jiddat

چیئرمین سینیٹ کیخلاف تحریک عدم اعتماد کی ناکامی، ہارس ٹریڈنگ یا ڈیل؟

August 3, 2019 4:37 pm

مصنف -

نواز رضا
چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی ناکامی نے آل پارٹیز کانفرنس میں شامل جماعتوں کے اتحاد کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ سر دست کوئی جماعت سیاسی وفاداریوں کا مول لگانے والوں کے بارے میں منہ کھولنے کے لئے تیار نظر نہیں آتی لیکن آنے والے دنوں میں سب کچھ روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جائے گا۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں چیئرمین سینیٹ کے خلاف پہلی بار تحریک عدم اعتماد آئی اور حکومت نے اپنی مخصوص حکمت عملی سے رات و رات ناکام بنا دیا ہے۔ ایوان بالا کے 64 ارکان نے جس قرار داد کی حمایت میں اپنی نشستوں پر کھڑے ہوئے لیکن ایک گھنٹے کے دوران ان میں سے 9 ارکان نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کیخلاف قرار داد کی مخالفت اور 5 نے دانستہ طور پر اپنے ووٹ منسوخ کرا کر پارلیمانی سیاست کا پانسہ پلٹ دیا۔ متحدہ اپوزیشن چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد وزیراعلی بلوچستان جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی دعوے کر رہی تھی، چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں ناکامی سے اس کے تمام خواب بکھر گئے۔ ذمہ دار ذرائع کے مطابق چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنانے کا منصوبہ رات کی تاریکی میں تیار کیا گیا۔ 9 ارکان کو براہ راست تحریک عدم اعتماد کیخلاف ووٹ ڈالنے کا ٹاسک دیا گیا جبکہ 5 کو ڈبل مہر لگانے کا کام سونپا گیا۔ پارلیمنٹ کی تاریخ میں پہلی بار سینیٹ کے چیئرمین کے خلاف تحریک عدم اعتماد آئی، ایک طرف اپوزیشن 64ارکان کی حمایت کی دعویدار تھی تو دوسری طرف سینیٹ میں قائد ایوان شبلی فراز کی خود اعتمادی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انھوں نے دوپہر ایک بجے ہی صادق سنجرانی کو پھلوں سے لادنے کیلئے منڈی سے ہار اور گلاب کی پتیاں منگوا لیں۔ چیئرمین سینیٹ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کا ڈرامہ دیکھنے کیلئے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی مہمانوں کی گیلری میں بہ نفسِِ نفیس موجود رہے، لیکن انھیں بھی ناکامی پر سخت مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ اگرچہ انھوں نے بھی اپنے 21 سینیٹرز سے استعفے لینے کا عندیہ لے کر معاملے پر مٹی ڈالنے کی کوشش کی ہے تاہم ابھی تک حاجی نواز کھوکھر کے صاحبزادے مصطفی نواز کھوکھر کے سوا کسی نے بھی مستعفی ہونے کا اعلان نہیں کیا، وہ بھی اپنا استعفا اپنے قائد بلاول بھٹو زرداری کے حوالے کر رہے ہیں۔ وہ اپنے وعدے کے پکے ہیں لیکن ان کے استعفے سے وفاداریاں کا سودا کرنے والے ارکان کا سراغ لگائے بغیر کچھ فائدہ نہیں ہو گا۔ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کی خلاف توقع ناکامی نے کئی سوال کھڑے کر دیئے ہیں۔ جب متحدہ اپوزیشن نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کیخلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کیا تو اس کے بعد ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا کا تحریک عدم اعتماد کے سلسلے میں بلائے جانے والے اجلاس میں صدارت کا راستہ روکنے کے لئے حکومت ان کے خلاف بھی عدم اعتماد کی تحریک لے آئی۔ پچھلے 2 ہفتوں سے متحدہ اپوزیشن بار بار اپنی سیاسی قوت کا مظاہرہ کر کے حکومت کو باور کراتی رہی کہ اس کے ساتھ اکثریت ہے لیکن حکومت اس بات پر مصر رہی کہ چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام ہو گی۔ متحدہ اپوزیشن نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو باوقار طریقے سے مستعفی ہونے کا مشورہ بھی دیا لیکن وہ حکومت کی آشیرباد سے میدان میں ڈٹے رہے۔ چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنانے ہارس ٹریڈنگ کا بڑا چرچاہے لیکن اس سے زیادہ ڈیل کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ متحدہ اپوزیشن کے ایک سینئر رہنما نے نوائے وقت کے استفسار پر بتایا کہ پارٹی کی قیادت کی مرضی کیخلاف اتنی بڑی تعداد میں سیاسی وفاداریاں تبدیل کیا جانا ممکن نہیں لہذا رات کے اندھیرے میں سیاسی وفاداریاں خریدنے والوں نے ایک ہی پارٹی سے سودا کر لیا۔ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف راجہ محمد ظفر الحق نے چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کے بارے میں حکومت کے پر اعتماد لہجے پر تشویش کا اظہار کیا تھا اور کہا کہ تھا کہ اور کہا تھا کہ آخری وقت میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے پاکستان کی پوری اپوزیشن نے وفاقی دارا لحکومت اسلام آباد میں پچھلے دو روز سے ڈیرے ڈال رکھے تھے۔ حتی کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز بھی بدھ کی شپ اسلا م آباد آئیں اور متحدہ اپوزیشن کے چیئرمین سینیٹ کیلئے امیدوار میر حاصل خان بزنجو کی جانب سے دیئے گئے عشائیہ میں شرکت کر کے واپس لاہور چلی گئیں۔سینیٹ کے اجلاس ایک روز قبل اپوزیشن کی جانب سے دیئے گئے کھانوں میں تحریک عدم اعتماد کیلئے مطلوبہ تعداد سے زائد سینیٹرز کی شرکت سے اپوزیشن قیادت بڑی مطمئن دکھائیدے رہی تھی۔ سینیٹ کا اجلاس شروع ہونے سے قبل میاں شہباز شریف نے اپوزیشن کے سینیٹرز کے اعزاز میں دیئے گئے برنچ میں بھی اپوزیشن کے 64سینیٹرز نے شرکت کی ۔ پھر سینیٹرز نے ایوان میں کھڑے ہو کر قرار داد کی حمایت کی لیکن نتیجہ مختلف نکلا۔ میر حاصل بزنجو نے 14 ارکان کی وفاداریوں کے بارے میں سارا پول کھول دیا ہے۔ کی جانب سے دئیے گئے عشائیہ میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر و قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف ، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور اپوزیشن کی دیگر جماعتوں نے ایک اور آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا ہے جس میں صورتحال واضح ہو جائے گی کہ اپوزیشن کا اتحاد قائم رہتا ہے کہ نہیں۔ شنید ہے کہ 14 ارکان کی سیاسی وفاداریوں کو تبدیل کرنے میں ایک اہم شخصیت اور وزیراعلی بلوچستان جام کمال کا بڑا کردار ہے۔ وزیراعلی بلوچستان پچھلے تین روز سے وفاقی دارالحکومت میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کیلئے حکومتی بنچوں سے 36 ارکان نے اپنی نشستوں سے اٹھ کر تائید کی مگر جب رائے شماری ہوئی تو یہ تعداد گھٹ کر 32 ہو گئی۔ ایک حکومتی رکن نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے حق میں ووٹ ڈالی جبکہ اپوزیشن نے رائے شماری کا بائیکاٹ کر کے حکومت کو ایکسپوز کر دیا۔ سینیٹ میں چیئرمین کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کے بعد اپوزیشن نے پارٹی پالیسی سے انحراف کرنے والے 14 اراکین کو بے نقاب کرکے ان کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کر لیا ۔تفصیلات کے مطابق جمعرات کو اپوزیشن رہنمائوں کا قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس منعقد ہوا جس میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی ناکامی پر غور کیا گیا،۔اجلاس میں بلاول بھٹو زرداری، میر حاصل بزنجو، مولانا اسد محمود، میاں افتخار حسین، خورشید شاہ اور شیری رحمان نے شرکت کی۔ میاں شہباز شریف سینیٹ کے آئندہ اجلاس میں ہارس ٹریڈنگ کو بے نقاب کرنے کا اعلان کیا ہے ۔
جمعرات کو قو می اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین کے پروڈکشن آ رڈر نہ ہونے پر پلے کارڈز لہرا کر احتجاج کیا اور پروڈکشن آرڈر جاری کرو کے نعرے لگائے جبکہ ارکان کے پروڈکشن آرڈرز جاری نہ ہونے کے معاملہ پر پاکستان پیپلز پارٹی کے راہنما سید نوید قمر اور ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کے درمیان تلخ کلامی ہوئی ، پاکستان پیپلز پارٹی کے راہنما سید نوید قمر نے کہاکہ ارکان کے پروڈکشن آرڈر جاری نہیں کئے جا رہے ہیں ، اس حوالے سے سپیکر پر دبائو ڈالا جا رہا ہے جس پر ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے غصہ میں آ کر کہ سپیکر پر کسی کا دبائو ہے اور نہ ہی اپوزیشن کا۔