پروفیسر وارث میر کی یاد

July 10, 2019 3:40 pm

مصنف -

اسد اللہ غالب
پروفیسر وارث میر آج ہمیں بے طرح یاد آ رہے ہیں۔ وہ فکرو خیال کی آزادی کے علم بردار تھے۔حریت اور مزاحمت کی روشن علامت تھے۔ اور آج ہم جس طرح نظریاتی اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں ، ایسے میں وارث میر کی جلائی ہوئی شمع کی روشنی کی ہمیں سخت ضرورت ہے۔ وارث میر نے آمریت کی گھٹن کے خلاف علم بغاوت بلند کیا۔پروفیسر وارث میر جمہوریت پسندوں کے شانہ بشانہ تن کر کھڑے نظر آئے۔ مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن ہوا تو انہوںنے اسکی مخالفت کی۔ اس آپریشن کی مخالفت مشرقی کمان کے سربراہ صاحبزادہ یعقوب علی خان نے بھی کی اور چارج چھوڑ کر واپس چلے آئے۔ جنرل ضیا نے انہیں بعد میں اپنا وزیر خاربہ بنا لیاا ور محترمہ بے نظیر کی جمہوری حکومت پر بھی انہیں وزیر خارجہ کے طور پر تھوپا گیا۔ مشرقی پاکستان کی صورت حال پر سب سے پہلے وہاں کے گورنر ایڈمرل احسن نے احتجاج کیاا ور مستعفی ہو گئے۔وہ پینسٹھ کی جنگ کے بعد پاک بحریہ کے سربراہ بھی رہے تھے اور گورنر مشرقی پاکستان کا منصب سنبھالنے سے پہلے وفاق میں یحیی خاں کی کابینہ میں وزیر بھی تھے مگر مشرقی پاکستان کے بارے میں حکومتی پالیسی سے اختلاف کرتے ہوئے انہوں نے نو مارچ اکہتر کو استعفی دے دیا تھا ، یحیی خان کو انہوںنے تحریری صورت میںاپنے استعفی کی وجہ یہ بتائی کہ مشرقی پاکستان کے مسئلے کا فوجی حل ممکن نہیں۔ میں قوم کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ یہی ایڈمرل احسن صاحب ایک نوجوان افسر کے طور پر بانی پاکستان قائد اعظم کے اے ڈی سی کے طور پر فرائض ادا کرتے رہے اور فریڈم ایٹ مڈ نائٹ میں بھی ان کا تفصیلی ذکر موجود ہے۔ قائد کے اس ساتھی کی بات نہ سنی گئی۔مشرقی کمان کے سربراہ جنرل یعقوب علی خان کی بات بھی نہ سنی گئی اور ان کی جگہ جنرل ٹکا خان نے سنبھالی ۔ انہوںنے فوجی ا ٓپریشن کا آغاز کیا توپیپلز پارٹی کے سربراہ بھٹو صاحب ا س رات ڈھاکہ میں تھے اور اسی رات کراچی واپس اتر کر انہوںنے کہا تھا کہ خدا کا شکر ہے ، پاکستان بچ گیا۔ مطلب یہ کہ وہ اس فوجی آپریشن کے حامی تھے۔میں اس کہانی کو طول نہیں دینا چاہتا ، نہ اس امر کی یاد دہانی ضروری سمجھتا ہوں کی یحیی خاں نے جو الیکشن کروایا، اس کے مینڈیٹ پرعمل نہیں کیاا ور شیخ مجیب کو اقتدار منتقل نہیں کیا ۔ بلکہ اسے پکڑ کر مغربی پاکستان لایا گیا۔ ان پر غداری کا مقدمہ چلا۔ ان تفصیلات میں جانے کی آج ضرورت نہیں کہ ان کا تعلق وارث میر کی سوچ اور فکر سے براہ راست نہیں ، وارث میر اپنے طور پر ایک پاکستانی اور ذی شعور کی حیثیت سے ملک کے لئے جو بہتر سمجھ رہے تھے، اسے ا پنی تحریروں میں سامنے لا رہے تھے۔حامد میر کومیرا مشورہ یہ ہے کہ اب دلیلوں کو آج کوئی سننے کے لئے تیار نہیں ہو گا کیونکہ اس میں کئی پردہ نشینوں کے نام آتے ہیں جن کاحمود الرحمن کمیشن رپورٹ میںتذکرہ ضرور موجود ہو گا مگر ا س رپورٹ کو منظر عام پر نہیں لایا گیا اور شایدکبھی لایا بھی نہ جائے۔ میری ناقص رائے میں اسے منظر عام پر لایا بھی نہیںجانا چاہئے کہ ا س سے ہماری صفوںمیںمزید دراڑیں پیدا ہو سکتی ہیں۔
حامد میر آج کڑی افتاد کا شکار ہیں۔ میرا انہیںمشورہ ہے کہ وہ اکہتر کی رام لیلا کو بھول جائیں اور نائن الیون کے بعد سے ہمارے رویوں کو زیر بحث لائیں ۔ بلکہ یہ بھی زمانہ قبل از تاریخ کی بات ہو گی۔ اپنی بحث کاآ ٓغا ز لال مسجد،، سوات، مالا کنڈ آپریشن اور پھر فاٹا کی ایجنسیوں میں ایک ایک کر کے فو جی ا ٓپریشنوں سے شروع کر کے ضرب عضب تک آئیں۔ سارے حقائق الم نشرح ہو جائیں گے۔ یہ ہماری جدید تاریخ کا حصہ ہیں ،بچے بچے کو ان کی تفصیلات از بر ہیں کہ کس طرح لال مسجد کے برقع پوش مجاہدوںنے چینیوں کے مبینہ قحبہ خانوں پر لٹھ برسائے ا ور کس طرح ہمارا الیکٹرانک میڈیا لائیو کمنٹری کرتا رہا کہ آئی ایس آئی کی ناک تلے سرکاری مسجدمیںبارود اور مجایدین کا ڈھیر اکٹھا کیسے ہو گیا اوراس کے خلاف آپریشن کیوںنہیں کیا جاتااور جب یہ آپریشن ہو گیا تویہی میڈیا الٹ کر برسنے لگاا و رایک نئے کربلا کا مرثیہ پڑھنے لگا۔ یہ تما م ویڈیو ریکارڈ اگر کسی کے پا س موجود نہ ہو تو وہ ملت ڈاٹ کام پراس ذخیرے پر ایک نظر ڈال لے۔ اسے اپنے کردار پر سخت شرمندگی ہو گی۔ اس آپریشن کے بعد مولانافضل الرحمن نے کہا کہ مجاہدین کا لشکر مارگلہ کی پہاڑیوں سے ٹکرانے والا ہے۔ جنرل کیانی اور زرداری حکومت نے مل کر سوات میں کامیاب آپریشن کیاا ور مارگلہ کی پہاڑیوں سے ٹکرانے والے لشکر کو پاش پاش کیا۔ پھر جنرل کیانی نے شور مچائے بغیر فاٹا کی ایک ایک ایجنسی میں آپریشن کیا۔ اس کے بعد نواز شریف کا دورا ٓ گیا۔ اور فوج کی کمان جنرل ر احیل کے ہاتھ میں چلی گئی۔ ملک بھر میں زرداری دور سے دہشت گردی کا سونامی پھنکار رہا تھا۔ جنرل راحیل نے ضرب عضب کاا ٓغاز کرنا چاہا تو پاکستان کی کوئی سیا سی پارٹی ایسی نہ تھی جس نے ا سکی مخالفت نہ کی ۔ حتی کہ یہ بھی کہا گیا کہ پاک فوج امریکی جنگ لڑ رہی ہے اور اس میں پاک فوج کے شہدا کو شہید تسلیم نہیں کریں گے ۔مولانا فضل الرحمن نے انتہا کر دی اور کہا کہ ڈرون سے کتا بھی مر جائے تووہ شہید ہو گا ۔ عمران خان مبینہ دہشت گردوں پرڈرون حملوں کے خلاف جلوس نکال رہے تھے۔ ایک تلخ بیان جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن نے دیا جس پر جی ایچ کیو نے جماعت کو معذرت کے لئے کہا مگر جماعت کی شوری کے اجلاس کے بعد لیاقت بلوچ نے کہا کہ ہم نہ بیان واپس لیں گے ، نہ اس پر معذرت کریں گے بلکہ وزیر اعظم سے شکایت کریں گے کہ فوج سیاست میں حصہ لے رہی ہے۔ ملک بھر میں ایک ہی مطالبہ زور پکڑ گیا تھا کہ جنگ کوئی حل نہیں ، جنگ کے بعد بھی مذاکرات ہی کرنا پڑتے ہیں تو کیوںنہ پہلے ہی مذاکرات کر لئے جائیں، حکومت نے مذکرات کاری کے لئے سہولتیں بہم پہنچائیں۔ مگر اس دوران کراچی ایئر پورٹ اوربعد میںآرمی پبلک اسکول کے سانحے پیش آ گئے ، اور بیت اللہ محسود بھی نشانہ بن گیا ،اس کے بعد سیاسی ، حکومتی اور فوجی لیڈر شپ نے گونر ہائوس پشاور میں ڈیرے جما لئے اورا سوقت وہاں سے اٹھے جب نیشنل ایکشن پلان پر دستخط ہو گئے ۔ فوجی آپریشن کا سب سے بڑا مخالف عمران خان بھی اپنے دھرنے کی چوکڑی بھول گئے۔ وہ آج بھی سر عام کہتے ہیں کہ ہم نے امریکی جنگ لڑی۔ اس لئے پروفیسر وارث میر نے ستر اور اکہتر میں جو تحریریں لکھیں ، ان کے اثرات آج بھی موجود ہیں اور خود حکومت اور فوجی قیادت مانتی ہے کہ بلوچ شر پسندوںکو قومی دھارے میں شر کت کا موقع دیا جائے لیکن پی ٹی ایم پر ایسی لچک کا مظاہرہ نہیں کیا گیا، یہ وہ رموز مملکت ہیں جنہیں مملکت کو چلا نے والے ہی بہتر سمجھتے ہیں لیکن ایک ذی شعور، ذی فہم انسان کی حیثیت سے پروفیسر وارث میر نے اپنے ضمیر کے مطابق لکھا۔ ضمیر کی آواز پر لبیک کہنے والے کوڑے کھاتے ہیں ۔ جیلیںکاٹتے ہیں۔ پھانسیوں پر لٹکتے ہیں ۔ زہر کا پیالہ پینے پر مجبور کئے جاتے ہیں۔
حامد میر کے والد نے جو بات کی ۔ ا سکی طرح کئی اور لوگ بھی تھے جنہوںنے ضمیر کی آواز بلند کی ۔ ایڈمرل احسن نے کی۔ گورنر صاحبزا دہ یعقوب علی خان نے کی ، عمران نے کی۔ مولانا فضل لرحمن نے کی ، منور حسن نے کی ،نواز شریف نے کی او ق لیگ کو بخش دیجئے ، ملک کی ہر چھوٹی بڑی سیاسی اور مذہبی پارٹی نے کی۔ اس وقت جب ہم پروفیسر وارث میر کو ہدیہ تبریک پیش کر رہے ہیں تو ان کے نظرئیے پر چلنے والے سبھی قائدین کو سلام کرنا پڑے گا۔
ملک میں میثاق جمہوریت کا چرچاہے۔ میثاق معیشت کی باتیں بھی کی جا رہی ہیں مگر میری تجویز ہے کہ ایک میثاق دفاع بھی کیا جائے۔ قوم کو ہر معاملے میں یک سو ہونا چاہئے۔