دوست ممالک کا قابل تحسین دستِ تعاون!

February 6, 2019 3:09 pm

مصنف - خالد کاشمیری

حقائق کچھ اس طرح ہیں کہ اب برسراقتدار قیادت کے اعضائ جوارح کی زبان سے بھی کھلے لفظوں میں نہ سہی مگر اشاروں کنائیوں میں یہ حقیقت بیان ہونے لگی ہے کہ فیصلہ کن قوتوں کا محض وجود ہی نہیںبلکہ قوم و ملک کے انتہائی اعلیٰ نوعیت کے معاملات میں انکی مرضی اور منشائ کو بھی دخل ہوتا ہے ۔ ایسے میں کسی بھی باشعور پاکستانی کیلئے یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ ایوان اقتدار تک رسائی رکھنے والوں کے لبوں سے ادا ہونیوالے الفاظ کو فیصلہ کن قوتوں کی آشیرباد بھی حاصل ہوتی ہے ۔ بلاشبہ بااختیار سیاسی قیادت کے قریبی ذرائع کی طرف سے اس معاملے پر اطمینان آمیز لہجے میں گفتگو کا سلسلہ جاری ہو چکا ہے ۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ فیصلہ کن قوتوں کی چھتری تلے پاکستان میں عرصہ دراز کے بعد پاکستان اور اس کے عوام کی صلاحیتوں کا عالمی سطح پر سودا کرکے مخصوص مفادات حاصل کرنیوالوںکی بجائے ایسی صورتحال پر ماتم کناں سیاسی عناصر کو ہے اورہم وطنوں کیلئے کچھ کر گزرنے کا موقع ملنے لگا ہے اور اسی فضا میں موقع ملنے میں خزاں زدہ چمنستان کیلئے نوید بہار کے پیغام سننے میں آرہے ہیں۔ گزشتہ دنوں وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے قومی اسمبلی کی نشست نمبر 156 کی مختلف یونین کونسلوں میں اپنے اعزاز میں منعقدہ تقاریب سے خطاب کرتے ہوئے ایسے ہی حوصلہ افزا الفاظ میں اہل وطن کے دلوں کو گرمانے کا کام کیا ہے ۔ شاہ محمود قریشی ارض وطن کے ایک اہم ترین عہدہ جلیلہ پر متمکن ہیں۔ ان کی زبان سے اس امر کا اظہار ماضی کے حکمرانوں کی ذاتی مفادات کے حصول سے عبارت حکمت عملیوں کے نتیجے میں ملک اور قوم کا ڈالروں کے بوجھ میںدبے ہوئے عوام کیلئے مژدہ جانفزا ہی کہا جائیگا کہ سعودی عرب کا ایک اعلیٰ سطحی وفد اگلے ماہ پاکستان کا دورہ کریگا اور وہ وفداپنے دورے کے دوران پاکستان میں 14 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کریگا۔ حقیقت یہ ہے کہ سعودی عرب کی طرف سے اتنی بھاری رقوم کی سرمایہ کاری کوئی معمولی بات نہیںہوگی۔ اگرچہ اس سے قبل بھی سعودی عرب کے ارباب اقتدار کی طرف سے بعض اہم ’’تاریخی نوعیت‘‘ کے معاملات کی روشنی میں پاکستان کی امداد کی جاتی رہی ہے مگر کچھ ایسے بھی معاملات تھے جن میں پاکستان کے مخصوص مفادات کی علامت چند افراد کا مفاد وابستہ تھا۔ اب یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان کا ایک برادر اسلامی ملک پاکستان اور اسکے بے نوا عوام کی بہتری اور اسے ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں تعاون کیلئے اتنی بھاری رقوم کی سرمایہ کاری کریگا۔یہ بھی شاہ محمود قریشی ہی کی زبانی قوم نے سنا ہے کہ وزیراعظم عمران کے گزشتہ دنوں دورۂ قطر کے دوران یہ بھی طے پایا ہے کہ برادر اسلامی ملک قطر نے اجناس کی خرید کے سلسلے میں اپنی سوچ میں تبدیلی کر لی ہے اور اب قطر اپنی اجناس کی ضروریات پوری کرنے کیلئے اپنے اسلامی برادر ملک پاکستان سے رجوع کریگا۔ پاکستان کے معروضی حالات اور عالمی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں میں پاکستان کی معیشت کو سہارا دیکر اپنے پائوں پرکھڑا کرنے کی جس قدر ضرورت ہے ‘ مقام شکر ہے کہ ملک کی موجودہ برسراقتدار کو نے اس کا پورا پورا ادراک ہے ۔ اگرچہ جن ارباب اختیار کے ہاتھوں میں زمام اقتدار ہے ‘ انہیں اسی میدان میں سرگرم عمل ہونے کا کوئی تجربہ نہیں۔ البتہ وہ سبھی اپنے ایک الگ اور انوکھے پروگرام کا نغمہ الاپتے ہوئے اس مقام رفیع سے ہمکنار ہوتے ہیں کہ ایسے میں کسی نعمت غیر مترقبہ کے مل جانے پر بڑے بڑوں کے اوسان محض اس لئے خطا ہونے لازمی امر ہے کہ وہ اپنے عزائم کی بیل کیسے منڈھے چڑھائیں گے مگر شاید مشیت ایزدی کو یہی منظور تھا کہ اس نے اسی خطے میں قیام امن کی کوششوں کی کامیابی بھی ان کا مقدر کر دی۔ اسی عہد میں قریباً نصف صدی سے ایک عظیم برادر اسلامی ملک افغانستان اور اردگرد کے وسیع و عریض علاقوں کو زیر و زبر کرنے والی خونی بدامنی سے نجات دلانے کا سہرا بھی پاکستان کے سر بندھا۔ پاکستان نے بجا طورپر افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں ایک سہولت کار کا کردار ادا کیا ہے اور ملک کی مایہ ناز عسکری قیادت کی وساطت سے ارباب اقتدار کی کامیاب حکمت عملی کے باعث طالبان کو مذاکرات کی میز پر بٹھا دیا۔ اس کامیاب حکمت عملی کے نتیجے میں پاکستان کی طرف سے قیام امن اور دہشت گردی کو جڑ سے اکھیڑنے کی کامیاب کوششوں کا ذکر کئے بغیر مستقبل کا مورخ آزاد اور خودمختار اور پرامن افغانستان کی تاریخ کو مکمل نہیں کر سکے گا۔حقیقت کچھ اس طرح ہے کہ بغض اور کینے سے مبرا سوچ و فکر کے حامل حلقے برملا طورپر یہ اعتراف کئے بغیر نہیں رہ سکتے کہ مغربی ممالک اور پاکستان کے عوام دشمن عزائم رکھنے والی عالمی قوتوں کو خاک میں ملانے کیلئے عالمی مالیاتی اداروں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کی بجائے برادر اسلامی ممالک سے دست تعاون کیلئے رجوع کیا گیا۔ خبث باطن رکھنے والے خواہ اسے بھیک کا عنوان دیں یا یہ راہ اختیار کرنیوالوں کو بھکاری کا نام دیں مگر اس حقیقت سے انکار کرنا حقائق کا منہ چڑانے کے مترادف ہے کہ پاکستان نے سچے اور کھرے دوست ممالک سے رجوع کرکے انکی مدد و تعاون سے ملکی معیشت کو صحیح سمت کی طرف گامزن کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے ۔ایسے حالات میں اس حقیقت سے صرف نظر کرنا ممکن نہیں کہ اس وطن کو پانی کے سنگین اور خطرناک نتائج کے حامل بحران کا سامنا ہے ۔ بلاشبہ اس کے حل کے راستے کی نشاندہی عدالت عظمیٰ کے بالغ نظر اور قومی درد سے لبریز فاضل چیف جسٹس کی طرف سے کر دی گئی جس پر رواں دواں ہونے میں برسراقتدار سیاسی قیادت نے کوئی عار محسوس نہیں کی۔
نہ صرف پوری پاکستانی قوم بلکہ کرۂ ارض کے چپے چپے پر پھیلے پاکستانیوں نے اس راستے پر چلنے کا عہد کر لیا ہے ۔ یہ معاملہ خود ارباب اقتدار کیلئے بھی ایک چیلنج کی حیثیت اختیار کر چکا ہے اور جس رفتار سے اس حوالے سے پاکستان سرگرم عمل ہے ‘ یقین سے یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ ملک سے پانی کے مسئلہ کے حل میں دیر سے اندھیر نہیں ہے کیونکہ ملک کی فیصلہ کن قوتیں بھی اس نازک ترین مسئلہ کے حل میں عوام کے دوش بدوش ہیں۔