مریم کا پنڈورہ باکس اور عدلیہ

July 10, 2019 3:42 pm

مصنف -

محمد اسلم خان
مریم بی بی نے نیا پنڈورہ باکس کھول دیا ہے محو پرواز جج ارشد ملک کی وڈیو ریلیز کرکے دھماکہ کردیا ہے۔ مشاہد حسین کل کی تقریب میں موجود نہیں تھے سیانے آدمی ہیں لیکن ٹویٹ کرکے حاضری لگوائی کہ شہزادی ناراض نہ ہو جائے انگریزی ٹویٹ کا مفہوم کچھ یوں ہے کل تاریخ نے دوبارہ اپنے آپ کو دہرایا جوڈیشل گیٹ سکینڈل نے سارے پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا کہ نواز شریف کے خلاف فیصلہ کرپشن کے خلاف نہیں سیاسی دخل اندازی کرکے کرایا گیا تھا جج اس کا اعتراف کر رہا ہے اس سب کچھ کو ارشد ملک اپنی پریس ریلیز میں گھنائونی سازش قرار دے رہے ہیں۔ جس کے بعد سارا دباو نیک نام چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ پر آجائے گا جن پر فوری اقدام کرنے کے لئے مطالبات شروع ہو چکے ہیں۔ پریس ریلیز میں مزید کہا گیا ہے کہ ویڈیوز میں مختلف موضوعات پرکی جانیوالی گفتگو کو توڑ مروڑکرپیش کیاگیا ہے۔ ناصر بٹ اور اسکا بھائی عبداللہ بٹ عرصہ دراز سے مجھ سے بے شمار بار ملتے رہے ہیں، میری ذات اور میرے خاندان کی ساکھ کو متاثر کرنے کی سازش کی گئی۔گزشتہ روز پریس کانفرنس میں مریم نوازشریف کی جانب سے جو ویڈیو دکھائی گئی وہ جھوٹی اور جعلی ہے ، مجھ پر سنگین الزامات لگاتے ہوئے میری ذات ، ادارے اور خاندان کی ساکھ کو متاثر کرنے کی سازش کی گئی ہے ،میں حقائق منظر عام پر لانا چاہتا ہوں۔ جج ارشد ملک کا کہنا ہے کہ ن لیگ کی جانب سے انہیں بار بار رشوت کی پیشکش کی گئی اور تعاون نہ کرنے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں لیکن میں نے کوئی دبائو قبول نہیں کیا ، حق و سچ اور قانون کے مطابق کیسز کے فیصلے سنائے۔ اگر دبائو یا رشوت کے لالچ میں فیصلہ سنانا ہوتا تو ایک مقدمے میں سزا اور دوسرے میں بری نہ کرتا۔یہ پریس کانفرنس میرے فیصلوں کو متاثر کرنے محض کی گئی ہے۔ جج ارشد ملک نے اپنی پریس ریلیز میں کہا ہے کہ ویڈیو حقائق کے برعکس ہے اور جو اس میں کی گئی گفتگو کوتو ڑ مروڑ کر سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے ، اس حوالہ سے ضروری ہے کہ سچ کو سامنے لایا جائے ، میں نے انصاف کرتے ہوئے نوازشریف کو العزیزیہ میں سز ا سنائی ، مجھ پر بطور جج بالواسطہ یا بلاواسطہ کوئی دبائونہیں تھا۔ان کا کہنا ہے کہ مجھے پر جوالزامات لگائے گئے ہیں وہ سراسر بے بنیاد ہیں۔ میں نے اپنی جان اور مال کو اللہ کے سپر د کر دیاہے۔ جنگ تیزی ہو چکی ہے۔ بیرسٹر اعتزاز احسن کے بقول امیر قطر چھڑانے آئے تھے لیکن عمران خان نے پٹھانوں والی پوزیشن لے لی ہے کہ لٹیروں کو کسی صورت نہیں چھوڑنا۔ جس میں مقتدر حلقے پوری طاقت سے عمران خان کی پشت پناہی کر رہے ہیں ۔جج ارشد ملک کے بارے میں مبینہ وڈیو چلا کر مریم نوازشریف نے قیدی کے ساتھ ساتھ چچا، اپنی جماعت اور احتساب عدالت کے جج کے لئے بھی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ اس وڈیو کی فارنزک سب سے پہلی ضرورت ہے۔ عدلیہ پر اس حملے کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں۔ چیف جسٹس پاکستان سے بھی اس معاملے کا نوٹس لینے کے مطالبے ہورہے ہیں۔ اپنے دفاع کے لئے دوسروں کو دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور کرنے کی چال چلی گئی ہے۔ ایک تیر سے سو شکار کرنے کی کوشش۔ مریم نوازشریف نے جج ارشد ملک کی وڈیو اور آڈیو جاری کی تو یہ محض ایک نادان یا والد کی محبت میں مبتلا جذباتی لڑکی کی پریس کانفرنس نہیں تھی، شہبازشریف سمیت پارٹی کے تمام سنجیدہ نوعیت کے اہم عہدیداران کی موجودگی اس امر کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ یہ سب ایک طے شدہ منصوبے کے تحت کیاگیا۔ جس اہتمام سے اس وڈیو کا متن جاری کیاگیا، ان پیچیدہ تکنیکی معاملات سے آشنا، بخوبی جانتے ہیں کہ ٹرانسکرائب کرنا مشکل اور صبرآزما کام ہوتا ہے۔ اس نوعیت کی وڈیو اور آڈیو کا متن بننا فنی مہارت کے بغیر ممکن نہیں ہوتا ہے۔ یہ سوال بھی نہایت اہم ہے کہ ناصر بٹ کی جج ارشد ملک سے ملاقات کب ہوئی؟ مریم کے پنڈورا باکس کے سیاسی، قانونی اور کئی دیگر پہلو ہیں۔ سیاست کے شریفوں کے ہاتھ ایسے کئی گناہوں سے آلودہ رہے ہیں۔ سپریم کورٹ پر حملہ، ججوں کو چمک دکھانے کے بے نظیر بھٹو کے منہ سے ادا ہونے والے الفاظ، کوئٹہ میں بریف کیس کی کہانیاں، جسٹس ملک قیوم اور چچا شہباز شریف کی آڈیو لیک جیسے چند نمونے ماضی کی طرف دیکھنے پر فوری ذہن میں آجاتے ہیں۔یہ وڈیو جاری کرنے کی تقریب رونمائی کی صدارت کرتے ہوئے شاید شہبازشریف کواس وقت ہائی کورٹ کے جج جسٹس ملک قیوم سے ٹیلی فون پر اپنی ہونے والی گفتگو کی ٹیپ بھی یاد آرہی تھی ؟ جس میں وہ اپنے سیاسی مخالفین کو سزا دینے اور اس کی مدت کے حوالے سے ہدایات دیتے سنے جاسکتے ہیں۔ پھر وہی ملک قیوم بعد ازاں اٹارنی جنرل بھی بنے اور سوئس حکام کو خط نہ لکھ کر ماضی کی کمی اگرکوئی رہ گئی تھی، تو اسے بھی خوب پورا کرکے منظر سے غائب ہوگئے۔ قانونی طورپر آڈیو عدالتی شہادت یا ثبوت کے طورپر قبول نہیں کی جاتی۔ اس مبینہ وڈیو کی عکس بندی اور پھر آواز کا الگ الگ ہونا بھی اپنی جگہ ایک سوالیہ نشان ہے؟ بڑے بڑے مرحلوں سے گزرنے والا شریف خاندان اور اس کے کرتا دھرتا اتنے سادہ تو ہرگز نہیں کہ وہ یہ حقیقت اور قانونی پوزیشن نہ سمجھتے ہوں۔ بات سادہ سی رہ جاتی ہے جو اعتزاز احسن نے بیان کردی ہے۔ سندھ ساگر کے مصنف، دانشور لیکن منجھے ہوئے سیاستدان اور قانون دان اعتزاز احسن بتارہے تھے کہ امیر قطر تشریف لائے تو عمران خان ان کا استقبال کرنے خود ہوائی اڈے گئے لیکن جب نوازشریف کو چھوڑنے کی بات ہوئی تو ان کو ہوائی اڈے پر الوداع کرنے زلفی بخاری گئے۔یعنی سادہ الفاظ میں ریلیف ملنے کی کوئی صورت جب نظرنہیں آرہی تو اب یہ پتہ پھینکا گیا ہے جس کا اس کے سوا اور کوئی مقصد دکھائی نہیں دیتا کہ دبائو میں لایا جائے اور اس دبائو سے بات چیت کی راہ ہموار کی جائے۔ پریس کانفرنس میں مریم نوازشریف کے منہ سے بھی کہلوا دیاگیا کہ یہ پہلی ٹیپ ہے، اس طرح کا اور بہت سارا مواد بھی موجود ہے۔ کوئی شرارت کی گئی تو مزید ثبوت سامنے لے آئوں گی۔ کا جملہ بلاوجہ نہیں۔