ہاتھوں میں ہاتھ دیں کشمیریوں کا ساتھ دیں

February 6, 2019 3:10 pm

مصنف - محمد یٰسین وٹو

آج قوم پھر یوم یکجہتی کشمیر منارہی ہے ۔پانچ فروری کا دن کشمیریوں کی جدوجہد آزادی میں نہایت ہی اہمیت کا حامل ہے ، کشمیر دراصل تقسیم ہند کا ایسا حل طلب مسئلہ ہے ، جو بھارتی حکومت کی ہٹ دھرمی و ظلم و ناانصافی کے باعث تاحال حل نہیں کیا جا سکا ۔اس دوران کشمیری مسلمانوں نے آزادیٔ کشمیر اور اپنے حق خود ارادیت کے حصول کیلئے لاتعداد قربانیوں کی تاریخ رقم کی ہے ، جو مسئلے کے حل ہونے و کشمیر کے آزاد ہونے تک جاری رہے گی۔کشمیریوں کی قربانیوں اور حالیہ جدوجہد سے مسئلہ کشمیر کا حل قریب آتا دکھائی دیتا ہے ۔ کشمیری عوام کی تحریک آزادی اسی روز سے شروع ہو گئی تھی جب انگریزوں نے گلاب سنگھ کے ساتھ ’’معاہدہ امرتسر‘‘ کے تحت16 مارچ 1846ئ کو کشمیر کا 75لاکھ روپے نانک شاہی کے عوض سودا کیا۔ایک صدی کشمیریوں نے جدوجہد آزادی میں گزار دی۔کشمیرنہ صرف کشمیریوں کیلئے زندگی موت کا مسئلہ ہے بلکہ پاکستان کیلئے بھی یہ شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے ۔ اکیس جنوری 1990ئ میں جب مقبوضہ کشمیر کے عوام بھارت کے غاصبانہ قبضہ کے خلاف سرینگر اور دیگر شہروں میں لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر آئے تو بھارت کی درندہ صفت فوج نے نہتے کشمیریوں کو بربریت کا نشانہ بنا کر درجنوں شہریوں کو شہید کر دیا۔کشمیر کی تاریخ میں ایک ایسا موقع تھاجب اتنی بڑی تعداد میں کشمیریوں نے منظم ہوکر اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا اور کشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضہ اور فوجی تسلط کے خلاف اعلان کر دیا۔عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف حکومت اپنے کردار وعمل سے کشمیر کاز کے ساتھ ماضی کی کسی بھی حکومت کے مقابلے میں زیادہ کمٹڈ نظر آتی ہے ۔پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا گزشتہ سال ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب قومی کی امنگوں کے عین مطابق اور مظلوم کشمیریوں کے مؤقف کا صحیح معنوں میں ترجمان تھا۔اس مرتبہ یوم یکجہتی زیادہ جوش وخروش اور ولولے سے حکومتی سطح پر منایاجارہا ہے ۔شاہ محمود قریشی یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کیلئے تین فروری کو لندن چلے گئے تھے ۔برطانیہ کے دورے پرروانہ ہونے سے قبل انہوں نے بھارت کے زیر مقبوضہ کشمیر میں حریت قیادت سے براہ راست فون پر رابطہ کر کے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے موقف کا اعادہ کیا اور کشمیری قیادت کو اس مسئلہ پر کشمیریوں کی سیاسی اور اخلاقی حمایت جاری رکھنے کا یقین دلایا۔
گزشتہ روز چارفروری کو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی برطانوی پارلیمان میں ایک بین الاقوامی کشمیر کانفرنس سے خطاب کیا جس میں برطانوی ارکانِ پارلیمان کے علاوہ بھارت اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے کشمیریوں کی بڑی تعداد نے حصہ لیا۔اس موقع پر شاہ محمود قریشی نے کہا۔’کشمیر کا فوجی حل ممکن نہیں،بھارت کو اس مسئلہ کے سیاسی حل کی طرف لانا ہوگا‘۔اس دورے کے آخری روز آج یعنی پانچ فروری کو لندن کے ایک ہوٹل میں خصوصی نمائش کا اہتمام کیا گیا ہے جس میں کشمیر میں ہونے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کیا جائیگا۔تحریک انصاف کی حکومت کو اقتدار میں آنے کے کشمیر کے مسئلہ پر ایک مرتبہ پھر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے ۔ حکومت پاکستان نے یوم یکجہتی کشمیر پر خصوصی پروگرام تشکیل دیئے ۔ وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی جائیگی۔ کشمیریوں سے بھر پور اظہار یکجہتی کیلئے اس حوالے سے ڈی چوک اسلام آباد میں غیر معمولی سرگرمیاںہونگی۔ پروگرام کے تحت ڈی چوک سے وزیر اعظم کا کشمیر پر خصوصی خطاب ہوگا۔ صدر ڈاکٹر عارف علوی آج قانون ساز اسمبلی آزاد کشمیر کے اجلاس سے خصوصی خطاب کریں گے ۔
دنیا بھر میں پاکستانی سفارتخانوں اور مشنز کو متحرک کرتے ہوئے کشمیر پر ان کی کارکردگی رپورٹس طلب کی گئیں۔وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر پارلیمنٹ ہائوس اور ایوان صدر کے سامنے انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی جائیگی۔وفاقی کابینہ کے ارکان بھی کشمیریوں سے پاکستان کے عوام کے مکمل یکجہتی کے اظہار کیلئے اس غیر معمولی سرگرمی میں شریک ہونگے ۔انسانی ہاتھوں کی زنجیر کے بعد خصوصی پروگرام ہوگا قومی ملی اور کشمیری نغمے گائے جائیں گے ۔ڈی چوک سے وزیراعظم عمران خان کشمیر پرخصوصی خطاب کریں گے ۔کشمیریوں کا نمائندہ وفد بھی اس پروگرام میں شریک ہوگا۔یوم یکجہتی کشمیر کو عالمی سطح پر بھی پزیرائی مل رہی ہے ۔دوسری طرف بھارت اپنی فطرت کے مطابق اس دن کو ناکام بنانے کیلئے اوچھے حربے استعمال کررہا ہے ۔ دہلی نے 4 فروری کو آل پارٹی پارلیمینٹری گروپ âاے پی پی جیá کے تحت برطانوی پارلیمنٹ میں منعقد کی جانے والی تقریب پر اعتراض کیا تھا۔ برطانوی پارلیمنٹ میں منعقدہ اس تقریب میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کو اجاگر کیا گیا۔ برطانیہ نے یوم یکجہتی کشمیر کی تقریب میں مداخلت سے انکار کرتے ہوئے بھارت کا احتجاج مسترد کردیا تھا ،نئی دہلی میں برطانوی ہائی کمیشن ترجمان نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ برطانوی پارلیمنٹ کے اراکین آزاد ہیں، یہ ارکان پر ہے کہ وہ کس سے ملاقات کا فیصلہ کس مقصد کیلئے کرتے ہیں۔اس سے بھارت کی امیدوں پر پانی پھر گیا۔یہ پاکستان کی بہترین سفارتکاری کی عمدہ مثال بھی ہے ۔آج حکومت جس طرح یوم یکجہتی منا رہی ہے قوم حکومت کے ہاتھوں میں ہاتھ دے کر دنیا پر واضح کر دے کہ ہم کشمیریوں کی جدوجہد میں دامے درمے سخنے ان کے ساتھ ہیں۔