یورپی پارلیمنٹ میں بھارت کو سفارتی شکست کا سامنا

March 1, 2019 2:38 pm

مصنف - سلطان سکندر

’’تو تیر آزما ہم جگر آزمائیں‘‘َکشمیر عوام کنٹرول لائن کے آر پار بھارتی مظالم اور جارحانہ عزائم کے خلاف ڈٹے ہوئے ہیں سینہ سپر ہیں اور وہ بھارت کے مذموم عزائم کو ناکام اور نامراد کرنے کے لئے پر عزم ہیں مقبوضہ کشمیر میں پلوامہ واقعہ کی آڑ میں بھارت کی سیکیورٹ فورسز نے ریاستی دہشتگردی کا سلسلہ تیز کر دیا ہے اور عوام ہڑتالوں اور مظاہروںکے زریعے ان مظالم کے خلاف بھرپور احتجاج کر رہے ہیں سیکیورٹی فورسز کی کاروائیوں کے نتیجے میں کشمیر ی شہید و زخمی ہو رہے ہیں تو خود سیکورٹی اہلکار بھی جانی نقصان اٹھا رہے ہیںحریت قائدین کی گرفتاریوں اور نظر بندیوں کے باوجود تحریک جاری ہے میر واعظ عمر فاروق سمیت دیگر حریت قائدین کی سیکیوررٹی واپس بلا لینے کے بعد نوجوان یہ فریضہ انجام دیں رہے ہیں ،جماعت اسلامی آزاد جموں و کشمیر کے زیر اہتمام بھارتی مظالم کے خلاف ریاست بھر میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے جن کی قیادت امیر جماعت اسلامی آزاد جموں و کشمیر ڈاکٹر خالد محمود خان ،عبدالرشید ترابی ،سردار اعجاز افضل خان اور غلام محمد صفی نے کی دارالحکومت مظفر آباد میں جے آئی یوتھ نے بھارتی مظالم کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی جس میں مقررین نے واضح کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم سے تحریک آزا دی کو دبایا نہیں جا سکتا عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیمیں کردار ادا کریں جماعت اسلامی کے قائدین نے مقبوضہ کشمیر میں جماعت رہنمائوں کی گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پلوامہ واقعہ کشمیر میں بھارتمظالم کا ردعمل ہے جنوبی ایشیا ئ کا امن مسئلہ کشمیر کے حل سے مشروط ہے اے پی سی بلا کر آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کریں گے کھوئی رٹہ پریس کلب کے زیر اہتمام بھارتی مظالم کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی جس میں شرکائ نے بھارتی غاصبوں کشمیر ہمارا چھوڑ دو،ہم چھین کے لیں گے آزا دی کشمیریوں پر ظلم و ستم بند کرو کے پر جوش نعرے لگائے مقررین نے کہا کہ تحریک آزا دی کو ظلم و ستم سے دبایا نہیں جا سکتا آزا د جموں و کشمیر کے صدر سردار محمد مسعود خان اورناروے کے سابق وزیر اعظم نے اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا مزاکرات کے زریعے سفارتی سیاسی حل تلاش کیا جائے اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی برادری فوری مداخلت کر کے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے میں اپنا کردار ادا کرے جموں و کشمیر تنازعہ کا کوئی فوجی حل نہیں دیرینہ مسئلہ کو صرف مذاکرات کے زریعے حل کیا جا سکتا ہے آزا دکشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر نے گلاسگوâبرطانیہ á میں تحریک کشمیر کے زیر اہتمام جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ وزیراعظم عمران خان آل پارٹیز کانفرنس بلائے پارلیمنٹ متفقہ قرارداد کے زریعے کشمیر پر پالیسی دے مسئلہ کشمیر پر تمام سیاسی قائدین کی مشاورت سے آگے بڑھا جائے کشمیر پر مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے ہم اتحاد کے زریعے دشمن کو شکست دے سکتے ہیں مٹھی بھر کشمیر ی بھارت کو ناکوں چنے چبوا رہے ہیں وہ پاک فوج سے کیا ٹکرائے گی ،یورپی پارلیمنٹ کے ارکان نے مسئلہ کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو زیر بحث لا کر بھارتی مخالفت کو ناکام بنا دیا آزا دکشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کی برسلز میں کوششیں رنگ لائیں اور بھارت کو بین الاقوامی سفارتی محاز پر بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑا ،یورپی پارلیمنٹ کے اجلاس میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھارت کے خلاف ایکشن لینے کا مطالبہ کیا گیا اور کالے قوانین کے زریعے کشمیریوں کو آواز کو دبانے کی پر زور مذمت کی گئی راجہ فاروق حید نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کو ان کا پیدائشی حق خود ارادیت ملنا چاہیے بھارتی مظالم میں حالیہ شدت تشویش ناک ہے اس اجلاس کے موقع پر راجہ فاروق حید ر اور دفتر خارجہ اسلام آ باد کے ترجمان ڈاکٹر فیصل کے درمیان مکالمے ‘‘پر سابق وزیر اعظم اور پی ٹی آئی کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے شدید تنقید کی ہے راجہ فاروق حیدر اس طویل غیر ملکی دورے کے بعد یکم جنوری کو اسلام آباد واپس پہنچ رہے ہیں مسلم لیگ ن کے کارکن صبح ساڑھے سات بجے جموں کشمیر ہائوس میں ان کا استقبال کریں گے راجہ فاروق حیدر کی عدم موجودگی میں آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر اورمسلم لیگ ن کے سیکرٹری جنرل شاہ غلام قادر اور سنئیر وزیرچوہدری طارق فاروق نے آزاد کشمیر کے سابق صدر اور وزیراعظم سالارِ جمہوریت سردار سکندر حیات خان نے کوٹلی میں اہم ملاقاتیں کی ہیں ان تینوں رہنمائوں نے حکومتی معاملات پر اپنے شدید تخفظات کا اظہار کیا ہے شاہ غلام قادر نے حزب اختالف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے وزیراعظم آزا دکشمیر وطن واپسی پر یقینا حکمران جماعت کے تین بڑوں کی سرگرمیوں اور دفتر خارجہ کے ترجمان سے برسلز میں ہونے والے ’’مکالمے ‘‘ کے بارے میں اپنے موقف کی وضاحت کریں گے دونوں معاملات میں فریقین کا موقف الگ الگ ہے ۔
کس کا یقین کیجیے کس کا نہ کیجیے
لائے ہیں بزمِ ناز سے یار خبر الگ لاگ