ایک بار پھر دہشت گردی کی لہر

May 14, 2019 3:10 pm

مصنف -

پروفیسر خالد محمود ہاشمی

وفاقی حکومت نے این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو 1……8 کھرب روپے دئیے ہیں۔ 866……6 ارب پنجاب 441……8 ارب سندھ 290……4 ارب خیبرپختونخواہ اور 180……3 ارب بلوچستان کو دئیے گئے ہیں۔ اس سے ہٹ کر ساری باتیں ہیں۔ وعدے ہیں تسلیاں ہیں ہر کام پیسے سے ہوتا ہے ۔ پرائمری سکول کی تعمیر نو دور کی بات اسکے لیے فلٹر کا صاف پانی اور ٹائلٹ بھی پیسے مانگتا ہے ۔
کیا وجہ ہے کہ نابینا افراد کو سڑکوں پر نکلنے اور احتجاج کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے ۔ گنتی کے نابینا افراد کی داد رسی سے اللہ اور اس کے رسولؐ کی خوشنودی نصیب ہو سکتی ہے ۔ جہاں پوری قوم کو معاشی حالات میں تبدیلی کی تسلی دی جاتی ہے ۔ وہی تسلی ایک جملے میں نابینا افراد کو بھی دی جا سکتی ہے ۔
پنجاب اسمبلی نے نئے بلدیاتی نظام کا بل منظور کیا ہے جس کے تحت بلدیاتی ادارے تحلیل اور ایڈمنسٹریٹرز مقرر ہو گئے ۔ ایک سال میں نئے انتخابات ہوں گے ۔ جس تیزی سے بل منظور کرانے کی کوشش کی گئی اس سے شکوک و شبہات پیدا ہوئے ۔ ارکان اسمبلی کے معاوضوں ا ور مراعات کا بل بھی غیر معمولی تیزی سے منظور ہوا تھا لیکن بلدیاتی نظام کے بل کی عاجلانہ منظوری نے اپوزیشن کو احتجاج پر مجبور کیا ار معاملہ عدالت میں لیجانے کا اعلان ہوا۔
پشتون تحفظ موومنٹ کی سرگرمیوں بارے فوجی ترجمان کے دوٹوک بیانیہ کے بعد افغانستان سے دہشگردوں کا حملہ سامنے آیا۔ 3 فوجی شہید 7 زخمی ہوئے ۔ سرحد پر باڑ لگانے کے دوران نشانہ بنایا گیا۔ افغان زمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے ۔
لاہور میں داتا دربار پر حملہ بھی ہوا اور گزشتہ روز گوادر میں ہوٹل کو نشانہ بنایا گیا ان حملوں میں دشمن کسی کو بھی استعمال کر سکتا ہے ۔ پی ٹی ایم کی سرگرمیوں ا ور مطالبات کے پس منظر میں اس کے لیڈروں سے پوچھا جائے کہ وہ پاکستان کا حصہ ہیں یا افغانستان کا۔ لاہور میں داتا دربار پر حملہ بھی ہوا اور گزشتہ روز گوادر میں ہوٹل کو نشانہ بنایا گیا ان حملوں میں دشمن کسی کو بھی استعمال کر سکتا ہے ۔
کیا ریاست سے کوئی مقابلہ کر سکتا ہے ؟ پی ٹی ایم ملک دشمن سرگرمیوں کے لیے بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ اور افغان ’’این ڈی ایس‘‘ سے پیسہ لیتی ہے ۔ یہ اچھی خبر ہے کہ ملک میں 30 ہزار دینی مدارس کے لیے ایسا نصاب تیار کیا جائے گا جس میں صرف اسلام اور دین کی تعلیم ہو گی، اشتعال انگیز مواد نہیں ہو گا۔ مدارس محکمہ تعلیم کے ماتحت ہوں گے ۔ مدارس کا نصاب تیار کرنے میں اسلامی نظریاتی کونسل، وفاق المدارس اور ہر مسلک کے چوٹی کے علمائ کا نصابی بورڈ تشکیل دیا جائے تاکہ مولانا فضل الرحمن یا ان کے ہم نوا برہمی کی بجائے ہم خیال ہونے کی طرف آئیں۔
ملکی سالمیت کیلئے ضروری ہے سکیورٹی فورسز اور پختون یک جان و دو قالب ہوں۔ دہشت گردی اور عسکریت پسندی نے سب کچھ تباہ کر دیا ہے ۔ تاریخ کی طویل اور مشکل ترین جنگ نے معیشت کو برباد کیا۔ متاثرین پر جذباتیت کا غلبہ ہے ۔
نقیب اللہ محسود کے کراچی میں قتل کے بعد پشتون تحفظ کا نعرہ وجود میں آیا جیسا کہ کوئٹہ میں ہزارہ قبیلے کو بار بار نشانہ بنایا جاتا ہے ا ور وہ ہر باردھرنا دیکر غصے کی آگ کو ٹھنڈا کر دیتے ہیں لیکن ہر بات کی کوئی حد ہوتی ہے ۔
متاثرین جہاں کہیں بھی ہیں ان کے جذبات کو بھڑکانے کی بجائے تسکین دینا ضروری ہے لیکن وطن دشمنوں کیلئے کوئی نرمی کوئی معافی کی گنجائش نہیں ۔ پاکستان ہر صورت میں پہلے ہے ، سکیورٹی فورسز پر حملہ اس بات کا اظہار ہے کہ ہ دشمن ایجنڈے سے ہٹنے کو تیار نہیں، بھارت کی ’’را‘‘ اور افغان این ڈی ایس کبھی نہیں چاہیں گی مغربی بارڈر پر امن ہو، افغانستان میں ٹی ٹی پی کے دہشت گرد بھارت کا پراکسی بازو بنے ہوئے ہیں۔
پی ٹی ایم کیخلاف تمام ثبوت پارلیمان کے سامنے پیش کر دئیے جائیں۔ قبائلی علاقوں کے اندر اٹھنے والی عوامی تحریک افغان انتظامیہ اور بھارتی سرکار کے بل بوتے پر چل رہی ہے ۔ مسعود اظہر کو عالمی دہشتگرد قرار دے دیا گیا ہے ۔ چین نے بھی فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ مولانا مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دینے کی سلامتی کونسل کی قرارداد کی مزید مخالفت نہیں کریگا۔
اس بات سے ہماری خارجہ پالیسی کا بخوبی اندازہ ہو سکتا ہے ۔ ہماری کسی بات میں اتفاق رائے نہیں ہے ۔ 18 سال سے کم عمر شادی کیخلاف رمیش کمار کے بل پر حکومت کے ارکان کی رائے تقسیم ہو گئی ہے ۔
اسلامی نظریاتی کونسل پہلے ہی اس بل کو بنیادی اسلامی اقدار کے منافی قرار دے چکی ہے ۔ قانون سازی سے پہلے معاشرے کو کم سنی کی شادی کے مقاصد سے آگاہ کیا جائے ۔ کم سنی کی شادی ایک سماجی مسئلہ ہے ، شرعی نہیں۔
٭٭٭