عالمی برادری عمران خان کو پیس ایوارڈ سے کب نوازے گی

March 8, 2019 3:39 pm

مصنف - جان محمد گبول

پاک بھارت کشیدہ صورتحال برقرار ہے دونوں ملک تاحال حالت جنگ میں ہیں وزیر اعظم عمران خان ہیں کے ان حالات میں بھی بھارتی وزیر اعظم کو مذاکرات کے ذریعے مکمل امن کی بحالی اوردوطرفہ بہتر تعلقات کی دعوت دے رہے ہیں تو دوسری جانب نریندر مودی میں نہ مانوں کی طرز پر اس دعوت کو نظر انداز کرکے ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی انتخابی مہم چلانے میں مصروف ہیں اب زرا دونوں ملک کے سربراہوں کی پوزیشن کا سرسری جائزہ لیتے ہیں تو پاکستان کی پوزیشن یہ ہے کے اسکی عوام ،فوج اور حکومت ہمیں ایک ہی پیج پر دکھائی دیتے ہیں فوج اگر کسی بھی بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے ہمہ وقت چوکس اور تیار ہے اور اس کا ثبوت بھی دے چکی ہے تو دوسری جانب پورے ہی ملک کے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ بھارت مخالف مظاہرے میں بھرپور شرکت کرکے اپنی مسلح افواج کے حوصلے بلند کررہے ہیں دوسری بات یہ کے پاکستان سے جنگ کامسئلہ بھارتی افواج تک محدود ہے اور بھارتی عوام نہ صرف اس سے لاتعلق ہیں بلکہ اسے مودی کی اپنے کرپش کی پردہ پوشی اور انتخابی مہم قرار دے رہے ہیں لیکن پاکستان کی صورتحال اس سے قطعی مختلف ہے یہاں تو فوج کے علاوہ قوم کا ہر فرد دفاع وطن کے لئے اپنی جان اور مال سب کچھ قربان کرنے کو ہمیشہ کی طرح آج پھر تیار ہے تیسری اہم بات یہ کے پاکستان میں عام انتخابات کا مرحلہ کوئی دس ماہ قبل مکمل ہو چکا اس کی وجہ سے یہاں سیاسی استحکام کی صورت حال ہے اور دور دور تک کہیں کوئی خلفشار کی فضا دکھائی نہیں دیتی حکومت اور اپوزیشن اپنے اپنے خدو خال میں رہتے ہوئے اپنا جمہوری کردار ادا کررہی ہیں اب زرا بھارت کی صورتحال کااس سے موازنہ کرتے ہیں تو یہ اس کے بالکل برعکس ہے یہاں کی فوج اپنے ملک کی جانب پاکستان کے خلاف مہم جوئی کی حقیقت کو خوب سمجھتی ہے اسے اچھی طرح پتہ ہے کہ دفاعی شعبے کو سیاسی بلکہ انتخابی مقاصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے ورنہ پاکستان کی جانب سے تو ایسا کچھ نہیں ہورہاہے کہ جس سے یہ نتیجہ اخز کیا جائے کہ ہم پر جنگ مسلط کی جارہی ہے رہی سہی کسر پلوامہ میں بھارتی قیادت کی خون ریز انتخابی ڈرامے کی عکس بندی نے بھارتی افواج میں بڑی بد دلی پیداکردی اوراب یقین کے ساتھ سمجھا جارہاہے کے نریندر مودی آئندہ الیکشن جیتنے کے لیے اپنی فوج کو بلاجواز جنگ کی بھٹی میں جھونکنا چاہتا ہے بھارتی فوج کی سوچ کومودی کے ماضی سے بھی تقویت ملتی ہے انہیں پتہ ہے کہ ماضی میں نریندر مودی کو گجرات کے قصائی جیسے عرفیت سے کیوں نوازا گیا اوریہ کہ وزیراظم سے پہلے مودی کی عالمی شہرت ایک ایسے دھشت گرد کی رہی ہے جس کی کئی مہذب ممالک نے اپنے یہاں داخلے پر پابندی لگارکھی تھی جن میں امریکہ بھی شامل تھا ایک ایسے دھشت گرد سے پاکستان جیسے ملک پر جس نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں سب سے بڑھ کر جانی اور مالی قربانیاں دی ہوں پر دہشت گردی کا الزام لگانا مضحکہ خیز اور چور مچائے شور والی بات ہے دوسری جانب بھارت میں عام انتخابات کا موسم ہے گزشتہ ماہ بھارت کی چھ ریاستوں میں جو انتخابی نتائج سامنے آئے تہے انہوں نے تو پہلے ہی مودی کی نیندیں اڑا کر رکھ دی تھیں مودی سمجھ گے تھے کہ یہ ایسی آسان صورتحال نہیں ہے کہ ایک اور سانحہ گجرات برپا کرکے وہ انتخابی نتائج کو اپنے حق میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہو سکیں گے اس لیئے انہوں نے الیکشن جیتنے کے لیے اس مرتبہ انہوں نے اپنی جماعت کے غنڈوں اور قاتلوں کی خدمات حاصل کرنے کے بجائے اپنی فوج کو بھینٹ چڑھانے کافیصلہ کیا لیکن دبے پائوں وقت کے سفر نے جو فاصلے طے کیے اور دونوں ملکوں کے عوام کی سوچ میں جو مثبت تبدیلی آئی مودی جی اس سے بالکل بے خبر رہے جب کے پاکستان کی جانب سے دوستانہ تعلقات کی خواہش تجارت کو فروغ دینے کی مسلسل پیشکشیں اور قیام امن کے لیے دوطرفہ کوششوں کو بھارتی عوام میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہا یہی وجہ ہے کہ مودی کے پاکستان پر بے سروپا کے الزامات کی وضاحت کرنے کی پاکستان کو ضرورت پیش نہیں آرہی کیونکہ بھارتی عوام جھوٹے اور کرپٹ مودی کا از خود محاسبہ کرنے میں لگی ہے کانگریس آئی سمیت 23سیاسی جماعتوں نے مودی کے گرد گھیرا ایسا تنگ کررکھا ہے جسے توڑ کرنکلنا ان کے بس کی بات نہیں پھر مودی کی حرکت کی وجہ سے بھارت کے حصے میں جو عالمی رسوائی آئی ہے اسکا بدلہ تو بھارتی عوام آئدہ الیکشن میں مودی اور ان کی اتحادی جماعتوں کو شرمناک شکست سے دوچار کر کے لیں گے اور مودی جی کہتے پھریں گے
م پے ایسی بھی پڑے گی ہمیں معلوم نہ تھا
دوسری طرف وزیر اعظم عمران خان اپنے دھن کے پکے اور خوش قسمت انسان ہیں جو چاہتے ہیں کرگزرتے ہیں ۔
پاکستان کو کرکٹ ورلڈ کپ کاتحفہ دینے کا خواب دیکھا تو اس کی تعبیر بھی تراش لی پھر وزیر اعظم بننے کی ٹھانی تو بن کر دکھایا اب پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی کا خاتمہ اور دونوں ملکوں کے درمیان دوستی ان کا اگلا ہدف ہے میری نظر میں پاک بھارت حالیہ تنازعے کا منطقی انجام بھی یہی ہوگااور مسلہ کشمیر بھی کشمیری عوام کی مرضی کے مطابق حل ہو گا پاکستانی اور بھارتی عوام کے درمیان خوشگوار اور گرم جوش تعلقات بھی قائم ہو ںگے حالیہ کشیدگی اسی مثبت تبدیلی کا نکتہ آغاز ثابت ہو گی
جانتے ہیں کیوں؟ اس لئے کے عمران خان کے ہاتھ میں امن اور محبت کا پرچم ہے ان کے مقابلے میں امن اور محبت کے دشمن چاہے جتنا زور لگالیں محبت ہی فاتح عالم ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ پاک بھارت دوستانہ تعلقات اور مسلہ کشمیر کے آبرو مندانہ حل کے اعتراف میں عالمی برادری عمران خان کو ورلڈ پیس کپ سے کب نوازتی ہے ۔