باپ کبھی نہیں مرتے ۔۔۔

January 25, 2019 3:01 pm

مصنف - روبینہ فیصل

میری پہلی ملاقات شبنم رومانی سے ان کے فوت ہونے کے بعد ہو ئی، ڈریں مت!! میں روحوں سے ملاقات کی ماہر نہیں مگر مجھے کبھی کبھار زندوں میں، چلے جانے والوں کی شبیہہ دکھتی ہے ۔ ایسا ہی ہوا جب میں پہلی بار فیصل عظیم سے ملی تو جو گہرائی اورتدبر مجھے اس میں نظر آیا وہ متاع تو شائد اس کا تھا ہی نہیں ، اپنے ابا کا عکس اٹھائے اٹھائے پھرتا تھا۔ خود فیصل عظیم سے ملاقات تو پہلی ملاقات کے بہت سالوں بعد کہیں جا کر ہو ئی، بہت عرصہ تو مجھ سے شبنم رومانی ہی ملتے رہے جن کا اصلی نام مرزا احمد بیگ چغتائی ہے ۔ وہ 30دسمبر 1928 کو شاہ جہاں پور ، یو پی میں پیدا ہو ئے اور 17 فروری 2009 کواس جہاں سے چلے گئے تھے ۔میرا ایک کالم ہے ، مائیں کبھی نہیں مرتیں، کیونکہ وہ اپنی بیٹیوں میں زندہ رہتی ہیں، یہی بات کچھ باپوں پر بھی سچ ثابت ہو تی ہے کہ وہ مرکر بھی اپنے بیٹوں میں اپنے پورے پدرانہ ورثہ کے ساتھ زندہ رہتے ہیں۔
2012 میں فیصل عظیم نے اپنا شعری مجموعہ” میری آنکھوں سے دیکھو ” اپنے ابو کے ” دوسرا ہمالہ” کے ساتھ پیش کیا تو میں نے ہینڈ سم فیصل عظیم کو دیکھ کر بڑے روایتی انداز سے سوچا، چلو جی سیاست اور شوبز کی طرح ادب میں بھی وراثت چلے گی، جو شوبز میں راج کر سکتا تھا وہ بھی ابو کی وجہ سے شاعر بنیں گے ۔۔ مگر جیسے جیسے فیصل عظیم کی شاعری پڑھتی گئی احساس ہوا کہ یہ جینز بھی کبھی کبھار ٹھیک ٹھاک ٹرانسفر ہو جاتی ہیں۔ چہرے پر چھائی سنجیدگی نے تھوڑی اور گواہی دے دی اور پھرایک اور حیرت کا سامنا ہوا جب پتہ چلا کہ اس کا حس مزاح ہر جائز اور فطری ادبی انسان کی طرح کمال عروج پر ہے ، یہ دھوکہ بھی بالکل اپنے ابو جیسا ہی دیا۔ جب تک میں شبنم رومانی کی تصویر اور سنجیدہ شاعری سے متعارف رہی، انہیں ایک انتہائی سنجیدہ انسان ہی سمجھتی رہی پھر ان کا ایک شعر نظر سے گزرا :
ہنس رہا ہوں آجکل بیٹھا ہوا
کاغذوں کے اک بڑے انبار پر
ہممم۔۔۔ تو وہ ہنستے بھی تھے ۔ جاننے کی تمنا ہو ئی کہ وہ کس بات پر ہنستے تھے ۔ فیصل عظیم نے میری بات کا جواب دینے کی بجائے ان کی کتاب کا نایاب اور واحد نسخہ مجھے اس تاکید کے ساتھ کہ روبی !! پڑھ کر جلد واپس کر دینا۔۔ اور میں جانتی ہوں کہ جب تک کتاب میرے پاس رہے گی اس کا دل ہولتا رہے گا۔ کہ میں جانتی ہی نہیں تھی کہ شبنم رومانی کے فکاہیہ کالم مشرق اخبار کراچی میں باقاعدگی سے چھپتے تھے ۔ طنزیہ مزاحیہ کالموں کی کتاب” ہائیڈ پارک” کو پڑھ کر ایک اور ہی شبنم رومانی سے ملاقات ہوئی۔ انشائ جی کے فکاہی کالموں کے بعد اگر کسی تحریر نے میرے ہو نٹوں پر ہنسی کے پھول کھلائے تو وہ شبنم رومانی کے کالم تھے ۔ ستیہ پال آنند نے بجا کہا تھاکہ شبنم رومانی ایک امییجیسٹ شاعرہیں۔
آخری لمحہ
یاد اب گریزاں ہے
چیختے علائم سے
زیست کی مشقت سے
آنسوؤں سے
حسرت سے
آفت و اذیت سے
جد و جہد کی لت سے
درد سر کی شدت سے
مجھ کو چکر آتا ہے
یہ میری کہانی ہے
میری زندگانی ہے
کوئی ایسی دلدوز شاعری بھی کرے اور طنز و مزاح بھی لکھے ۔۔ ہے نا کمال؟
شبنم رومانی کی شاعری اور کالموں پر بہت بات ہو ئی ہو گی مگر میں ان کے اس خاندانی پن اور بے لوث خلوص کا ذکر کرنا ضروری سمجھتی ہوں جو لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہو گااور اس پر بات کرنا اس لئے ضروری ہے کہ نایاب چیزوں پر بات ہونی چاہیئے ۔ میں نے فیصل عظیم میں جو بردباری ، وقار اور وطن سے محبت کا اک جذبہ دیکھا ہے اس کا سہرا یقیناًشبنم رومانی اور ان کی بیگم کی ان جینز کو اور اس تر بیت کوجاتا ہے جوفیصل میں منتقل ہو ئیں۔۔۔ حال ہی میں ایک دوست کی جس طرح اس نے خاموشی اور عزت سے مدد کی میں اس بات پر قائل ہو گئی کہ انسانیت پروری، بردباری اورتہذیب ، اگر یہ اصلی اور پکے رنگ ہوں تو کئی نسلوں تک چلتے ہیں۔ فیصل عظیم نے نہ صرف اپنے ابو کے ادبی ورثہ کو آگے بڑھا یا ہے بلکہ ان اخلاقی اقدار اور انسانی محبت کو بھی اسی طر ح تھامے رکھا ہے جو گذشتہ نسل کی ہی میراث تھا۔۔ فیصل عظیم اس میراث کا بڑا سچا امین ہے اس لئے اب شبنم رومانی کے اس سوال کا جواب میرے پاس ہے :
میرے سنگِ تربت پر
درج ہو گی اے یارو !!
میری موت کی تاریخ
پر لکھے گا کون ا س پر
میری آخری ہچکی
میرا آخری لمحہ ؟
آپ کا آخری لمحہ رہتی دنیا تک کبھی نہیں آئے گا۔۔ کیونکہ آپ کی حیات آب حیات پی کر آپ کی نسل میں ہمیشہ دوڑتی رہے گی۔ آپ جاوداں رہیں گے ۔ پکے رنگ آسانی سے نہیں چھٹتے اورسچے باپ مر کر بھی نہیں مرتے ۔