عزت کی نیلامی……ہوئے ذلیل تو عزت کی جستجو کیا ہے

June 1, 2019 3:19 pm

مصنف -

محمد ریاض علیمی

عزت ایک بہت بڑی نعمت ہے ۔ عزت حاصل کرنا ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے۔ عزت حاصل کرنے میں انسان اپنی پوری زندگی لگادیتا ہے۔ عزت کے حصول کے لیے انسان کیا کیا جتن نہیں کرتا۔ انسان کی ہر ممکن کوشش صرف عزت کروانے کے لیے ہوتی ہے کہ کوئی بھی معاشرے میں اس سے بات کرے تو عزت سے بات کرے۔ ہر شخص کو اپنی بے عزتی برداشت نہیں ہوتی۔ کوئی بھی شخص چاہے کسی بھی پیشے، طبقہ یا خاندان سے تعلق رکھتا ہو‘ اپنی عزت گنوانا پسند نہیں کرتا ۔لیکن ان لوگوں کو کیا کہاجائے جو خود ہی اپنی عزتوںکا سودا کرنے پر تلے رہتے ہیں۔ محض دنیوی لالچ کی خاطر اپنی عزتوں کو نیلام کردیتے ہیں۔ جس لڑکی کو بالغ ہونے کے بعد اس کے باپ نے شرم و حیائ کی خاطر سینے سے نہیں لگایا ہوتا وہ ’’انعام‘‘ کی لالچ میں غیروں کی باہوں میں آکر شرم و حیا کا جنازہ نکال دیتی ہے۔ اس کی متعددمثالیں آئے دن ٹی وی چینلز پر نشر ہونے والے ’’انعامی‘‘ اور ’’جیتو‘‘وغیرہ جیسے پروگراموں میں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ ایسے پروگراموں میں لالچ کی خاطر گھر کی باعزت بیٹی باپ ، بھائی اور شوہر کے سامنے دوسروں کی باہوں میں آتی ہے اوراس سے گلے ملتی ہے۔ ایسے موقع پر اس کے بے غیرت باپ، بھائی اور شوہر بھی تالیاں بجارہے ہوتے ہیں۔
یہاں معاملہ صرف خواتین اور جوان لڑکیوں کا نہیں ہے بلکہ مرد حضرات بھی اپنی عزتوں کو نیلام کرنے سے گریز نہیں کرتے ۔ ٹی ۔ وی اینکر جو چاہتا ہے ان سے کروالیتا ہے ، یا جو بات چاہتا ہے ان سے کہلوا لیتاہے۔ ہمارے بھولے بھالے لالچی لوگ اپنی عزتوں کی پرواہ کیے بغیر موٹر سائیکل کی لالچ میں وہ کام کر بیٹھتے ہیں جو انہیں قطعاً نہیں کرنا چاہیے۔ ایک پروگرام میں ایک اینکر نے نیا گیم شو متعارف کروایا ۔ گیم یہ تھا کہ چار خواتین کو بلا کر انہیں اپنے پیچھے بھگایا اور کہا کہ جو جو سب سے پہلے مجھے پکڑلے گی اسے موٹر سائیکل دی جائے گی ۔ وہ چاروں خواتین اس لالچ میں پاگلوں کی طرح اس اینکر کے پیچھے بھاگتی رہیں۔ خود کہاں، دوپٹہ کہاں، چپل کہاں، بس موٹر سائیکل کے لیے بھاگتی رہیںاور اپنا تماشا بنواتی رہیں۔ یہاں تنقید برائے تنقید نہیں ، برائے اصلاح ہے ۔ ذرا ٹھنڈے دل و دماغ سے سو چیے کہ جس عورت کو اسلام نے صفا و مروہ کی سعی اور طوافِ کعبہ میں بھی تیز تیز چلنے اور بھاگنے سے منع کیا ہے ، صنف نازک کی نزاکت کا خیال رکھتے ہوئے انہیں آہستہ آہستہ چلنے کا حکم دیا، وہ صنف نازک انعام کی لالچ میں آکر پاگلوں کی طرح بھاگ کر اپنی غیرت کا جنازہ نکال رہی ہوتی ہے۔ اور بات صرف یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ جب وہ اس دوڑ میں جیت جاتی ہے تو خوشی میں اتنی مست ہوجاتی ہے کہ اسے اچھائی ،برائی اور صحیح غلط کی تمیز ختم ہوجاتی ہے۔ خوشی میں غیر مرد کی باہوں میں بھی آجاتی ہے اور اس کے ساتھ موٹر سائیکل پر پیچھے بیٹھ کر پورے اسٹوڈیوکا چکر بھی لگالیتی ہے ۔ ایسے موقع پر اس بے غیرت عورت کے بھائی، باپ یا شوہر کی غیرت کہاں چلی جاتی ہے، نہیں معلوم کہ وہ کس طرح اس بے غیرتی پر Compromise کرنے پر رضا مند ہوجاتے ہیں۔
اسی طرح ایک پروگرام میں اینکر نے دس ہزار روپے انعام کے لیے سوال کیا کہ عورت اپنے سے بڑی عمر کے شخص سے شادی کیوں کرتی ہے؟ اس سوال کے جوا ب میں کسی نے کچھ کہااور کسی نے کچھ کہا ۔ لیکن ایک صاحب نے تو بے غیرتی کی تمام حدیں پار کرتے ہوئے ایسا جواب دیا جو ناقابلِ بیان ہے۔ اس جواب پر اینکر صاحب بھی خوش ہوئے اور اسے انعام سے بھی نواز دیا۔ ایک مخلوط پروگرام جس میں مرد ، عورت، بچے اور بوڑھے سب موجود ہوں ،اس میں اس طرح کے سوالات کرکے کون سی تہذیب سکھائی جارہی ہے؟ کیا مہذب قوم کی یہی علامات ہیں کہ اُن کی غیرتوں کا جنازہ نکال دیا جائے ؟ حقیقت تو یہ ہے کہ ایک مہذب قوم کو’’ لوٹ مار کرنے والی قوم ‘‘ اور ’’لالچی قوم ‘‘ بنانے میں ان ٹی وی کے پرو گراموں کا بہت بڑا کردار ہے۔ وہ قوم جسے کم چیزوں پر قناعت کرنے کا سبق دیاگیا تھا ۔ جس قوم کو صبر اور شکر کا درس دیا گیا تھا ۔ وہ قوم یکا یک کیسے بدل جاتی ہے کہ لوٹ مار کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی؟ جہاں کہیں راستے میں جو چیز پڑی ہوموقع پاکر اسے مالِ غنیمت سمجھ کر اٹھالیتی ہے۔ اس قوم کے ذہنوں میں فتور اور ان کے دل میں لالچ ٹی۔ وی پر نشر ہونے والے اس طرح کے پروگراموں کی بدولت ہے۔
گذشتہ تیس چالیس سال پہلے جائیں تو 1975ئ میں سرکاری چینل پر شروع ہونے والا پروگرام ’’نیلام گھر ‘‘ بھی خوب ہوا کرتا تھا جسے طارق عزیز ہوسٹ کیا کرتے تھے۔ وہ خو د بھی ایک علم دوست شخصیت اور صاحب مطالعہ تھے۔ اگر اس پروگرام کی ویڈیوز دیکھی جائیں تو محسوس ہوتا ہے کہ وہ انہتائی تہذیب اور تمیز کے دائرے میں ہوا کرتے تھے ، کوئی ہنگامہ، شور شرابا نہیں ہوتا تھا۔ ان پروگراموں سے باقاعدہ سیکھنے کو ملتا تھا۔ معلوماتی سیشن ہوتا تھا۔ سوالات و جوابات ہوتے تھے، صحیح جواب دینے والے کو انعام دیا جاتا تھا۔ تاریخی اور ادبی سوالات ہوا کرتے تھے۔ اسی وجہ سے لوگوں کے اندر کتابوں کے مطالعہ کا رجحان بڑھتا تھا۔ ہر شخص چاہے وہ مر د ہو یا عورت اپنی معلومات میں اضافہ کرنے کی کوشش کرتا تھا۔ بچے بھی دلچسپی لیتے تھے۔ لیکن اب یہ سب کچھ ختم ہوچکاہے۔ انعام حاصل کرنے کا پیمانہ بدل چکا ہے۔ اب جو سب سے زیادہ بد تہذیبی اور بد اخلاقی کا مظاہرہ کرے گا وہی سب سے زیادہ انعام کا حقدار ہوگا۔ اب انعام حاصل کرنے کا پیمانہ یہ ہے کہ کوئی بھی غیر اخلاقی حرکت کرو اور انعام پاؤ۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ پہلے کا نیلام گھر علم کے نور سے روشن ہوا کرتا تھا اور اب کا نیلام گھر بد تہذیبی اور بداخلاقی کے اندھیرے میں ڈوبا ہوتا ہے۔
بہرحال اب پانی سر سے گزرتاجارہا ہے۔ غلط اور صحیح کی تمیز ختم ہوتی جارہی ہے۔ برائیوں پر تنقید کرنے والا خود برا بن جاتاہے۔بے حیائی اور بے غیرتی کو روشن خیالی کا نام دیاجارہاہے اور غیرت مند طریقے سے زندگی گزارنے کو قدامت پسندی کہا جارہا ہے ۔ اگر اب بھی ان معاملات کی روک تھام نہیں کی گئی تو وہ وقت دور نہیں جب باعزت گھر کی لڑکیاں نیم برہنہ ٹی وی پر کھڑی ہوں گی اور ان کے ماںباپ، بہن بھائی اور شوہر فخر محسوس کرتے ہوئے تالیاں بجارہے ہوں گے۔ اللہ ہمیں ایسے وقت سے محفوظ فرمائے ۔

معاشرہ ویسے ہی اخلاقی طور پر تباہی کے دہانے پر ہے۔ شرم و حیائ نام کی کوئی چیز نہیں بچی۔ انہیں وجوہات کی بنائ پر گھر برباد ہورہے ہیں۔ گھر وں میں بڑوں کا ادب اور چھوٹوں کا لحاظ مکمل طور پر ناپید ہے۔ پہلے بھی عرض کی گئی تھی کہ ایسے پروگراموں کی حدودو قیود متعین ہونی چاہئیں۔ سینسر بورڈ بحال ہونا چاہیے۔ پیمرا کو آنکھیں کھولنی چاہئیں کہ ٹی وی چینلز کے اخلاق باختہ پروگرام معاشرے کو کس سمت لے جارہے ہیں۔ اس کی روک تھام کے لیے فوری اقدامات ہونے چاہئیں۔