مسئلہ کشمیر، اقوام متحدہ کی رپورٹ اور ہماری سفارتی کامیابی!!!!

July 10, 2019 3:39 pm

مصنف -

محمد اکرم چوہدری
بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا موقف دنیا تسلیم کر رہی ہے۔ اب اقوام متحدہ کی رپورٹ نے دنیا کی توجہ حاصل کی ہے۔ اقوام متحدہ کے کمشن برائے انسانی حقوق کی جاری کردہ رپورٹ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی میں ایک اہم سنگ میل رکھتی ہے۔ گذشتہ برس اقوام متحدہ کے کمشن برائے انسانی حقوق نے تاریخ میں پہلی مرتبہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے رپورٹ پیش کی تھی۔ اقوام متحدہ نے کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے بین الاقوامی سطح کی آزادانہ تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان نے دو ہزار اٹھارہ اور حال ہی میں ہونیوالی رپورٹ کو خوش آمدید کہا ہے جبکہ دوسری طرف بھارت نے رپورٹ کو شائع نہ کرنے اور اقوام متحدہ کے کمشن برائے انسانی حقوق کی حاصل شدہ معلومات کو مسترد کیا ہے۔
اقوام متحدہ کی طرف سے مسئلہ کو اہمیت دینا، وہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تحقیق کرنا اور یہ مسئلہ دنیا کے سامنے رکھنا یقینا کشمیر میں دہائیوں اور نسل در نسل بھارتی مظالم کے خلاف لڑنے اور آزادی حاصل کرنے والوں کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ بھارت فوجی طاقت کے زور پر دہائیوں سے کشمیریوں کے حقوق غصب کیے بیٹھا ہے، قتل و غارتگری کا بازار گرم ہے، کشمیری بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں، انہیں اظہار رائے کی آزادی ہے نہ ہی گھومنے پھرنے کی آزادی ہے۔ انہیں بھارتی فوج کے مظالم کا سامنا ہے، بھارتی فوج کو نکالنے کے لیے کشمیری نسل در نسل تشدد کا سامنا کر رہے ہیں، بھارتی قبضے سے آج تک شہادتوں کا سلسلہ جاری ہے، عزتیں پامال ہو رہی ہیں، ننھے بچے بھی ظلم و ستم کا شکار ہیں، کشمیریوں کو آزادی مانگنے کی سزا گولیوں میں دی جاتی ہے، کبھی ان پر لاٹھی چارج ہوتا ہے، کبھی ان کو سرعام مارا جاتا ہے، کبھی خواتین کی بے حرمتی کی جاتی ہے، کبھی حریت قیادت کو قید کیا جاتا ہے، کبھی انٹرنیٹ بند کیا جاتا ہے،کبھی گھر گھر تلاشی کے نام پر نوجوانوں کو شہید کیا جاتا ہے، کبھی سرعام گولیاں ماری جاتی ہیں، کبھی آزادی کے متوالوں کو غائب کر کے نعش پھینک دی جاتی ہے۔ یہ مظالم برسوں سے جاری ہیں۔ بھارت نے اپنا ظالمانہ رویہ نہیں بدلا تو سلام ہے ان کشمیری مجاہدین کو جو لاکھوں کی فوج سے لڑتے جا رہے ہیں، جان کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں، معذوری کا سامنا کر رہے ہیں لیکن غلامی کی زندگی قبول نہیں کر رہے۔ جب کبھی مسئلہ کشمیر کا ذکر ہوتا ہے امام صحافت معمار نوائے وقت کی یاد شدت سے آتی ہے وہ دنیا بھر میں مسئلہ کشمیر اور کشمیریوں کی آزادی کی سب سے مضبوط آواز سمجھے جاتے تھے ہمیں یاد ہے وہ فرمایا کرتے تھے بھارت کے ساتھ مسئلہ کشمیر کے حل تک تمام تعلقات ختم کر دینے چاہییں۔ دونوں ملکوں کے مابین سب سے اہم مسئلہ کشمیر ہے جب تک کشمیر کا فیصلہ نہیں ہو جاتا اس وقت تک کسی قسم کی بات چیت کسی بھی سطح کے مذاکرات بے معنی ہو نگے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بھارت نے ہمیشہ مذاکرات سے راہ فرار اختیار کی ہے۔ ہمیشہ سے بھاگنے والا بھارت اب اقوام متحدہ کے کمشن برائے انسانی حقوق سے بھی راہ فرار اختیار کر رہا ہے۔ بھارت کب تک یہ ظلم جاری رکھ سکتا ہے۔ کب تک کشمیریوں کی آزادی کی آواز کو دبا سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کشمیریوں کی آزادی کی آواز کو دنیا تک پہنچا رہی ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ کشمیریوں کی آزادی کی آواز اور جدوجہد کی حمایت کی ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ ہماری طرف سے بھارتی مظالم کی ہمیشہ مذمت کی گئی ہے۔ دنیا کو بھارت کا مکروہ چہرہ دکھایا ہے۔ آج دنیا دیکھ رہی ہے کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ کو شائع نہ کرنے کا مطالبہ کون کر رہا ہے، کون اقوام متحدہ کی فائنڈنگز کو ڈسمس کر رہا ہے۔ پاکستان دو ہزار اٹھارہ کی طرح دو ہزار انیس کی رپورٹ کو بھی ویلکم کر رہا ہے۔
قارئین کرام سفارتی سطح پر یہ پاکستان کی ایک بڑی کامیابی ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اس اہم ترین مسئلے پر خاصی گرفت رکھتے ہیں اور وہ ہرا ہم موقع پر پاکستان کا موقف نہایت عمدگی سے پیش بھی کرتے ہیں۔ شاہ محمود قریشی کے پاس اقوام متحدہ کی رپورٹ کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال اور بھارتی مظالم کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کا ایک اور موقع مل رہا ہے وہ اس میں بھی سرخرو ہونگے۔ وزارت خارجہ ملک کو درپیش بین الاقوامی سطح کے مسائل میں مسلسل کامیابیاں مل رہی ہیں یہ وزیر اعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی انتھک محنت کا نتیجہ ہے۔ گذشتہ ہفتے امریکہ نے براہمداغ بگٹی اور حربیار مری کی بلوچستان لبریشن آرمی کو بھی دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہوئے اس کے اثاثوں کو منجمد کر دیا تھا۔ یہ تنظیم ملک میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہے۔ بلوچستان میں چینی انجینئرز، ہوٹل، کراچی میں چینی قونصلیٹ، فورسز اور عوام پر حملوں میں بھی ملوث ہے۔ بی ایل اے پر پابندی سے اسکی کارروائیوں میں کمی ہو گی جبکہ اس کے کارکنوں، سہولت کاروں اور مالی مدد کرنے والوں کو گرفتار کرنے میں بھی آسانی ہو گی۔ سفارتی سطح پر ان دونوں کامیابیوں پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی مبارکباد کے مستحق ہیں۔ ان سے مزید اچھے کام کی توقع ہے۔ یہی عمران خان کا وژن ہے کہ ہر سطح پر ہر فورم پر پاکستان کا موقف دو ٹوک اور واضح انداز میں دلیل کے ساتھ، حقیقت پسندی کے ساتھ اور تاریخی حوالوں کے ساتھ پیش کیا جائے۔ دنیا کو پرامن بنانے کے لیے پاکستان نے قربانیاں دی ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ان قربانیوں کو اچھے الفاظ میں یاد کیا جائے اور پاکستان کے بنیادی مسائل کو حل کرنے کے لیے دنیا بھی اپنا کردار ادا کرے وزارت خارجہ کی کارکردگی لائق تحسین ہے۔ انہیں اسی عزم اور جذبے کے ساتھ کام جاری رکھنا چاہیے۔ دعا ہے کہ پاکستان کے دیرینہ مسائل حل ہوں اور ملک میں حقیقی تبدیلی کا آغاز ہو۔ پاکستان حقیقی معنوں میں فلاحی ریاست بنے، اقبال کے خواب کو تعبیر ملے اور عام پاکستانی کو قائد کا پاکستان!!!!!