عوام کی لیڈر : شہید بے نظیر بھٹو کی یاد میں

December 28, 2018 3:30 pm

مصنف - سینیٹر رحمن ملک

27 دسمبر کا سورج ہر سال طلوع ہوتا رہے گا۔ زندگی اسی طرح رواں دواں رہے گی۔مگر بلاول‘ بختاور‘ آصفہ اور سابق صدر زرداری اور ہم کارکن اپنی لیڈر کو اب کبھی دیکھ نہیں پائیں گے ۔ 17 اکتوبر کا دن اور علی الصبح کا وقت تھا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو دوبئی میں اپنے گھر کے بیرونی لائونج میں بختاور اور آصفہ کو الوداعی پیار کر اور چوم رہی تھیں۔ اس کے بعد وہ اٹھیں‘ بچوں کو سینے سے لگا کر پیار کیا اور باوقار انداز میںچلتی ہوئی کار میں بیٹھ گئیں۔ میں پچھلی نشست پر ان کے بائیں جانب بیٹھ گیا۔ انہوں نے کار کا شیشہ نیچے کیا اور سڑک کے بائیں طرف آنے تک ہاتھ لہراتی رہیں۔
جولائی 2007ئ میں لندن میں میرے گھر پی پی پی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ جہاں محترمہ نے رکاوٹوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے واپس پاکستان جانے کا فیصلہ کیا اور طے ہوا کہ یہ واپسی ستمبر کی کسی تاریخ کو ہوگی۔ پی پی پی کی قیادت سمیت ہر کسی نے انہیں متنبہ کیا کہ (پاکستان جا کر) انکی زندگی کو خطرات لاحق رہیں گے ۔ علاوہ ازیں سکیورٹی مسائل بھی پیدا ہوں گے ۔ لیکن بی بی شہید بلاخوف و خطر اپنے فیصلے پر ڈٹی رہیں۔ حالانکہ یہ واضح تھا کہ واپسی کی صورت میں ان کی زندگی سخت خطرے میں رہے گی۔ لیکن انہیں یقین تھا کہ جنرل مشرف انہیں پاکستان سے دور رکھنے کیلئے خطرات کے ڈراوے دے رہا ہے ۔ اسے ڈر تھا کہ پی پی پی انتخابات جیت جائے گی اور اس کے اقتدار کا سورج غروب ہو جائے گا۔ شہید محترمہ نے اپنی واپسی کیلئے 14 ستمبر کی تاریخ کا اعلان کردیا۔ اس اعلان نے جنرل مشرف اور انکے ساتھی سیاستدانوں کی نیندیں حرام کردیں۔ جو برابر ڈرا رہے تھے کہ انتخابی مہم کے دوران مرحومہ کی زندگی خطرے میں رہے گی۔ انہوں نے محترمہ کو کئی ترغیبات پیش کیں۔ حتی کہ شرکت اقتدار کی پیش کش کی لیکن بی بی شہید نے ہر پیشکش ٹھکرا دی۔ اقبال زیڈ احمد، مشرف کے ایک انتہائی قریبی جرنیل کے ہمراہ محترمہ سے ملے اور انہیں سینٹ کے چیئرپرسن کے عہدے کی پیش کش کی جس سے میری اور بعض دوسروں کی موجودگی میں انکار کردیا گیا۔
شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے وطن واپسی کی راہ روکنے کی جنرل مشرف کی ہرکوشش ناکام بنا دی۔ محترمہ تمام خطرات اور سکیورٹی کی خدشات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے 18 اکتوبر 2007ئ کو دوبئی سے کراچی پہنچ گئیں۔ جبکہ ان کے بچے دوبئی میں ہی رہے ۔ کراچی ایئرپورٹ پر استقبال کیلئے عوام کا جم غفیر موجود تھا۔ عوام کے اتنے بڑے اجتماع نے مرحومہ کے حوصلوں کو مزید بڑھا دیا۔ سرزمین وطن پر قدم رکھتے ہی مزار قائد پر حاضری دی اور عوام کے ٹھاٹھے مارتے سمندر سے خطاب کیا۔ اگرچہ دوبئی میں پارٹی کے ایک اجلاس میں شہید محترمہ کی اطمینان بخش سکیورٹی کا فیصلہ ہوا اور اس ضمن میں پارٹی کے سینئر ارکان پرمشتمل خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی تھی تاہم کیبنٹ ڈویژن کے ایک نوٹیفکیشن کے مطابق بحیثیت سابق وزیراعظم شہید محترمہ کی حفاظت کی مکمل ذمہ داری حکومت کی قرار دی گئی۔ اور اس حوالے سے یہ ذمہ داری ایس ایس پی میجر âرá امتیاز حسین کو سونپ دی گئی۔ اس طرح جانی حفاظت، سڑکوں، تمام تقریبات اور جلسوں کے تحفظ کی ذمہ داری مجھ سمیت پی پی پی کے لیڈروں سے مکمل طور پر حکومت کو منتقل ہو گئی۔
پارٹی نے 18 اکتوبر کو ایک بہت بڑے جلوس کا اہتمام کیا۔ جس کی سکیورٹی کیلئے پولیس کے علاوہ پیپلز پارٹی کے ’’جانثاروں‘‘ کو بھی متعین کیا گیا۔ تمام تر حفاظتی اقدامات کے باوجود کار ساز کراچی کے قریب محترمہ کے آرمرڈ ٹرک کے قریب جس پر وہ سوار تھیں یکے بعد دیگر دو طاقتور دھماکے ہوئے ۔ 149 افراد جاں بحق اور 402 زخمی ہوئے ۔ اس خوفناک حملے میں محترمہ شہید کا بچ جانا معجزے سے کم نہیں تھا۔ جلوس کے دوران ہی دھماکوں سے پہلے بھی قاتلانہ حملہ کی کوشش کی گئی۔ ایک بچے کو دھماکہ خیز مواد میں لپیٹ کر محترمہ کے قریب پہنچایا گیا لیکن خوش قسمتی سے اس لڑکے کے ہاتھ محترمہ کے ہاتھوں تک نہ پہنچ سکے ۔ ٹرک میں محترمہ کے ہمراہ میرے علاوہ‘ راجہ پرویز اشرف‘ اعتزاز احسن‘ کرسٹینا لیمب اور بہت سے دوسرے حملے کی زد میں آئے تھے ۔ میرے بال جھلس گئے اور راجہ پرویز اشرف کے کپڑوں میں آگ لگ گئی۔ اگرچہ ہم بچ گئے لیکن کئی قیمتی کارکن داغ مفارقت دے گئے ۔ جنہوں نے اپنی محبوب لیڈر کی حفاظت کیلئے انسانی ڈھال بنائی ہوئی تھی۔ محترمہ نے اس سانحہ کی شکایت درج کرانے کی کوشش کی لیکن پولیس نے کیس رجسٹر کرنے سے انکار کردیا۔ پھر جن دہشت گردوں پر شبہ تھا انہیں شہادت کی کمزوری کے باعث چھوڑ دیا گیا۔ پی پی کی حکومت اقتدار میں آئی تو ڈی ایس پی کراچی نواز رانجھا نے اس کی تفتیش کا بڑی جانفشانی سے آغاز کیا۔ وہ تقریباً حملہ آوروں کے قریب پہنچ چکے تھے کہ پراسرار طور پر قتل کر دیئے گئے ۔
محترمہ نے اپنی انتخابی مہم بدستور قومی جوش و جذبے کے ساتھ جاری رکھی اور لاکھوں کے اجتماعات سے خطاب جاری رہا۔ 26 دسمبر کو ہم نے پشاور میں بہت بڑے جلسہ عام سے خطاب کیا۔ اسلام آباد واپسی موٹر وے سے ہوئی۔ مرحومہ کو چپل کباب بہت پسند تھے ۔ انہوں نے راستے میں مجھ سے چپل کبابوں کی فرمائش کی۔
مجھے یاد ہے کہ ناہید خان ان کی دائیں اور میں انکی بائیں جانب بیٹھا تھا۔ محترمہ نے چپل کباب کا اپنے ہاتھوں سے بریڈ رول بنایا، پہلے مجھے اور پھر ناہید خان کو دیا اور آخری خود لیا۔ ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اگلی شام وہ اس دنیا میں نہیں ہوں گی۔ 27 دسمبر کو شام کی تاریکی چھا رہی تھی کہ ظالموں نے محترمہ کو شہید کردیا۔ قوم غم و اندوہ کے سمندر میں ڈوب گئی۔ یہ ظالم، دہشت گرد اور قاتل محترمہ جیسے لیڈر کے ہاتھوں پاکستان کو ترقی کرتا نہیں دیکھ سکتے تھے ۔
محترمہ شہید نے 27 دسمبر کی شام لیاقت باغ راولپنڈی میں جلسہ عام سے خطاب کرنا تھا۔ قبل ازیں وزارت داخلہ کی طرف سے دہشت گردی کے خطرے کی بار بار وارننگ جاری کی گئی لیکن وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور سکیورٹی کے اداروں نے انہیں سنجیدگی سے نہ لیا اور فول پروف سکیورٹی کے انتظامات نہ ہو سکے ۔ محترمہ کامیاب جلسہ کے بعد جلسہ گاہ سے نکل رہی تھیں کہ خود کش حملہ ہو گیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انہیں کس نے قتل کیا‘ کس نے سازش کی‘ کون تھے وہ جنہوں نے اس سازش کو عملی جامہ پہنایا اورکون تھے وہ جنہوں نے سہولت کاری کا کردار ادا کیا۔ پولیس نے حکومت کی ہدایت کے تحت جائے حادثہ کو وقوعہ کے 80 منٹ کے بعد ہی صاف کردیا۔ یوں مضبوط شہادت تلف ہو گئی بلکہ کر دی گئی۔ محترمہ کی شہادت کے ساتھ ہی پاکستانی سیاست کا سنہرا باب ہمیشہ کیلئے بند ہوگیا۔ لیکن ان کی وراثت کو کوئی موت نہ دے سکا۔
اس وقت کی وفاقی حکومت نے برطانیہ سے سکاٹ لینڈ یارڈ پولیس کی ٹیم کو المیہ کی تحقیقات و تفتیش کی دعوت تو دی لیکن ان کا دائرہ تفتیش محدود کر دیا گیا۔ انہیں صرف موت کے اسباب کا تعین کرنا تھا۔ اگرچہ ٹیم کی تحقیقات کا نتیجہ یہ تھا کہ محترمہ کی وفات گولی لگنے سے نہیں ہوئی۔ لیکن یہ تفتیش کسی طرح بھی کارآمد نہیں تھی۔ پنجاب حکومت نے بھی انکوائری کمیٹی تشکیل دی‘ جس نے صرف یہ کام کیا کہ مقامی انتظامیہ اور جائے وقوعہ صاف کرنیوالے پولیس افسروں کو کلین چٹ دیدی۔

پی پی پی کی حکومت کی درخواست پر اقوام متحدہ نے محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کیلئے ایک کمشن تشکیل دیا۔ اس نے پہلی جے آئی ٹی کی کوتاہیوں کا خاص طور پر ذکر کیا۔ کمشن کے ریمارکس تھے کہ تفتیشی اداروں میں جہت اور جذبے کا فقدان تھا۔ کراچی اور راولپنڈی کے حملوں میں تعلق ہونے کے باوجود دونوں کیسوں کے تفتیش کاروں کے درمیان کوئی رابطے نہیں تھے ‘ جو کہ ضروری تھے ۔