معاشی بحران کا خاتمہ، کیا کرنا ہو گا؟

April 10, 2019 2:35 pm

مصنف -

پاکستان کی دگرگوں معاشی حالت کی تصدیق کرنے میں عالمی بینک بھی پیچھے نہیں رہا۔ اپنی تازہ رپورٹ میں بینک نے کہا ہے کہ آئندہ دو سال پاکستان اور پاکستانیوں کے لیے کڑی اقتصادی آزمائش سے بھر پور ہوں گے اور معاشی اصلاحات اگر نافذ کی گئیں تو 2021 میں معیشت کی شرح نمو چارفیصد ہوسکتی ہے۔ صرف چارفیصد۔ اس وقت ایک عام شہری کی نظر میں ملکی معیشت کا مسئلہ کیا ہے؟ مہنگائی بلند سے بلند تر سطح پر پہنچ رہی ہے۔ حکومت باقاعدگی سے روزمرہ ضرورت کے استعمال کی اشیا کی قیمت بڑھا دیتی ہے۔ ہم یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ایسا کرنا ضروری ہوتا ہے لیکن یہ دیکھ کر دکھ ضرور ہوتا ہے کہ حکومتی اکابرین اس بارے کچھ بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہیں لیکن تاجر بھی پیچھے نہیں رہتے سبزی دالیں آٹا روٹی غرض زندگی کی ہر ضرورت کے نرخ وہ کسی قاعدے قانون کے بغیر بڑھا دیتے ہیں۔ہر ہفتے جب یہ ہوتا ہے تو عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے لیے حکومت حرکت میں آجاتی ہے کہ سبزی پھلوں اور دالوں کی قیمتوں میں مصنوعی اضافہ کسی صورت برداشت نہ ہوگامگر اس فرمان سے کیا مراد لی جائے؟ برداشت نہیں ہوگا تو کیا ہوگا؟ جب بازار کے تاجر اشیا کے نرخ مرضی سے بڑھا تے ہیں تو حکومت کیا کر لیتی ہے؟اور صارفین اگر ان اضافہ شدہ قیمتوں پر اشیا نہ خریدیں گے تو کیا کر لیں گے؟تاجروں اور صنعتکاروں نے اپنی مرضی کے نرخ نامے آویزاں کر لیے ہیں اور حکومت نے نفع خوروں کے خلاف کریک ڈائون کا حکم دے دیا مگر اس سے کیا نتیجہ نکلا؟ کیا کریک ڈاون کے خوف سے تاجردکانیں بند کر کے چھپ گئے یا نفع خوری کا بازار جوں کا توں گرم رہا؟ عوام کیلئے زندگی بوجھ بنی ہوئی ہے اور با اقتدار لوگوں کو تمسخر سوجھ رہا ہے۔اعلی سطح پر عوامی مسائل کے احساس اور سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ خیبر پختونخوا کے سپیکر فرماتے ہیں دو کی بجائے ایک روٹی کھاو۔کیا یہ فارمولا زندگی کی دیگر ضروریات پر بھی من و عن منطبق ہو سکتا ہے؟علاج کروائیں تو دوا کی آدھی خوراک لیں؟ یا بچوں کو سکول بھیجیں تو آدھی تعلیمی ضروریات سے کام چلائیں علی ہذا لقیاس۔ کیا حکومت کو اندازہ ہے کہ قرضوں پر شرح سود میں اضافے نیز توانائی کی قیمتوں میں لگاتار اضافے سے پاکستان میں کاروبار کا ماحول کس قدردشوار ہو چکا ہے؟ان حالات میںباہر سے نئی سرمایہ کاری کا خیال دل سے نکال دینا چاہیے۔ صرف ایک مثال دیتے ہیں کہ بجلی کے خوفناک بحران کی وجہ سے بجلی کی اضافی پیداوار ہماری ہاں سالہا سال سے اولین ترجیح رہی ہے۔ جو سرمایہ کارملک میں بجلی پیدا کرنے والے یونٹ قائم کرنا چاہتے ہیںاصولا ہمیں ان کو وی وی آئی پی کا درجہ دینا چاہیے مگر ادارہ جاتی سطح پر ہمارے ہاں کام کے انداز میں تماتر دعووں اور جوش و جذبے کے باوجود کوئی فرق نہیں آیا؛چنانچہ صنعتکار ہمارے ہاں کی روایتی سرد مہری کا سامنا کرتے کرتے جلد ہی حوصلہ چھوڑ دیتا اور اپنی توجہات کسی اور ابھرتی مارکیٹ کی جانب مبذول کر دیتا ہے۔ یہ صرف ایک شعبے یا کسی ایک ملک کے سرمایہ کاروں کے ساتھ نہیں ہو رہا بلکہ ہماری روایتی سرمایہ بھگاو حکمت عملی ہر شعبے کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے۔ کیا حکومت کو اندازہ نہیں کہ اس روایت کا انجام کیسا کٹھن ہو سکتا ہے؟سرمایہ کار جسے وی وی آئی پی ہونا چاہیے اس کی ناک سے لکیریں نکلوائی جاتی ہیں۔ متبادل وسائل سے بجلی پیدا کرنے کا شعبہ ہمارے ملک میں خاصا پر کشش ہے سورج کی وافر روشنی وسیع میدانی اور صحرائی علاقہ اور ساحلی اور نیم پہاڑی علاقے میں ہوا کی ایسی گزرگاہیں جہاں پون بجلی پیدا کرنے کی غیر معمولی صلاحیت موجود ہے ؛ اگر ضوابطِ کار کا ماحول معاون ہوتا تو متبادل توانائی کے ان شعبوں میں اتنی سرمایہ کاری آتی کہ ان ماحول دوست وسائل سے ہم ضرورت سے زیادہ بجلی پیدا کر رہے ہوتے لیکن ایسا ہو نہیں سکا؛چنانچہ پیداوار بھی نہیں بڑھ سکی بلکہ ماحول دوست توانائی کے متبادل وسائل سے بجلی کی پیداوار میں ہم ابھی ابتدائی مرحلے سے آگے نہیں بڑ ھ سکے۔ دنیا جن وسائل سے اپنی ضروریات کا بڑا حصہ حاصل کر رہی ہے ان کی افادیت پر ہمارا اعتماد ہی ابھی تک قائم نہیں ہو سکا۔ دراصل ہر دفتر اور ہمارا ہر ضابطہ نئی سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہوتا ہے۔حیرت ہے کہ سیاسی نظریات میں اختلاف کے باوجود سبھی جماعتوں اور حکومتوں میں یہ کیسی قدر مشترک پائی جاتی ہے کہ سرمائے اور صنعت کے پنپنیمیں کسی نے مدد نہیں کی اگرچہ دعوے بہت کئے ہیں مگر مسائل کا حل کسی کی ترجیحات میںکہیں نظر نہیں آتا۔ ضوابطِ کار کی ازسرِ نو کون تشکیل کرے گا؟ ان کی سمت کون درست کرے گا؟ جن ہزاروں لاکھوں افراد نے ان کو نافذ کرنا ہے ان کی سوچ اور رویے کون درست کرے گا؟پاکستان کے عوام ایسی کہانیاں آئے روز سنتے ہیں کہ معیشت کا بحرانی مرحلہ گزر گیا اب ہم استحکام کی طرف بڑھ رہے ہیں تاہم استحکام حقیقی صورت میں کہیں دکھائی نہیں دیتا پیدواری سرگرمیاں بدستور سست روی کا شکار ہیں اور جب پیدا ہی کچھ ہیں ہو رہا تو باہر کیا بھیجیں گے اور زرمبادلہ کہاں سے آئے گا۔ عالمی بینک کی تازہ رپورٹ میں بھی انہی خدشات کا اظہار پایا جاتا ہے ۔ رپورٹ کہتی ہے کہ پاکستان کی معاشی نمو سرمایہ کاری اور پیداواری اضافے کی مدد سے آگے بڑھنی چاہیے تا کہ معاشی تعطل کی اس صورتحال کا خاتمہ ہو جو ہر چند سال بعد اس ملک میں عود کر آتی ہے ۔