انسا نیت کی تعمیر میں عورت کا کردار

March 8, 2019 3:37 pm

مصنف - نگہت ہاشمی. النور انٹرنیشنل

آج ہم عورت کے کردار
âRole of Womená کے بارے میںخصوصی بات چیت کریں گے ،’’انسا نیت کی تعمیر میں عورت کا کردار ‘‘مو ضوع بڑ ااہم ہے ۔ اس وقت پر ساری دنیا کی خواتین اور ساری دنیا کے انسان اس جا نب نظر لگا ئے ہوئے ہیں کہ عورت کس رخ پر جاکر انسانیت کی تعمیر کے کام کر تی ہے ۔ سیدنا جبرائیل ؑنے نبی ؐسے ایک سوال کیا ۔ یہ ان سوالات میں سے ایک ہے جو دین سکھانے کے لیے جبرائیل ؑ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے انسا نی شکل میں آکرنبی ؑسے کیے تھے ۔ سوال یہ تھا کہ اے اللہ کے رسول یہ بتائیں کہ قیا مت کی علامات کیا ہیں ؟
قیا مت کی علا مات کے بارے میں سوال بہت اہم تھا ۔ رسول اللہ ؑنے قیامت کی علا مات میں سے ایک علا مت یہ بتائی کہ جب لو نڈی اپنے آقا کو جنے گی یعنی جب عورت اپنے مالک کو جنے گی ۔ âبخاری:50áاس کی بہت سی تفاسیرکی گئیں ۔ سادہ لفظوں میں دیکھیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ عورت اپنے بیٹے کے ہاتھوں مغلوب ہو جائے گی ۔ عورت پر بیٹے کا غلبہ کیسے ہو گا ؟ عورت اپنے ہی بیٹے کو اپنا مالک کیسے بنا دے گی ؟کیسے وہ آقا کے مقام پر رکھے گی؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ عورت اپنے ہی پیدا کردہ بیٹے سے محبت کے ہاتھوں اتنی مغلوب ہو جائے گی کہ اس کی اس طرح سے بات ما نے گی گو یا کہ وہ اس کا حاکم ہے ا ور وہ اس کی محکوم ۔ کون نہیں جانتا کہ عورت کے اندر یہ کمزوری تو ہمیشہ سے موجود رہی ہے کہ وہ اپنی اولاد سے بہت محبت کرتی ہے ۔قرب قیا مت کے دور میں اس کا یہ مزاجی عنصر اس پر بہت زیادہ غالب آجائے گا ۔ آج کے دور میں دیکھیں ،یہ قرب قیا مت کا دور ہے اولاد کی محبت کس حد تک غالب آگئی ہے ؟ کیا آج کے دور میں اولاد کی حیثیت بہت زیادہ بڑھ نہیں گئی ؟آج کے دور میں جتنی محبت والدین اپنی اولاد سے کرتے ہیں، جس برے طر یقے سے ان کی محبت میں گر فتار ہیں تا ریخ میں ایسا کبھی نہیں ہو ا ۔ اس میں کو ئی شک نہیں کہ یہ فطری محبت ہے اور یہ ہر دور کے والدین کے دل میں ہو تی رہی ہے ۔ ہر دور کے والدین اس محبت کے ہاتھوں اپنی اولاد کی کیئر کرتے رہے ہیں لیکن کبھی والدین ایسے مغلوب نہیں ہو ئے جیسے آج کے دور میں والدین مغلوب ہو گئے ۔آپ غور کیجئے کہ والدین نے اولاد کی محبت میں کیا کچھ نہیں کر ڈالا! کیااپنی ساری زندگی کی کمائی اور سارا اثاثہ اپنی اولاد پر نہیں لٹا دیا !آج کے ماں باپ اپنی اولاد کی محبت میں پہلے سے زیادہ گر فتار ہیں ۔ وہ اپنا سا را مال ، سارا وقت ، صلاحیتیں ، اپنا کل اثاثہ سب کچھ اپنی اولاد پر خرچ کر دینا چا ہتے ہیں ۔ اس صورت حال نے عورت سے اس کا امتیازی اعزاز چھین لیا ہے ۔ عورت کے اندر رب کائنات نے ایسی صلاحیت رکھی ہے کہ وہ پوری انسا نیت کے لیے عظیم خد مت سر انجام دے سکتی ہے ۔ عورت انسا نیت کی معلم ،عورت انسا نیت کی معمار بن سکتی ہے ۔ عورت انسانیت کے لیے خد مت گار بن سکتی ہے مگر اولاد کی محبت عورت پراس قدر غالب آگئی ہے کہ وہ اپنا آفا قی کردار اد اکر نے کے قا بل نہیں رہی ۔
اس میں کو ئی شک نہیں کہ عورت کی زندگی بچوں سے لا ڈ پیار سے شروع ہو تی ہے اور اسی پر ختم ہو جاتی ہے ۔ عورت عملا ًاس قا بل نہیں رہ گئی کہ انسا نیت کی تعمیر کے لیے اعلیٰ کام کر سکے ۔ کہاں گئی وہ عورت جو محبت کی علا مت تھی ؟ آج وہ بیٹے کی محبت کی علا مت بن گئی ہے ۔ عورت نے انسانیت کی محبت کی علا مت بننا تھا ۔ اس نے محبت کے دائرے کو محدود کیا تو نتیجہ یہ ہوا کہ خود مغلوب ہوگئی اور محکوم بن کر رہ گئی۔ یہ محکو میت دراصل اولاد کی محبت کی مغلو بیت ہے ۔ اولاد کی محبت نے پھر اولاد کو کیا بنا دی، یہ محبت اولاد کی تر بیت تو نہیں کرواسکی ۔ یہ محبت اپنے بیٹے کو اچھا انسان نہیں بنا سکی ۔ اس محبت نے خود پر ست انسانوں کی فوج ظفر مو ج تیار کی ہے ۔ اس محبت نے اقدار کا بحران پیدا کیا ہے ۔ عورت نے اپنی محبت میں ایسے افراد کو تیار کیا ہے جن کی ذاتی خواہشیں ان کی راہ نما ہیں ۔ عجیب بات ہے لیکن ہے سچ کہ آج ذاتی خوشی حاصل کر نا ہی سب کا واحد مقصد بن گیا ہے خواہ اس خو شی کے حصول کے لیے وہ دوسروں کی خوشیوں کا خاتمہ ہی کیوں نہ کر دیں ۔اس موقع پر رک کر عورت کو اپنی ذات کی طرف، اپنے آپ کی طرف دیکھنا چا ہیے ، کیسے وہ اتنی گہری محبت میں گر فتار ہو ئی، کیسے وہ مغلوب ہو گئی ، سچی بات تھی جو محمد رسول اللہؐ نے ارشاد فر مائی کہ عورت اپنے آقا کو جنے گی ۔
آج آقا ایسے ہیں کہ جنہوں نے اپنی ماؤں کو اپنی لو نڈیاں بناڈالا۔ان ہی ماؤں کے ساتھ آج وہ بڑھاپے میںکیسا سلوک کرتے ہیں ،ان ہی ماؤں کو وہ ’’Old houses‘‘ میں پہنچا دیتے ہیں ۔ اپنی ذاتی خوشی کے لیے کیسے وہ محبت بھرے دلوں کو توڑتے ہیں ، کرچی کر چی کر ڈالتے ہیں ۔ عورت نے اپنی محبت میں کیا پایا ؟ وہ لہو لہان ہو گئی ،وہ زخم زخم ہو گئی ۔کیوں بنایا تھا اپنے بیٹے کو اپنا آقا؟ کیوں بنایا اپنا حاکم ؟کیوں اس کی محبت میں مغلوب ہوئی ؟کیوں اس کے لیے اپنا سب کچھ نچھاور کر دیا ؟اولاد کی محبت فطرت میں ہے لیکن اولاد کی محبت میں کیا یہاں تک پہنچنا ہی سب سے بڑا خواب تھا ؟
پھر عورت کے دوسرے کردار کودیکھیں۔ اللہ تعالیٰ نے عورت کو مرد کے لیے سکون کا ذریعہ بنایا ہے تفریح کا ذریعہ نہیں بنایا۔ سورۃالروم میں رب العزت نے فرمایا:اوراُس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اُس نے تمہارے لیے تمہاری جنس ہی سے بیویاں پیدا کیںتاکہ تم اُن سے سکون حاصل کرسکواوراُس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی،بلاشبہ اس میںیقینااُن لوگوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں جو غوروفکر کرتے ہیں۔âالروم:21á
اللہ تعالیٰ نے عورت کو اس طرح بنایا ہے کہ وہ زندگی میں مرد کے لیے سکون کا باعث بنے ۔یہ پہلو دونوں کے لیے بے حد اہم ہے ۔ اگر مرد اور عورت دونوں ہی اس پہلو کو سامنے رکھیں تب ہی وہ زندگی کے اس سفر کو کا میابی کے ساتھ جاری رکھ سکیں گے لیکن عجیب بات ہے کہ آج فطرت کے اصول کو بدل دیا گیا ۔ مرد نے عورت کواپنے لیے تفریح  (Entertainment) کا ذریعہ سمجھ لیا۔جانتے ہیں اس کا نتیجہ کیا نکالا ہے ؟اس کی وجہ سے زندگی کا پورا نظام بدل کر رہ گیا ۔ عورت نے فطری طور پر اپناجو فریضہ ادا کرنا تھا وہ ادا نہیں کر پائی اور اپنے آپ کو بہت زیادہ پر کشش بنانے میں مصروف ہو گئی۔ یہ غیر فطری صورت حال تھی جس کا یہ نتیجہ نکلا ہے کہ عورت کی سب سے زیادہ تو جہ اپنی فطری ذمہ داریوں کی ادائیگی پر نہیں ہے بلکہ اپنے جسم کی آرائش پر ہے ۔ ایک جنون ہے تزئینâBeautification áکا ۔ عورت اپنے وقت کا زیادہ حصہ اپنے جسم کی ایسی تزئین ِمیں لگا دیتی ہے جو مصنوعی ہے ۔ خوب صورت بننے کا شوق اسے کہاں تک لے گیا ، عورت کو عورت ہی نہ رہنے دیا، عورت کو نیم بر ہنگی تک پہنچا دیا اور اسی کا نتیجہ ہے جس کوPornography کہاجاتاہے اور اسی کا نتیجہ کاسمیٹک سرجری ہے ۔ عورت تفریح کا ذریعہ کیسے بن گئی؟ اگر مرد اور عورت دونوں ایک دوسرے کو سکون کا ذریعہ سمجھیں تو زندگی جنت بن جائے گی لیکن عورت کوتفریح کا ذریعہ سمجھنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ پوری دنیا بے سکونی کا شکار ہو گئی ۔اسی کے نتیجے میں ڈیپریشن جیسی بیماری عام ہو گئی۔
ہم اس بحران سے کیسے نکل سکتے ہیں؟ اگر ہم عورت کے اس رول کو بھی پیش نظر رکھیں جس کے بارے میں آج کا انسان غلط فہمی کا شکار ہوا تو عورت کے حقیقی رول کو سمجھنا زیادہ آسان ہو جائے گا ۔آج کے دورمیںتحریک آزادی نسواں âliberty Women’sá اورصنفی برابری کاجو تصورابھرایہ تصورانتہاپسندانہ توہے ، عورت کے لئے ایک سلوگن پوری انسانیت پراثراندازہوا:
Don’t make cofee, make policy
Coffeeنہ بناؤپالیسی بناؤ،اس نعرے کے نتیجے میںہی خواتین باہرآکر کام کرنے لگیں ۔ پھرکیاہوا،گھرکامحاذ توخالی ہوگیا۔ایک طرف مردوں کے لئے بے روزگاری سامنے آئی اوردوسری طرف گھرکے اندربچے اخلاقی تربیت سے محروم ہوگئے ۔ عورت کے گھرسے باہرآنے کاکیانتیجہ نکلا؟آج مادی ترقیاںتوہیں لیکن کیاہماری دنیابہتردنیابن گئی ہے ؟آج کی دنیامیں مادی ترقیوں کی چمک دمک توہے لیکن دوسری طرف منفی رجحانات میں اضافہ ہوگیاہے ۔آج نفرت ہے ، تشددہے ، تناؤہے ،بے اطمینانی ہے ، اقدارکافقدان ہے ۔سبب کیاہے ؟مرداورعورت دونوں ہی باہرکے کاموں میں لگ گئے اورگھرکودونوں ہی ویران کرگئے ۔ یہ گھرہی توتھاجہاں انسانوں کی سیرت سازی کاکام ہوتاتھا۔
کیااس دنیامیں بہتری لانے کے لئے ہمارافرض نہیں بنتاکہ رک کرسوچیں کہ ان مسائل کاحل کیاہے ؟محض تنقیدنفع نہیں دے گی۔ہمیں دیکھنا ہے کہ نسل انسانی کوکیسے بہتربنایاجاسکتاہے ؟ان کوکیسے اچھاانسان بنایاجاسکتاہے ؟اس کے لئے ضرورت اس امرکی ہے کہ مرداورعورت کے رول کوDefineکیاجائے ۔اگرہم فطری اصول کودیکھیں کہ خالق نے اس دنیاکوکس اصول پربنایاہے ؟اللہ پاک نے اس دنیاکوزوجین کے اصول پربنایاہے ۔ہرچیزجوڑاجوڑاہے اوریہ جوڑے صرف زندہ مخلوقات کے نہیںہیں۔سب سے زیادہ ضروری چیزجوہم استعمال کرتے ہیں وہ پانی ہے ،وہ بھی ہائیڈروجن اورآکسیجن کے ملنے سے بنتاہے ۔ہماری آنکھ دیکھتی ہے ۔دیکھنے کاعمل دوچیزوں کی وجہ سے وجودمیں آتاہے ،آنکھ اورروشنی ۔اگریہ دونوں نہیں ہوں گے تودیکھنے کاعمل وجودمیں نہیں آسکتا۔اسی طرح کامعاملہ مرداورعورت کابھی ہے ۔ زندگی کی تعمیرجومرداورعورت کی وجہ سے ممکن ہے تب ہی وجودمیں آسکتی ہے جب مرداورعورت اس عمل میں برابرکے حصے دارہوں ۔اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ دونوں کارول طے کیاجائے ۔ ایک توصورت یہ ہوسکتی ہے کہ انسان اپنی عقل کے مطابق اس کوطے کرنے کی کوشش کرے اوردوسری یہ صورت ہوسکتی ہے کہ پیداکرنے والے نے جوفطری اصول دیااس کومان لیں۔ہم ہرجگہ فطری قوانین پرچلتے ہیں اور ان کوتسلیم کرتے ہیںتواس معاملے میں بھی فطری اصول کو ماننے میں ہی بھلائی ہے ۔فطری اصول یہ ہے کہ زندگی میںمرداورعورت دونوں کے مشترکہ عمل کے نتیجے میںہی زندگی کی تعمیرہوسکتی ہے ۔اس لیے ایڈجسٹمنٹ ضروری ہے ۔ اللہ پاک نے عورت کونصف انسانیت قراردیاہے ۔عزت کے اعتبارسے ، مرتبے کے اعتبارسے عورت اورمرددونوں کادرجہ برابرہے ۔تقسیم کارکااصول رب العزت نے رکھاہے ۔انسانی سرگرمیوں کے کچھ امورمردسے متعلق ہیں، کچھ عورت سے متعلق ہیں ۔مردکامردہوناایک ذمہ داری ہے اور عورت کاعورت ہونابھی ایک ذمہ داری ہے ۔ دونوں کے لئے کامیابی اورناکامی کاایک ہی معیارہے اوروہ یہ کہ جس کو جوذمہ داریاں تفویض کی گئی ہیں وہ اپنی ذمہ داریوں میں پورا اترے ۔
عورت نے تاریخ میںبڑااہم کرداراداکیاہے ۔ہم جب تاریخ کوپڑھتے ہیں توہمیں پتہ چلتاہے کہ زیادہ ترکارنامے مردکے ہیں لیکن ہرکامیاب مردکے پیچھے ایک عورت کاہاتھ ہوتاہے ۔
اکثربڑے واقعات کے پیچھے عورت موجودہوتی ہے ۔آج اگرہم تاریخ کی سب سے بڑی مثال سیدہ ہاجرہ علیھا السلام کی ذات سے دیکھ سکتے ہیںجوسیدناابراہیمؑ کی زوجہ تھیں۔انہوں نے بے مثال قربانی دے کرتاریخ میں ایک نئے دورکاآغازکیا۔اس کے اثرات پوری دنیامیں آج بھی دیکھے جاسکتے ہیں ۔وہ دورایساتھاجب انسانیت پرشرک اورتوہم پرستی کاغلبہ تھا۔سیدناابراہیمؑ نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اپنے چھوٹے بچے اسماعیلؑ کے ساتھ ان کی والدہ کوصحرامیں لے جاکرآبادکیا۔یہ غیرمعمولی قربانی کاعمل تھا۔اس کامقصدیہ تھاکہ فطری ماحول میں نئی نسل تیارکی جائے جوہرطرح کے مشرکانہ اثرات سے پاک ہو۔حقیقت یہ ہے کہ وہ نسل تیارہوئی اوراسی نسل میں محمدرسول اللہ ؐپیداہوئے جن میں تمام انسانی خصوصیات عمدہ اورسب سے بہتراندازمیں موجودتھیں۔ پھران کی کوششوںکی وجہ سے شرک کادورختم ہوگیا۔ایک ہزاربرس تک انسانیت سیدہ ہاجرہ علیہ السلام کی اس قربانی کاپھل کھاتی رہی۔
اب دوبارہ انسانیت مادہ پرستی(Materialism) کے بھنورمیں پھنس گئی ہے ۔ اگرکل دنیابت پرستی کاشکارتھی توآج مادیت پرستی کاشکارہے اوراس کاسب سے براپہلویہ ہے کہ ویلیوسسٹم ٹوٹ پھوٹ گیاہے ۔آج کے مرداورعورت کے لئے صرف ان کی خواہشات ہی ان کی واحدراہ نماہیں۔ہرطرف مفادات کی جنگ ہے اورخوشی حاصل کرناسب کابنیادی مقصدبن گیاہے خواہ دوسروں کی خوشیوں کے خاتمے کے نتیجے میں انہیں خوشی ملے ۔اس ساری صورت حال کااصل سبب یہ ہے کہ گھرتباہ ہوگیا۔کل تک گھرمیں انسان سازی کاعمل جاری تھا،گھرمیںماؤں کی سرپرستی ہوتی تھی جہاں سے نئی نسل وجودمیں آتی تھی لیکن آج اقدار کا بحران âcrisis Valueáہے ۔ صرف زمین کے ایک خطے پرنہیں ہرخطے میں یہی صورت حا ل ہے ۔اس بحران کاحل کیاہے ؟اس میںعورت کیاکرداراداکرسکتی ہے ؟
کچھ لوگوں نے تو اس کا یہ حل پیش کیا کہ سکول میں کوئی سبجیکٹ ایسا شامل کر دیا جائے جس کی وجہ سے بچوں کی تربیت ہو جائے لیکن بات یہ ہے کہ سکول ،کالج ،یونیورسٹی میں بچے جو کچھ پڑھتے ہیں وہ اپنی سیرت کی تعمیر کے لیے نہیں پڑھتے بلکہ امتحان دینے کے لیے پڑھتے ہیں ۔پہلے تو مائوں کی سرپرستی تھی اور گھر میں اخلاقی تربیت کا کام جاری تھا آج اس کام کو کرنے کے لیے کیا تاریخ کے دھارے کو موڑنا نہیں پڑے گا؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ جب آپ تعلیمی اداروں میں اخلاقیات کے موضوع پر کچھ لیکچرز دیتے ہیں یا اخلاق کے بارے میں کوئی مضمون شامل کرلیتے ہیں تواس کے وقتی طور پرکچھ اثرات ہوتے ہیں ۔لیکن اخلاق کا میدان،تربیت کامیدان محض الفاظ کو پڑھا دینے کا نام نہیں ہے ، یہ میدان الفاظ کا میدان نہیں ، عمل کا میدان ہے ۔
اس عملی میدان میں عورت کیا کرادار اداکر سکتی ہے ؟عورتیں کل بھی معلم اور مربی کی حیثیت تو رکھتی تھیں ،آج بھی ایسا ہو سکتا ہے ۔کل اگر گھر کے اندر اخلاقی تربیت کا سلسلہ جاری تھا تو بچے کو اب ابتدا میں ہی سکول بھیج دیا جاتا ہے ۔اگر اس پر غور کریں توحل تو ہمارے پاس ہے ۔ عورت گھر سے باہر تو آگئی ہے ،اس کی ور ک پلیس تو بدل گئی ہے ۔ آج اگر ہم یہ چاہیں کہ عورت دوبارہ گھر کی ہو کر رہ جائے تو اب عملا ًایساممکن نہیں ہے ۔اب یہ سمجھنا ضروری ہے کہ بدلے ہوئے حالات میں عورت کیا کام کرے جس کی وجہ سے انسانی تربیت کا معاملہ آگے بڑھے ،انسان سازی کا عمل نہ رکے ، جس کی وجہ سے اقدار کا جو بحران پیدا ہو گیا وہ بحران ختم ہو جائے ۔ انسانی نسل کی تربیت کے بارے میں عورت کا کردار آج کے زمانے میں بھی جاری رہ سکتا ہے ۔ یہ کردار پہلے گھر کے اندر تھا اب یہ کردارگھر سے باہر آکر معاشرے میںانجام دیناہے ۔
سوسائٹی میں جتنی سرگرمیاں جاری ہیں ان کو دو بڑے شعبوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ۔ایک تو پیدا واری سرگرمیاں ہیں جیسے صنعتی شعبہ جات ،زراعت وغیرہ جن کے ذریعے زندگی کی ضروریات کی تیاری اور فراہمی کا سلسلہ جاری ہے اور دوسرا شعبہ تعلیمی سرگرمیوں کا ہے ۔رسمی اور غیررسمی تعلیم دونوں ہی یکساں حیثیت سے اس شعبے میں شامل ہیں۔ یہ شعبہ اس بات کا ذمہ دار ہے کہ وہ نئی نسل کی تعلیم و تربیت کرے تا کہ انسانیت کو ایسے افراد ملیں جو تربیت یافتہ ہوں ۔
پیداواری شعبے کی اہمیت اپنی جگہ ہے ۔اللہ پاک نے مرد کو جو صلاحیتیں دی ہیں وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر،پیداواری شعبے میں اپنا حصہ ڈال کر انسانیت کی خدمت کر سکتا ہے ۔ جہاں تک تعلیمی سرگرمیوں کے شعبہ کا تعلق ہے تو اسے عورت کی تحویل میں دینا چاہیے ۔عورتیں اس کے لیے بالکل درست اور موزوں صلاحیتیں رکھتی ہیں ۔اس دوسرے شعبے میں بہت سی چیزیں شامل ہیں جیسے سکول ایجوکیشن ،کالج ایجوکیشن، اسی طر ح سے Com Mass ،صحافت ، میڈیا ، ریڈیو ،ٹی وی،لٹریچر وغیرہ۔ اصل میں انسان سازی کا ذمہ دار یہی شعبہ ہے ۔آج کے دورمیں جتنے وسائل ایجاد ہوئے ہیں ان کی بدولت یہ شعبہ پہلے سے کہیں زیادہ مؤثر انداز میں اپنا کام کر سکتا ہے ۔ اس شعبے کو بہت منظم اور ہمہ گیر انداز میں چلایا جا سکتا ہے ۔پچھلے کسی دور میں اس طرح سے چلانا ممکن نہیں تھا ۔آج کے حالات کا یہ تقاضہ ہے کہ اخلاقی پابندیوں کے دائرے میں رہتے ہوئے عورتیں تعلیمی سرگرمیوں کو سنبھالیںاور انسانیت کی اخلاقی اور ذہنی تعمیر کا کام کریں ۔وہ انسانوں کی مربی اور معلم بن کر اپنا تاریخی کردار ادا کریں۔ یہ خواتین کے لیے بہت بڑا مشن ہے اور ساتھ ساتھ ان کی بہتر جاب بھی ہے ۔
اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت دونوں کو ہی عزت اور احترام دیا ہے ۔ حقوق و فرائض کے معاملے میں بھی دونوں برابر کی حیثیت رکھتے ہیں لیکن تقسیم کار فطرت کا اصول ہے ۔ ہماری پوری زندگی اس اصول کے مطابق چل رہی ہے ۔ مرد اور عورت کے معاملے میں بھی یہی تقسیم کار مطلوب ہے ۔ تقسیم کار کا مطلب صنفی مساوات نہیں ہے ۔ فطری اصول اختیار کرنے کی ضرورت ہے تا کہ ہمارا معاشرہ کسی تضاد کا شکار نہ ہو اور کامیابی کے ساتھ آگے بڑھتا رہے ۔ یہ وقت کا تقاضہ ہے کہ انسانی نسل کی تربیت کے بارے میں عورت اپناکردار اد ا کرے ۔ عورت نے فطری ذمہ داری کو اب تعلیمی اداروں کے اندر ادا کرنا ہے ۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ عورت اس ذمہ داری کے لیے اپنے آپ کو تیار کرے تا کہ تعلیمی اداروں میں اپنے مطلوبہ کردار کو ادا کرنے کے قابل ہو سکے ۔اب اسے باقاعدہ تعلیم اورتعلیم کے میدان میں مہارت حاصل کرنی ہے ۔اب اس نے اپنی ورک پلیس کا چارج لینا ہے اور اپنی فطری ذمہ داری کو ادا کرنا ہے ۔عورت پیشہ وارانہ تعلیم â education Professional á کے بغیرعورت اپنی ذمہ داری کو ادا نہیں کر سکتی۔ اس کے لیے اسے محنت کرنی ہے اور اپنے آپ کو ا س قابل بنانا ہے کہ انسانیت کی تعمیر کے لیے اورانسان سازی کے لیے اللہ پاک نے جو ذمہ داریاں عائد کی ہیں ان ذمہ داریوں کو ادا کر سکے ۔
جس نے زندگی میں اہم کردار اد اکرنا ہو اسے اپنی ذات کی قید سے باہر نکلنا پڑتا ہے ، اپنی انا کے خول سے نکلنا پڑتا ہے ۔خود غرضی،تنگ نظری ذات کی قید اورکمزوری ہے ۔ اپنا کردار اداکرنے کے لیے ضروری ہے کہ اپنی ذات کی قید سے باہر نکلیں، اپنے آپ کو معاشرے میں ایڈجسٹ کریں ۔اس کے لیے سب سے پہلے اپنی Deconditioning کرنے کی ضرورت ہے ،Deconditioning نہیں کریں گے تو حقیقت پسندی کا مزاج پیدا نہیں ہو گا۔ پھر یہ کہ اپنی شخصیت میں اللہ تعالیٰ نے جوامکان (Potential)رکھا ہے اس کو اچھے طریقے سے جان لیں۔ پھراس کے بعد سب سے بڑی بات صبر کی ہے ۔ صبر ہی انسان کے اندر اعتدال پیدا کرتا ہے ،صبر کی وجہ سے انسان اپنی قوت کو غیر ضروری ضائع نہیں کرتا،صبر کی وجہ سے مایوس نہیں ہوتا ،صبر تو مایوسی کو بھی امید میں بدل دیتا ہے ،صبر کی وجہ سے پختگی پیدا ہوتی ہے ،صبر کی وجہ سے ہی انسان خود بدلتا ہے اور دوسروں کو بدلنے کے لیے کوشش کر سکتا ہے ۔
دنیا میں کچھ چیزیں ہیں جو بدل سکتی ہیں اورکچھ کبھی نہیں بدل سکتیں ۔جو بدلنے والی نہیں ہیں وہاں خود کوایڈجسٹ کرنا پڑتا ہے ۔ زندگی میں بڑا کرادار اد اکرنا چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ سطحیت سے نکل آئیں ۔اس معاملے میں سادہ طرز زندگی âliving Simpleá آپ کا مددگار ہوگا۔جو انسان سادہ زندگی گزارتا ہے ، اس کے اندراعلیٰ سوچ â thinking Higháپیدا ہوتی ہے ۔ اپنے وقت کی قدر کو پہچانیں ،غیراہم اور غیر متعلق چیزوں سے خود کو بچائیں ۔اللہ پاک نے آپ کو جوصلاحیت دی ہے ، جوامکانâPotential á آپ کے اندر ہے اس کو باہر لے آئیں۔ جب یہ باہر آئے گاتو یہی کامیابی ہے ۔اللہ تعالیٰ کو عورت سے یہی مطلوب ہے کہ وہ نسل انسانی کی تربیت کرے ۔اسی وجہ سے عوت کو رب العزت نے فطری طور پر ایسا بنایا ہے کہ وہ اپنی اس ذمہ داری کو بہت عمدہ طریقے سے ادا کر سکتی ہے ۔ کیا رب العزت نے عورت کو نرمی،شفقت،صبر اور جذباتی تعلق جیسی صفات نہیں دیں؟ یہ صفات تربیت کے لیے ضروری ہیں ۔لیکن ا س کے ساتھ ساتھ امر کی بھی ضرورت ہے کہ عورت باقاعدہ طور پر جدید علوم حاصل کرے ۔اس وقت پربہت زیادہ ضرورت ہے کہ وہEducational training حاصل کرے تا کہ وہ اپنے آپ کو اس قابل ثابت کرے کہ وہ بچوں کی تعلیم وتربیت کر سکتی ہے اور اپنے فریضے کو بھرپور طریقے سے ادا کر سکتی ہے ۔ نئی نسل کواخلاقی بحران âMoral anarchyáسے بچانے کے لیے یہی ایک صورت ہے ۔ اب نہ سیدہ ہاجرہ علیہ السلام کی طرح عورت کا مقام عمل صحرا ہے ، نہ پہلی عورت کی طرح اب مقام عمل صرف گھر رہ گیا ہے اب ورک پلیس سکول ہے ۔ اس لیے اپنے آپ کو ٹرینڈ ٹیچر ثابت کریں۔ یہ نیا نظام ہو گا۔ اس نئے نظام میں آپ تب ہی Fit in ہو سکتے ہیں جب آپ اچھے ٹیچر بنیں ۔آپ اچھے ٹیچر بنیں گے ،آپ انسان سازی کے عمل کو جاری رکھیں گے توآپ انسانیت کے لیے بڑا کام کرنے کے قابل ہو جائیں گے ۔âان شائ اللہ تعالیٰá
سچی بات تو یہ ہے کہ عورت انسانیت کے لیے اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا تحفہ ہے اور ماں کے روپ میں ہر انسان کی بہت مددگار ہے ۔ عورت ہر انسان کی ترقی میں بہت مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے ۔ماں کی حیثیت سے اس کا کردار بہت عام ہے ۔آپ اپنے ذاتی تجربے سے اس کو جانتے ہیں ۔ماں ہر جگہ ،ہر دور میں اپنا یہ کردار اد اکرتی ہے ۔ اسلام نے عورت کے اندر آفاقی ذہن پیدا کیا ہے ۔اسلام چاہتا ہے کہ عورت صرف اپنے بچوں کی مربی نہ رہے ، صرف ان کی معلم نہ بنے ،ساری انسانیت کی مربی ،ساری انسانیت کی معلم بن جائے اور اس صلاحیت کو صرف اپنے بچوں تک محدود نہ رکھے بلکہ خیر کے اس کام کو عام کرے ۔ عورت کو اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی تعمیر کے لیے پیدا کیا ہے ،وہ صرف اپنے بچوں کی تعمیر کے لیے پیدا نہیں ہوئی۔ اصل کام کرنے کا یہ ہے کہ آپ اپنی علمی استعداد کو بڑھائیں ۔اس وقت اگر دنیامیں کچھ کردار اد اکرنا چاہتی ہیں تو اپنی تعلیمی استعداد کو بہتر کریں ،ڈگریز بھی اس راستے کی اہم ضرورت ہیں۔ جتنا زیادہ تعلیم کی اہمیت بڑھ گئی ہے اس کے لیے آپ کا زیادہ اچھی تعلیم حاصل کرنا بھی ضروری ہو گیاہے ۔ آج خواتین بڑے پیمانے پرتعلیمی کام کرتی نظر آتی ہیں۔ عام طور پر کہا یہ جاتا ہے کہ عورتیں زیادہ کامیاب سکول ٹیچر ثابت ہوتی ہیں ۔ اصل بات یہ ہے کہ عورتیں اپنے اصل مقام عمل تک پہنچ گئی ہیں لیکن آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اگر کوئی عورت تعلیمی اداروں میں جاب بھی کرتی ہے تو جاب کو مشن کے طور پر انجام دے ۔اگرمشنری نہیں بنیں گے تونسل انسانی کی تربیت کا کام نہیں کر سکیں گے ۔ آج سب سے بڑا کام تربیت ہے ۔اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ الفاظ کو منتقل کرنے کے لیے اپناکردار ادا کر دیں تو الفاظ تربیت کے عمل میں ضروری تو ہوتے ہیں لیکن الفاظ اصل نہیں ہیں ،الفاظ تو چھلکا ہیں ۔آپ جب تک اس کو اپنی ذمہ داری نہیں سمجھیں گی آپ اس کے لیے محنت نہیں کر سکیں گی ،آپ جب تک اس کو اپنی ذمہ داری نہیں سمجھیں گی اس کے لیے ٹریننگ حاصل کرنے کی کوشش نہیں کریں گی۔انسانوں کی تربیت ربانی مشن ہے جس کو چلانے کے لیے عمدہ ، حقیقت پسند اور حساس شخصیت کی ضرورت ہوتی ہے ۔اس مشن کو چلانے کےلئے استحصال âExploitationá کا مزاج نہیں چاہیے ،ربانی مشن کو چلانے کے لیے دل میں شفقت اور خیر خواہی کے جذبات کا بھرا ہوا ہونا چاہیے ۔ربانی شخصیت کے اندر حق کی پہچان سب سے بڑی چیز ہوتی ہے ۔جس کو مادی حقیقتیں زیادہ دکھائی دیں وہ ربانی مشن پر نہیں چل سکتا ۔حق کے معاملے میں کسی ملامت کی پرواہ نہ کریں ۔کوئی مادی مفاد رب کے راستے سے ہٹانے والا نہ ہو۔ لوگوں کا رویہ منفی بھی ہو تب بھی مثبت رویے پر قائم رہنا ضروری ہے ۔ ہر عورت کو رب نے ایسا بنایا ہے کہ اس کے اندر وفاداری کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے ۔کسی مقصد کے ساتھ تعلق قائم ہو جائے تو یہ تعلق محض عقلی بنیاد پر زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتا، اس کے لیے گہری دلی وابستگی ضروری ہے ۔گہری دلی وابستگی کے ساتھ شکایت بھی ہو تو مقصد کے ساتھ تعلق قائم رہتا ہے ۔ عورت کو فطری طور پر اللہ تعالیٰ نے Emotional بنایا ہے ۔ مرد کے اندر یہ صفت کم پائی جاتی ہے ۔ اسی وجہ سے عورت کی مشن کے ساتھ attachment Emotional جلدی ہو جاتی ہے ۔یہ جذباتی لگائو ہے جو مقصد کے ساتھ مستقل طور پرجوڑے رکھتا ہے ۔ یہ بے غرض تعلق ہے جو کسی بھی مقصد کی کامیابی کی سب سے بڑی ضمانت ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ یہ بے غرض تعلق مرد کی نسبت عورت کے اندر زیادہ پایا جاتا ہے ۔ اسی طرح دعوتی کام کے لیے عورت کس قدر موزوں ہے ۔ مرد کے سامنے جب کوئی بات کہی جاتی ہے تو اس کے اندرانانیتâEgo áکا جذبہ پیدا ہو جاتا ہے ۔ جب کبھی وہ کسی کو دعوت دیتا ہے تو عجیب بات ہے clash Ego ہو جاتا ہے اسی وجہ سے حق کو قبول کرنے کے راستے میں یہ رویہ رکاوٹ بن جاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے عورت میںیہ بات رکھی ہے کہ وہ بات سن لیتی ہے اور بات کو برداشت بھی کر لیتی ہے ۔اس کا یہ مزاج دعوت کے لیے نہایت موزوں ہے ۔
آپ اچھی مربی اور اچھی معلم بن جائیں تا کہ زمانے میں اپنا کردار ادا کرنے کے قابل ہوں تاکہ ہم اللہ تعالیٰ کے حکم سے اللہ تعالیٰ کے پیغام کو پہنچائیں بھی اور اس کی حفاظت کرنے کے قابل بھی ہوں۔ اللہ پاک ہماری خطائوں سے درگزر فرمائیں اور ہمیں بہترین انداز میں کام کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔