین، روس اورآسٹریلیا جا نے پر مجبور ہیں جبکہ ان کے تعلیمی ادارے رینکنگ میں بہت پیچھے ہیں اس لئے وزیر اعظم کے مشیر صاحبان بالخصوص وزیر تعلیم کو اس طرف توجہ دینی چاہئے ۔تعلیمی ویزوں کا مسئلہ تو حکومت کے حل کرنے کا ہے مگر میں ہر سال سوچتا ہوں کہ یہ جو میٹرک اور ایف اے وغیرہ میں نمبروں کی بارش ہو رہی ہے، ا سکی وجہ کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہماری نسل کند ذہن تھی یاا ٓج کی نسل کا بھیجا قدرت نے خاص طور پر اور بڑی محنت سے تیار کیا ہے۔ آج کے طلبہ کل نمبروں میں سے صرف چند نمبر ہی کٹواتے ہیں جبکہ ہم لوگ اسی پچاسی فیصد کے لئے ترستے رہ جاتے تھے۔ اور یہ بھی سمجھ میں بات نہیں آتی کہ بچے کی تعلیم اور اچھے نمبروں کاکریڈیٹ اسکے اسکول یا کالج کو دیا جائے یا یہ گلی گلی محلے محلے پھیلے ہوئے ٹیوشن سنٹروں کا معجزہ اور کرشمہ سمجھا جائے۔
میںنے کنٹرولر صاحب کا طعنہ سن لیا کہ لڑکے نے پریکٹیکل میں نمبر لگوا لئے ہیں مگر مجھے کیسے معلوم ہوکہ پوزیشن ہولڈرز کے صرف چند نمبر ہی کیوں کٹتے ہیں۔ اس میں پرچوں کی چیکنگ کے نظام کو سلام پیش کیا جائے یا آج کے بچوں کی لیاقت اور صلاحیت کو سلام پیش کیا جائے۔میں پھر بھی چاہوں گا کہ منی ٹریل کی طرح امتحانی نمبروں کی ٹریل بھی سامنے لائی جائے۔