یہ عجیب طرزِ نصاب ہے

June 1, 2019 3:20 pm

مصنف -

ڈاکٹر فوزیہ تبسم

عمران خان نے قوم کو تبدیلی کا نعرہ دیا۔ ساری قوم عمران خان کے پیچھے چل پڑی اور عوام آنکھیں بند کرکے عمران پر اعتماد کرنے لگی جس سے بھی ہم بات کرتے وہ کہتا عمران کو ووٹ دیں گے ۔ گویا عمران لوگوں کے دلوں میں بسنے لگا۔ آج عمران کی حکومت ہے ، آج وہی عوام ہے ، آج اسی غریب عوام میں ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والا شخص چند ماہ ہی میں اس حکومت سے تنگ آگیا ہے ۔ آخر یہ کیا وجہ ہے ؟ اتنی کم مدت میں عوام کی قوتِ خرید ختم ہو کر رہ گئی ہے ، ملک دیوالیہ ہونے کے در پہ ہے ۔ نئی حکومت کا موقف اور محور تو کچھ یوں نظر آتا ہے کہ اُس نے جیسے عام عوام کے ہر فرد پر ٹیکسوں کی بھرمار کرنا ہے ۔ نئی تبدیلی سرکار سے جو بھی سوال کیا جائے کہ ملکی معیشت کو آخر کس طرح پٹڑی پر چڑھائیں گے ، تو ان کا جواب ہر بار ایک ہی ہوتا ہے کہ پچھلی حکومت کے لوگ ملک کا پیسہ کھا گئے ہیں مگر آپ کی حکومت تو لوٹی ہوئی دولت واپس لینے آئی تھی۔ دولت لوٹنے والوں سے دولت واپس لینے کی بجائے آپ نے عوام پر ٹیکس کا بوجھ ڈال دیا۔ ضروریاتِ زندگی کی ہر چیز کو مہنگا کردیا گیا ہے ۔ یہ تو ہمیشہ ہی سے ریت رہی ہے کہ کوئی بھی نئی آنے والی حکومت پچھلی حکومت کو چور ڈاکو ہی کہتی ہے اور ان پر ملک کو دیوالیہ کرنے کا الزام لگاتی ہے مگر یہاں افسوس کی بات تو یہ ہے کہ اب تک کوئی آنے والی حکومت پچھلے حکمرانوں سے لوٹی ہوئی دولت واپس نہیں لے سکی ہے ۔ ہمیں عوامی مسائل کو کم کرنا ہے نہ کہ اُن میں اضافہ کرنا ہے ، ہمیں وہ وسائل پیدا کرنا ہوں گے جن سے بہتری آئے ۔ جب تک حکومت انڈسٹری کی طرف نہیں آئے گی ملک کی انڈسٹری نہیں چلے گی ، جب تک شعبۂ زراعت کو فروغ نہیں دیا جائے گا اس ملک کی حالت ٹھیک نہیں ہوگی۔ مہنگائی میں دن بہ دن اضافہ ہی ہوگا۔ آپ کب تک قرض لے لے کر ملک چلاتے رہیں گے ؟ ہم اپنے وسائل کو کیوں نہیں استعمال کرتے ؟ جب وسائل پیدا نہیں کیے جائیں گے تو مسائل ہی پیدا ہوں گے ۔ ہمارے ملک کے ہر محکمہ میں کرپشن کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے ۔ ہر محکمہ سوچتا ہے کہ شریف آدمی کو کیسے تنگ کیا جائے اور پیسہ کیسے بنایا جائے ؟ پچھلی جتنی بھی حکومتیں آئیں کبھی کسی محکمہ کو ٹھیک کرنے کی کوشش نہیں کی گئی، ان حکومتوں کو انہیں اداروں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا ہوتا ہے ۔ ہمارے تمام لیڈر اور اُن کے وزرا اگر اپنے پروٹوکول سے باہر نکل آئیں اور اس قوم کے بارے میں سوچیں تو شاید ہماری حالت بدل جائے ۔ افسوس تو یہی ہے کہ یہاں خاندان کے خاندان حکومت میں ہیں اور اُن کی نسلیں بھی آرہی ہیں۔ ہمارے حکمرانوں نے پاکستان کو ایک پیسہ بنانے والی دوکان سمجھ رکھا ہے ۔ تمام سیاستدانوں کے گھر اور کاروباری ذرائع تو پاکستان سے باہر ہوتے ہیں مگر حکمرانی کا نشہ تو انہیں مملکت ِ پاکستان میں لے ہی آتا ہے ۔ اور ہماری بیوقوف عوام اُن کے جھوٹے نعروں کے پیچھے لگ جاتی ہے ۔ کسی بھی حکومت نے شعبۂ صحت اور میڈیکل کے حوالے سے اس کی ترویج اور اس سے منسلکہ رفاہِ عامہ کے مسائل کے متعلق کبھی بھی نہیں سوچا، کیسی عجیب بات ہے کہ ہماری کسی بھی حکومت نے گذشتہ 72برسوں میں کبھی بھی ایک عام سفید پوش آدمی کے معیارِ زندگی کو برقرار رکھنے اور بہتر بنانے کے بارے میں کبھی بھی کوئی سنجیدہ اقدام نہیں اُٹھایا۔ ہمارے بزرگ اچھے وقت کا انتظار کرتے کرتے عالم عدم کو سدھار گئے اور اب ہم بھی اچھے وقت کی امیدیں آنکھوں میں لیے اُدھیڑ عمر کو پہنچ چکے ہیں اور قریب ہے کہ ہم بھی راہِ عدم کو کوچ کرجائیں جبکہ ابھی ہم خود اپنے نونہالانِ چمن (آنے والی نسلوں) کو سنہرے دنوں کی امید دلاتے پھرتے ہیں۔ امید اور دلاسوں کی ان بیساکھیوں کے سہارے آج پاکستان کی تیسری چوتھی نسل کو اچھے دنوں کا انتظار کروایا جارہا ہے ۔ ہم دیکھیں گے لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے ؟ مگر کون دیکھے گا؟ چونکہ پاکستان تو ابھی تک لبرل اور اسلامی ریاست کے نظریوں کے درمیان ہی جھولتا نظر آرہا ہے ۔ ہمیں آج تک یہ معلوم ہی نہیں کہ ہم اسلامی شریعت کے لحاظ سے ہی اپنا آئین و قانون چلائیں گے اور مملکت کو اس کے ثمرات تک لے کر پہنچیں گے یا پھر مغربی ریاستی ڈھانچوں کی طرح؟ ایک لبرل سوچ ہر پانچ دس سالوں کے بعد ہماری ریاست کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے کہ ریاست کو بھلا مذہب سے کیا تعلق؟ ریاست کو مذہب سے الگ کرکے ہی پاکستان کو فلاحی مملکت بنایا جاسکتا ہے ۔ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ پاکستان ابھی تک اپنی شناخت کے بحرانی دور ہی سے گزر رہا ہے ۔ گو علامہ اقبال، شاعرِ مشرق نے کیا خوب فرمایا تھا …
الفاظ و معانی میں تفاوت نہیں لیکن
مُلّا کی اذاں اور مجاہد کی اذاں اور
شناخت کے بحران سے گزرتی اس گم گشتہ قوم کو پچھلے 8برس سے کرپشن کے خلاف ایک ان دیکھی جنگ میں نفسیاتی طور پر جھونک دیا گیا ہے ۔ دراصل یہ وہ قوم ہے جو نفسیاتی طور پر پنڈ کے چودھری کو مار پڑتے دیکھ کر خوش ہوتی ہے ۔ شاید یونہی ان کا رانجھا راضی ہوتا ہے ۔
ریاستِ مدینہ کے خواب دکھلانے والے خانِ اعظم کو کوئی بتلائے کہ لیڈر تو وہ ہوتا ہے کہ جب اہل مکہ نے اڑھائی برس تک سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر معاشی بائیکاٹ نافذ کیا تو آپ نے اپنے قریبی مومنین کے ہمراہ سب سے پہلے خود پیٹ پر پتھر باندھ کر بھوک اور پیاس کا مقابلہ لیڈرانہ انداز میں کیا۔