صابر مغل

صدر نیشنل پریس کلب کے ساتھ شرمناک پولیس گردی

May 14, 2019 3:03 pm

مصنف -

صابر مغل

شہر اقتدارمیں گذشتہ روز نیشنل پریس کلب شکیل قرار اورپی ایف یو جے کے صدر پرویز شوکت سمیت دیگر صحافیوں پر پولیس گردی پر ملک بھر کے صحافیوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ،صحافی متحیر ہیںکہ اگر اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب جیسے ایک اہم ترین ادارے کے صدر پر ریاست پولیس گردی کا مظاہرہ کر سکتی ہے تو باقی ملک میں حکومتی سوچ کیا ہو گئی ؟سوچ جو بھی ہو مگر یہ کسی طور صحافیوں کو نہیں جھکا سکیں گے اور نہ ہی آج تک جھکا سکے یہ الگ بات ہے کہ کالی بھیڑیں ہر شعبہ زندگی میں ہوتی ہیں اسلام آباد میں پولیس گردی کا یہ شرمناک واقعہ بھی لگتا ہے کچھ کالی بھیڑوں کی ہی وجہ سے رونما ہوا،اصل صحافی ہی وہ ہے جو اپنے درمیان جتنے بھی اختلافات ہوں مگر اپنے پیشہ پر ضرب نہ پڑنے دے،مگر یہاں صحافی ہی ذاتی مفادات و لفافہ ازم کے تحت اپنے ہی صحافی بھائیوں پر سب سے بڑے دشمن ہیں حقیقت میں وہ اپنے مفادات کی خاطر اپنے ہی پائوں پر کلہاڑیاں مارتے ہیں،وہ فراموش کر بیٹھتے ہیں وہ جن کی ٹائوٹی یا چاپلوسی میں میں حد سے گذر رہے ہیں وہ طبقہ کسی کا بھی نہیں،شہر قتدار میں لوٹ مار،کرپشن ،بدعنوانی کئی دہائیوں سے عروج پر ہے،جو بھی بر اقتدار آئے جنہیں بھی اقتدار اور اختیارات نصیب ہوا انہوں نے بندر بانٹ کا بازار گرم کر دیا ،اربوں روپے کے پلاٹس ریوڑیوں کی طرح تقسیم ہوئے ،اہم ترین مقامات پر قائم سرکاری رہائش گاہیں مخصوص ٹولے کے حوالے کر دی گئیں یہ سب کچھ حکومتی سرپرستی کے بغیر ممکن ہی نہیں ،فیڈرل لاجز میں عرصہ دراز سے متعددسینئر صحافی رہائش پذیر ہیں اگر ان کی وہاں رہائش غیر قانونی ہے تو انہیں وہاں رہائش الاٹ ہی کیوں کی گئی ؟اس وقت بھی حکومتی آشیر آباد رکھنے والے کئی صحافی وہیں پر بسیرا کئے ہوئے ہیں ،مسلم لیگ âقá سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر ہائوسنگ طارق بشیر چیمہ کے حکم پر اسسٹنٹ کمشنر سیکرٹریٹ ڈاکٹر فیصل ،ڈی ایس پی الفت بھاری نفری کے ہمراہ جن میں سول کپڑوں میں ملبوس کچھ افراد بھی شامل تھے نے سینر صحافی اینکر شاہد میتلا کے فلیٹ کے تالے توڑ کر تمام گھریلو سامان باہر پھینک دیا،اطلاع ملنے پر صدر نیشنل پریس کلب شکیل قرار ،سابق صدر شہر یار خان،صدر پی ایف یو جے پرویز شوکت درجنوں صحافیوں کے ہمراہ فیڈرل لاجز پہنچ کر پولیس اور سول انتظامیہ کو وزیر اعظم آفس کا لیٹر دیکھانے کے ساتھ ساتھ یقین دہانی بھی کرائی کہ ایسا نہ کیا جائے آپ جن صحافیوں سے فلیٹس خالی کرانا چاہتے ہیں وہ ایک ہفتہ کے اندر خالی کر دئے جائیں گے مگر انتظامیہ جن عزائم کے ساتھ وہاں پہنچی تھی اسی پر اڑی رہی ،اے سی نے بتایاکہ مجھ پر اوپر سے بہت پریشر ہے میں مجبور ہوں ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات نے اپنا فون بند کر دیا،بالآخر انتظامیہ تمام اخلاقی حدوں کو عبور کرتی ہوئی صحافیوں پر بل پڑی،نیشنل پریس کلب جیسے معتبر ادارے کے صدر شکیل قرار کے عہدے کا تقدس بھی کا بھی کچھ خیال نہ رکھا گیا ان سمیت سبھی کو پولیس نے دھکے دیئے،تشدد کیا اور شاہد میتلا کو پولیس اہلکار گھسیٹتے ہوئے ساتھ لے جا کر انہیں تھانہ سیکرٹریٹ میں بند کر دیا ،موقع پر موجود برادرم وحید ڈوگر نے بتایا کہ انتظامیہ نے بد تمیزی کی انتہا کر دی متعدد صحافیوں کے کپڑے پھٹ گئے، صدر کی شکل میں حقیقی کارکن شکیل قرار اپنی اس توہین کے باوجود ڈٹ گیا اور ساتھیوں کے ہمراہ تھانیہ سیکرٹریٹ کے سامنے دھرنا دے دیا بعد ازاں ڈی آئی جی آپریشنز سید وقار الدین کی ہدایت پر بلاوجہ گرفتار صحافی شاہد میتلا کو رہا کیا گیا،شکیل قرار،شوکت پرویز ،شہر یار خان اور دیگر صحافیوں پر پولیس گردی کے خلاف ملک بھر کے صحافی سڑکوں پر نکل آئے ،مظفر آباد، راولپنڈی، لاہور،کوئٹہ،کراچی ،پشاور ،اوکاڑہ، ساہیوال، وہاڑی، گوجرانوالا، گجرات، سرگودھا سمیت بڑے چھوٹے شہروں اوربرمنگھم میں صحافیوں کی مختلف تنظیموں نے مذمتی اجلاس منعقد کئے اور اسلام آباد جیسے شہر میں پولیس گردی پر سخت احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا اس واقعہ میں ملوث تمام کرداروں کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے ،اوکاڑہ میں ریجنل یونین آف جرنلسٹس اور ڈی یو جے کے مشترکہ اجلاس جس میں ریجنل یونین آف جرنلسٹس کے مرکزی سیکرٹری جنرل عابد مغل ،عرفان نوید غوری ،چوہدری اشفاق احمد،رائے امداد حسین کھرل،عباس جٹ،حاجی محمد رمضان خان، میاں عمران،میاں خادم حسین کمیانہ ، چوہدری سجاد،عمران کھوکھر،صابر کمبوہ،چوہدری اظہر، ڈاکٹر شعبان،عطائ الرحمان لکھوی،سید اظہر شاہ ،محمد یوسف شاہد سمیت صحافیوں کی کثیر تعداد نے شرکت کرتے ہوئے اس واقعہ کی شدید مذمت کی ،شکیل قرار نیشنل پریس کلب اسلام آباد کو وہ صدر نصیب ہوئے ہیں جو انتہائی سادہ اور صحافی کارکنوں کی ایک آواز پر لبیک کہتے ہوئے ہر جگہ پہنچ جاتے ہیں اور صدر نیشنل پریس کلب ہونا بھی کوئی معمولی بات نہیں ،حکومت و دیگر سیاسی پارٹیوں اور انتظامیہ ہمیشہ اس کی محتاج رہی ہے مگر طارق بشیر چیمہ کی ایسی رعونت سمجھ سے بالاتر ہے ان کا جس سیاسی پارٹی سے تعلق ہے اس کے سربراہ چوہدری برادران انتہائی وضع دار لوگ ہیں ایسی حرکت ان کے قریب سے بھی نہیں گذری مگر طارق چیمہ نے ان کا دامن بھی داغ دارکر دیا،انہیں کیا مجبوری تھی یہی بات سمجھ سے بالاتر ہے ،صحافیوں کو فیڈرل لاجز میں کس نے فلیٹس دئیے؟اگر غیر قانونی اقدام ہ ے توذمہ داران âالاٹمنٹ کرنے والوںá کے خلاف کاروائی ہوئی؟اب کتنے صحافی وہاں رہائش پذیر ہیں؟اقتدار کے ایوانوں میں رہنے والوں کے کتنے افراد ایسے وہاں رہائش پذیر ہیں جو میرٹ پر پورا نہیں اترتے ؟ایسے بہت سے سوالات ہیں جن کا جواب یقیناً طارق چیمہ کے پاس بھی نہیں ہو گا،اقتدار سے باہر تمام سیاسی پارٹیوں کے لئے نیشنل پریس کلب PIDکی حیثیت رکھتا ہے اس وقت تو وہ انہی صحافیوں کے بڑے گن گاتے ہیں صحافت کو ریاست کا چوتھا ستون بھی قرار دیتے ہیں مگر جیسے ہی اقتدار کی راہداریوں میں گئے سب فراموش کر جاتے ہیں صحافیوں کی چاپلوسی کرنے والے فرعونیت پر اتر آتے ہیں ،حکومتی ٹائوٹ جو مرضی غنڈہ گردی کرلیں یا کرالیں وہ شکیل قرار اور اس کی ٹیم کے حوصلے پست نہیں کر پائیں گے۔