رہا گردشوں میں ہر دم

رہا گردشوں میں ہر دم

August 3, 2019 4:39 pm

مصنف -

رضوان احمد فکری
سینیٹ کی چیئرمین شپ یکم اگست 2019کو صادق سنجرانی کے لئے ایک نئی تاریخ رقم کرگئی۔ وہ عدم اعتماد سے بچ کر دوبارہ اپنے منصب پر سج گئے۔ لیکن پاکستان کی تاریخ میں بہت سے سوالیہ نشان چھوڑ گئی۔ ریاست مدینہ میں سودے بازی یا ضمیروں کی بازیابی نمبر گیم چند گھنٹوں میں پلٹنے کی شعبدہ بازی ۔ کچھ بھی ہو ریاست جیت گئی جمہوریت ہاری یا جیتی یہ فیصلہ مستقبل کے سیاست کے طالب علموں اور مورخین سیاست پر چھوڑا۔ ایم کیو ایم کے مدبر لیڈر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا زو معنی جملہ کہ اسکے آئندہ کی سیاست پر بڑے گہرے اثرات مرتب ہوں گے، یہی صحیح تجزیہ ہے۔ کچھ جیت اعلان جنگ ہوتی ہیں ۔ وزیر اعظم عمران خان کی کرپشن کے خلاف جیت کی تو ہم بھی دعائیں کرتے ہیں ۔ لیکن انکی محاز آرائی اور بیک وقت کئی توپوں سے لڑنے کی عادت کے انجام سے بھی ڈرتے ہیں ۔ ہمیں تو معصوم سی متحدہ قومی موومنٹ پر ترس آتا ہے جسکے مہرے عمران خان استعمال کرکے ملک بھر کی سیاسی جماعتوں میں انکی شکل خراب کر رہے ہیں ۔ اسکی وضاحت کچھ اس طرح کہ پرویز مشرف نے اسلام آباد کی شمیم آنٹی کی باتوں سے شروع ہوکر لال مسجد پر ہاتھ ڈال دیا۔ ن لیگ اور پی پی پی کا ملک میں داخلہ بند کر رکھا تھا این آرو دیکر ملک پر مکمل آمریت زدہ حکومت قائم کر رکھی تھی۔ دس سال کا عرصہ ہر طرح کی موج مستی میں گزارنے کے بعد بجائے ملک پر حاوی طالبان ، القاعدہ اور دیگر نیٹ ورکس ختم کرنے پر جان لڑانے کے ملک کی سیاسی قوتوں کو کچلتے رہے۔ لال مسجد آپریشن میں شہید حافظائیں اور حاٰفظ ، ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ، عدلیہ سے لڑائی ، سابق چیف جسٹس اور وکلائ سے تکرار، مزہبی عناصر کی سرکوبی ، بڑے دعوی اور پرویز مشرف کے دور میں امریکہ کو قیدیوں کے بدلے دولت اور آسائشیں تو ملیں ۔ لیکن آمریت جمہوریت کے آگے ہار گئی۔ پرویزمشرف نے بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد مجرمانہ غفلت کرتے ہوئے ملک بھر میں پی پی پی کو کھلے عام قتل ۔ لوٹ مار، جلائو گھیرائو اور تباہی کا راستہ دیکر صرف 27دسمبر سے 29دسمبر تک ملک کے تمام ریلوے اسٹیشن، بنک اور اہم عمارات نزر آتش کرادیں ۔ ملک کو دیوالیہ کرادیا۔ ملک اسوقت سے آج تک بربادی کے کنارے پر ہے معیشت کی تباہی پی پی پی نے کی اور آج بھی سندھ میں یہی عمل جاری ہے۔ پرویز مشرف نے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ متحدہ قومی موومنٹ کو اقتدار کے اس منصب تک پہنچایا جب وہ سیاست چھوڑ کر حکومت کے عادی ہوگئے۔ انکی شناخت اچھے پاکستانی کے بجائے ایک خراب امیج سے چھوڑی۔بیک وقت متعدد محاذ پر لڑنے والا جنرل پرویز مشرف تو بچ نکلا لیکن وزیر اعظم عمران خان ایم کیو ایم کو استعمال کرکے فروغ نسیم سے ججوں کے ریفرنس، بیرسٹر سیف سے سینیٹ چیئرمین شپ کا فیصلہ مائک پر 54ووٹ اور پھر 50ووٹ کیا کھیل کھلوا رہے ہیں ۔ اتنے ہی ایم کیو ایم سے نیک نیت ہیں تو انکے 41قانونی دفاتر، کراچی کے میئر کو براہ راست پچھلے اعلان کردہ 162ارب روپے، نئے بجٹ کے اربوں روپے دیکر کراچی جو ملک کا پہیہ چلاتا ہے دیکر ریاست مدینہ میں انصاف کی مثال قائم کیوں نہیں کرتے۔ اسکے لئے علی زیدی اور فکس اٹ جو فکس گیم کی فکس اٹ ہے اسے آگے لاکر نالوں کی صفائی کے ڈرامے کی بارشوں کی تباہی کے بعد کیوں زحمت پیش آرہی ہے۔ تحریک انصاف کی چارج شیٹ تو یہ ہے کہ صدر عارف علوی کراچی ، گورنر عمران اسماعیل âکراچیá، علی زیدی âکراچیá، فیصل واڈاâکراچیá، فردوس شمیم نقویâلیڈر اپوزیشن سندھ á کراچی، عالمگیر فکس اٹ کراچی، خالد مقبول صدیقی ایم کیو ایم âکراچیá، فروغ نسیم âکراچی، اسلام آبادá، وزرائ کی فوج اہم عہدے کراچی، ملک بھر کو وفاق کو اسی فیصد ٹیکس دینے والا کراچی ، صوبہ کو پچانوے فیصد ٹیکس دینے والا کراچی اور کراچی کی بلدیہ کو حصہ وفاق صفر، سندھ اس بجٹ میں کوئی اے ڈی پی میں نیا منصوبہ شامل نہیں کیا گیا۔ جھوٹ پر قائم سندھ حکومت نالوں کی صفائی کے پچاس کروڑ کی دعویدار اور بھول جاتی ہے کہ نہ او زیڈ ٹی شیئر مل رہا ہے اور نہ گرانٹ میں اضافہ ہے ۔ بلکہ کے الیکٹرک کو کئی بار یکمشت کے ایم سی شیئر میں سے رقم کاٹ کر کے ایم سی زیرو۔ عید الفطر پر کے ایم سی کے ملازمین تنخواہوں سے محروم ، عید الاضحی پر بھی یہی صورتحال ہے۔ وفاق بھی جھوٹ پر قائم حکومت اور صوبہ سندھ لوٹ گھر، عمران خان کو سینیٹ کا الیکشن جیتنا یاد ہے لیکن کراچی میں ایم کیو ایم کے مرکز پر جہانگیر ترین کی 31جولائی کو عمل درآمد میٹنگ یاد نہیں ۔ یو ٹرن ، مطلب پرستی اور مہاجر و شہری سندھ کے ساتھ اب یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ پی پی پی اور تحریک انصاف ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں ۔ متحدہ کا ووٹر کام چاہتا ہے ۔ عمران خان سے وعدوں کی وفا چاہتا ہے۔ تمام بند دفاتر کھول کر کام کرنا چاہتا ہے ۔ اسے سیاسی آزادی چاہئے ۔ عمران خان نے ایک سال میں کئی مرتبہ دھوکہ دیکر مہاجر عوام کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ کیا وہ بھی متعصب ہیں ؟ انکے افراد تو یہی ثابت کر رہے ہیں ۔ ایم کیو ایم کے علاوہ کوئی کھل کر بات نہیں کرتا لیکن اسکے ہاتھ بہادر آباد آکر لولی پاپ دیکر بند کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ق لیگ ہو ، بی این پی ہو یا ایم کیو ایم جب رخ بدلتے ہیں انہیں بلا کر تسلی و تشفی اور ایک نئی وزارت دینے کا اعلان کرکے معاملہ دبا دیا جاتاہے۔معاملہ دبتے ہی وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہوگیا۔ حیدرآباد یونیورسٹی کا اعلان اور افتتاح بھی ایم کیو ایم کے لئے چیلنج بنا ہوا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان شہری سندھ سے روگردانی کر رہے ہیں ۔ معاملات کو الجھا رہے ہیں ۔ پی پی پی نے سندھ میں جو صورتحال پیدا کی ہوئی ہے ہر آنکھ وزیر اعظم کی طرف ہے۔وفاق سے مطالبہ ہو رہا ہے کہ آئین کی شق 149کا استعمال کرتے ہوئے وفاق حکومت سندھ سے جواب طلبی کرے ۔تعصب کا نوٹس لیا جائے ۔ سیکشن 149میں اسکی مکمل وضاحت موجود ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسکی ضرورت کیوں پیش آئی؟کیا حکومت سندھ جو خود یہ تسلیم کرتی ہے کہ اس نے گزشتہ میزانیہ میں کراچی سے 240ارب ٹیکس وصول کیا جبکہ صوبائی مالیاتی ایوارڈ کی مد میں 843ارب ابتک موصول ہو چکے ہیں لیکن سندھ کی حکومت نے صرف 22ارب روپے کراچی کے لئے مختص کرکے حد انتہا کردی ہے۔ کراچی معاشی حب ہے اور پورے ملک کو چلاتا ہے اس کو نظر انداز کرکے وفاق اور صوبہ سندھ دونوں مجرمانہ غفلت اور تباہی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ حالیہ بارشوں میں کراچی اور حیدرآباد کا جو حال ہوا وہ ان دونوں کی غفلت اور شہری اداروں کے ہاتھ پائوں باندھنے کا نتیجہ ہے۔ پی ایس پی کے بھی اس حوالے سے خدشات اور آٹھویں ترمیم ختم کرنے کا مطالبہ ، سینئر ڈپٹی کنوینر ایم کیو ایم عامر خان کا آٹھوین ترمیم کی ریویژن اور نئی ترمیم لانے کی بات ، کنور نوید جمیل کا عمران خان سے سیکشن 149پر ایکشن لینے کا مطالبہ خود سندھ کی تحریک انصاف کا احتجاج اور سندھ حکومت سے نجات کامطالبہ بھی اس بات کا غماز ہے کہ حالات دگرگوں ہیں۔ سندھ کی حالت یہ ہے کہ رہا گردشوں میں ہر دم میرا صوبہ ۔ عوام کہتے ہیں کہ یہ نیا پاکستان ہے یا عجب پاکستان ۔ ایک صحافی نے بے لاگ تبصرے میں کہا کہ اچھا تھا پرانا پاکستان قائد اعظم کا پاکستان ۔ ضرورت ہے کہ اب وزیر اعظم پاکستان خواب اور جواب سے باہر نکل آئیں ۔ گرفتارشدگان سے باہر سے رقوم لانے کاوعدہ پورا کریں ۔ انتقام کی سیاست سے عوام بیزار ہیں انہیں لوٹی رقم واپس چاہئے۔ مہنگائی کی بلند ترین سطح سے نجات چاہئے۔ ورنہ یہی کہا جا سکتا ہے کہ جانے کب طوفان بنے اور رستہ رستہ بچھ جائے۔۔۔۔۔بند بنا کر سو مت جانا دریا آخر دریا ہے۔