پاکستان کیوں ٹوٹا، بھارت کیوں نہیں ٹوٹا

February 6, 2019 3:12 pm

مصنف - اسد اللہ غالب

ایک خلجان ہے جس نے راتوں کی نیند حرام کررکھی ہے ۔دو ملک ایک ساتھ بنے ، پاکستان ا ور بھارت کو ایک ساتھ آزادی ملی۔بھارتی راہنمائوں نے رٹ لگا دی کہ پاکستان نہیں چلے گا۔ مسلوںنے کبھی دکان نہیں چلائی۔ ملک کیا چلا پائیں گے ۔ابوالکلام آزاد نے کہا پاکستان کے پا س لیاقت علی خاںنہ ہوتے تو یہ ملک دو ہفتوں سے زیادہ نہ چلتا۔ پٹیل نے کہا پاکستان چند مہینوں میں بھارت کی جھولی میں گر جائے گا۔ بھارتی لیڈروں کا سب سے بڑا اعتراض یہ تھا کہ ایک ملک کے دو حصے ہیں ،دونوں کے درمیان ایک ہزارمیل کا فاصلہ ہے ۔اکہتر میں پاکستان ٹوٹ گیا۔ مشرقی حصہ بنگلہ دیش بن گیا اور مغربی حصے نے اپنا نا م پاکستان رکھ لیا۔بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی نے کہا کہ دو قومی نظریئے کو خلیج بنگال میں ڈبو دیا گیا ہے ۔ ہمارے پاس اس کا کوئی جواب نہ تھا۔ویسے یہ جواب جنرل یحییٰ خان نے دینا تھا۔اب پاکستان کو بنے بہترواں سال چڑھ گیا ہے ۔ یہ بدستور دو حصوں میں تقسیم ہے ۔ہماری آس تھی کہ اسلام کا رشتہ بنگلہ دیش کو واپس پاکستان سے جوڑ دے گا مگر بد قسمتی سے ایسا نہ ہو سکا۔الٹا بنگلہ دیش نے ان لوگوں کو موت کی سزائیں دیں جو پاکستان کا نام لیتے تھے ۔ہم نے اپنے دل کو خوش کرنے کے لئے کئی بار کہا کہ بھارت ایک بے جوڑ ملک ہے ۔ یہاں سبھی ہندو نہیں۔مسلمان بھی ہیں، سکھ ہیں۔ دلت ہیں۔ بدھ ہیں۔کئی قومیں ہیں جن میں سے کچھ بھارت سے علیحدگی کے لئے لڑ رہی ہیں۔ ہم کہتے رہے کہ بھارت کے کئی ٹکڑے ہو جائیں گے مگر بھارت آج بھی ایک ملک کے طور پر موجود ہے ۔ ہر چند کشمیر میں ایک بہت بڑی تحریک ا ٓزادی چل رہی ہے اور برسوں سے چل رہی ہے مگر بھارتی فوج نے کوئی ایک لاکھ حریت پسندوں کو شہید کر دیاا ور اپنی وحدت برقرار رکھی۔پاکستان کے ہمسائے میں چین ہے ۔ ہمارے بعد آزاد ہوا، یہ ایک سپر پاور ہے ۔ یہاں بھی بھانت بھانت کے لوگ ہیں مگر چینی ایک قوم کی طرح اپنے ملک کو قائم رکھنے میں کامیاب ہیں۔ہمارا یک ہمسایہ ایران ہے ۔ یہ بھی جوںکاتوں ہے حالا نکہ یہاںنظام حکومت بھی تبدیل ہو گیا۔ بادشاہت کی جگہ اسلامی انقلاب نے لی لے ۔ایران پر عراق نے دس سال تک طویل جنگ بھی مسلط رکھی مگر ایران کی ایکتا کو کوئی نْقصان نہیں پہنچا۔ہمارا ایک قریبی ہمسایہ افغانستان ہے ۔ یہ دو مرتبہ عالمی جنگ کا مرکز بنا مگر اس ملک کی سلامتی پر کوئی منفی اثر نہیں پڑا۔ یہ وہی ا فغانستان ہے جو پاکستان کے قیام کے وقت تھا ۔ہاں ، ہماری ایک ہمسایہ ریاست ضرور ٹوٹی اور یہ سوویت روس کی ریاست تھی، یہ پارہ پارہ ہو گئی۔ مگر روس کا ٹوٹنا کوئی دلیل نہیں کہ پاکستان کو بھی ٹوٹ جانا چاہئے تھا۔سوال یہ ہے کہ آج ہم کہاں کھڑے ہیں۔جواب یہ ہے کہ ہم آج وہیں کھڑے ہیں جہاں ہمیں چار مارشل لاایڈمنسٹریٹروںنے کھڑا کیا۔ انہوں نے جمہوری نظام کو پنپنے نہیں دیا جو ملک کو وحدت کی رسی میں پرو سکتا تھا۔ آج ہم سندھی ہیں، بلوچی ہیں ۔پٹھان ہیں، پنجابی ہیں ۔ہمیں تسلی دی جاتی ہے کہ بے نظیر چاروں صوبوں کی زنجیر ہے ۔ کبھی ہمیں تسلی دی جاتی ہے کہ ہماری فوج ہماری سلامتی، یک جہتی اورا ٓزادی کی ضامن ہے ۔ بے نظیر اگر چاروں صوبوں کی زنجیر تھیں تو انہیں شہید کر دیا گیا۔ان کی پارٹی ایک صوبے میں سکڑ کر رہ گئی ہے ۔اور فوج پچھلے پندرہ برسوں میںاندرونی دہشت گردی کی جنگ لڑ رہی ہے ۔ اس جنگ میں اسے بے بہا قربانیاں دینا پڑیں۔ کہنے کو ایک نیشنل ایکشن پلان موجود ہے مگر عملی طور پر اس کا کوئی وجود نہیں۔کیونکہ اس پر عمل کرنے کو کوئی تیار نہیں۔عمران خان نے بھی اس پر دستخط تو کئے مگر وہ دہشت گردی کی جنگ کو پرائی جنگ کہتے تھے اورا ٓج بھی کہتے ہیں ۔ نتیجہ یہ ہے کہ دہشت گردی کی جنگ پر بھی ہم یک سو نہیں۔ خدا نخواستہ کوئی بیرونی خطرہ در پیش ہوا تو کون جانتا ہے کہ ہم میں سے کون کون بنگالیوں کی طرح مکتی باہنی کے کیمپوں میں ہو گا،سیاسی طور پر ہم اس قدر تقسیم ہیں کہ ایک دوسرے کو کرپٹ ، بد دیانت ،خائن، غدار کہتے ہیں اور ایک دوسرے کی شکل دیکھنے تک کے روا دار نہیں۔ ہماری پارلیمنٹ مچھلی منڈی کا منظر پیش کر رہی ہے اور ہمارے ٹاک شوز میںجوتیاں چلتی ہیں۔میڈیا غیر اعلانیہ سنسر شپ کے شکنجے میں ہے جس کی وجہ سے عوام حقائق جاننے سے محروم ہیں۔ کسی کو یہ پتہ نہیں چلتا کہ دن دیہاڑے ہائی وے پر گولیاں چلتی ہیں اور چھوٹی سی گاڑی لاشوں سے بھر جاتی ہے تو ان کا قاتل کون ہے ۔ الزام یہ ہے کہ قتل ہونے والے ہی خود اپنے قاتل ہیں۔سچ اور جھوٹ کی تمیز ا س معاشرے میںہو سکتی ہے جہاںمیڈیا آزاد ہو اور انصاف کا دور دورہ ہو۔اب ا ٓخری آس یہ ہے کہ لوگوں کو ریاست مدینہ کا خواب دکھایا گیا ہے ۔ بلا شبہہ پاکستان کا قیام ہی ریاست مدینہ کو عملی تعبیر دینے کے لئے تھا مگر یہاں ہوا سب کچھ الٹ۔ ریاست مدینہ کی عملی شکل کسی کو نظر نہ ا ٓ سکی۔ اب ایک بار پھر یہ نعرہ لگایا گیا ہے ۔ ریاست مدینہ ایک فلاحی جموری ریاست تھی۔اس میں انصاف تھا۔ سادگی تھی کفائت شعاری تھی ہر کوئی اپنے اعمال کے لئے جواب دہ تھا۔ اور انہی خوبیوں کی وجہ سے ریاست مدینہ نے دنیا کی دو سپر پاورز سے ٹکر لی اور انہیں ملیا میٹ کر کے رکھ دیا۔اس دور میں سندھ کی ایک مظلوم عورت مدد کے لیے خلیفہ وقت کو آواز دیتی تھی تو ہزاروں میل کی مسافت سے محمد بن قاسم اس کی مدد کو پہنچتا تھا۔ اس دور کا حکمران سمجھتا تھا کہ دریائے نیل کے کنارے کوئی کتا بھی پیاس سے مار مر جائے تو اس کی ذمے داری حکمران پر عائد ہو گی۔ آج ہم اگر یہ نعرہ لگاتے ہیں تو پھر ہمیں ریاست مدینہ کی پیروی کرنا ہو گی۔ اور اس کو عملی شکل دینا ہو گی۔
ریاست مدینہ کے قیام کا خواب ایک طرف دوسری طرف ملک کی یک جہتی پر کلہاڑا چلانے کی کھلی تدبیریں ہو رہی ہیں۔ بھارتی وزیر اعظم مودی دھمکی دیتا ہے کہ پاکستان کے صوبے بلوچستان، آزاد کشمیر ، گلگت اور بلتستان کے عوام کو اسی طرح کے حقوق دلوائے جائیں گے جیسے اکہتر میں مشرقی پاکستان کے لوگوں کو دلوائے گئے تھے ۔ اس دھمکی کا مطلب بڑا واضح ہے ۔ سی پیک کی مخالفت میں بھی ایک دنیا ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے ۔ کشمیر کی کنٹرول لائن اور ورکنگ بائونڈری پر بھارتی فوج کی اندھا دھند گولہ باری آئے روز جاری رہتی ہے ۔ بھارتی را کے ایجنٹ اعلانیہ پاکستان میں گھس رہے ہیں ۔کل بھوشن کی گرفتاری ا سکا ایک بین ثبوت ہے ۔ افغانستان میں بیسیوں ملکوں کی افواج ڈیرے ڈالے بیٹھی ہیں ۔یہ ملک ایک بے ا ٓب و گیاہ ویرانے کی حیثیت رکھتا ہے جہاں غیر ملکی افواج پکنک منانے نہیں آئیں۔ہمیں ان کے ارادوں سے بے خبر نہیں رہنا چاہئے ۔بھارت کے مذموم عزائم ہمیں پہلے ہی دو لخت کر چکے ہیں، آئندہ وہ ہمارے ساتھ کیا کر سکتا ہے ، اس کے لئے کسی افلاطون سے مشورے کی ضرورت نہیں۔ ہم بد قسمتی سے مسلم قوم تو نہیں بنے مگر ایک پاکستانی قوم بھی نہیں بن سکے ۔ اس پس منظر میں ہمیں اپنی باہمی کشا کش، بلیم گیم اور محاذ آرائی کی روش کو ترک کرنا ہو گا تاکہ ہماری بقا کا کوئی راستہ تو نظرا ٓئے ۔