سندھ ایڈز کے خوفناک امراض سے دو چار

June 1, 2019 3:25 pm

مصنف -

رومیسہ حسیں

لفظ ایڈز âAIDS áانگریزی کے چار لفظوں سے مل کر بنا ہے acquired immune deficiency syndrome جیسے عام زبان میں ایڈز کہا جاتا ہے یہ ایک بہت ہی خطرناک بیماری ہے جسکا انکشاف 1981میں ہوا تھا _
ایڈز کے جراثیم کو (HIV)کہا جاتا ہے اسکے ساتھ اسکو انسانی جسم کے مدافعتی نظام کو ناکارہ بنانے والا وائرس بھی کہتے ہیں ‘ایڈز کا وائرس زیادہ تر خون اور جنسی رطوبتوں میں پایا جاتا ہے ‘اسکے علاوہ یہ جسم کے باقی رطوبتوں مثلا تھوک ‘آنسو ‘ پیشاب اور پیسنے میں بھی پایا جاتا ہے ‘لیکن یہ بیماری پھیلانے کا سبب نہیں بنتے _
ایڈز کے پھیلنے کے بہت سی وجوہات ہیں ‘ جس میں بدکاری ‘ایڈز شدہ مریضہ سے پیدا ہونے والا بچہ ‘خون کا انتقال ‘استعمال شدہ سرنج ‘شیو بنانے کے لیے استعمال ہونے والا ایک بلیڈ بھی یہ وائرس ایک جسم سے دوسرے جسم میں منتقل کر دیتا ہے _
ایڈز دن بہ دن کافی تیزی سے سندھ کے دیہاتی علاقوں میں پھیلتا جارہا ہے ‘اس وقت سندھ کے بہت سے اہم شہر اس امراض سے متاثر ہوئے ہیں سندھ میں ایڈز کی بڑتی ہوئی تعداد بہت ہی الم ناک بات ہے ‘ حالیہ دنوں میں سب سے زیادہ ایڈز کے کیسز لاڑکانہ میں منظرے عام پر آے ہیں اگر دیکھا جائے تو لاڑکانہ کو حکمرانی پاکِستان پیپلز پارٹی کا گڑ تصور کیا جاتا ہے اور صرف وہاں ہی تیرہ دنوں کے اندر نو سو (900)سے زیادہ کیسز کا یوں سامنے آنا اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ سندھ ہیلتھ کیئر سسٹم اور صوبائی حکومت عوام کو ایک صحت مند زندگی فراہم کرنے میں پوری طرح ناکس ہو چکی ہے
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیسے ایڈز سے خود کو اور آنے والی نسلوں کو محفوظ رکھا جائے ‘ اس کے لیے ہمیں احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد کرنا ہوگا جیسے کہ ہم اپنے جیون ساتھی تک محدود رہیں ‘جنسی بے راہ روی سے خود کو دور رکھیں ‘اگر ٹیکہ لگوانہ ہو تو غیر استعمال شدہ سرنج پر اصرار کریں’ نشہ بازوں کی استعمال شدہ سرنج سے پرہیز کریں ‘خون کا انتقال تب کرآئیں جب اسکی اشد ضرورت ہو اور اس صورت میں بھی اس بات کی یقین دہانی کرائی جائے کہ خون میں ایڈز کے جراثم موجود نہ ہو _اس کے ساتھ سندھ ہیلتھ کیئر سسٹم اور صوبائی حکومت کو اپنے فرائض میں سنجیدگی کا مُظاہِرہ کرتے ہوئے سرکاری ہسپتال کے خلاف کارروائی کرنی ہوگی کیونکہ سب سے زیادہ گفلت کا مُظاہِرہ انکی جانب سے ہوتا ہے _
اس پریشان کن صورتحال سے نمٹنے کے لیے صوبائی حکومت کو لوگوں میں شعور بیدار کرنے کے لیے بہت سے پروگرام سر انجام دینے ہونگے کیونک بہت سے لوگ ایڈز کے ہونے کی وجوہات سے پوری طرح لا علم ہیں ‘اس مشکل وقت میں میڈیا کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا سوشل میڈیا کے ذریعے ایڈز سے بچاؤ کی مہم کا آغاز کرنا ہوگا ساتھ ہی پرنٹ میڈیا کو بھی اپنے اخبارات میں ایڈز سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر پر مضامین شائع کرنے ہونگے ‘سندھ میں تعلیمی نظام کو بھی بہتر بنانے کی سخت ضرورت ہے کیونکہ جب تک لوگ تعلیم جیسے زیور سے آشانہ نہیں ہونگے تب تک سندھ میں اس طرح کی بیماریوں پر عبور حاصل کرنا مشکل ہے _
ان تمام احتیاطی تدابیر پر عمل کر کے ہی ہم ایک صحت مند زندگی گزار سکتے ہیں اور آنے والی نسلوں کو بھی اس خطرناک بیماری سے محفوظ رکھ سکتے ہیں