خوراک کو ضائع مت کریں

December 28, 2018 3:28 pm

مصنف - تحریر:علی جان

آج کے اس دورمیں ہرکوئی خود کو سچا مسلمان کہلوانے کیلئے تیار رہتا ہے چاہے اندر مسلمانوں والی کوئی بات نہ ہو میں نے اسلامی تہواروں پر خوراک کی بے حرمتی دیکھی تو دل بھرآیا حالانکہ کھانے کی کوئی چیز نیچے گرجائے تو ہم اسے کھالیں تو سنت ادا ہوجاتی ہے مگر ہم اس بات کو اب شاید حقیرسمجھنے لگے ہیںکرسمس ہو،میلاد کی محفل ہو،لنگرامام حسین ہوہم صرف اپنی عزت اور ناک اونچی کرنا جانتے ہیں ناکہ ثواب کی نیت سے عبادت کریں ۔محرم الحرام میں تمام مسلمان آل نبی کے غم میں ڈوبے رہتے ہیں اورصفرمیں بھی آل نبی کے چراغ امام حسن کی وفات کا مہینہ ہے جیسے یہ دونوں مہینے گزرتے ہیں سال کا تیسرامہینہ ربیع الاول کا مہینہ آقا ö کے دیوانوں اورپروانوں کا مہینہ ہے جسے آقا دوجہاں ö کے دیوانے عید کی طرح مناتے ہیں فرق صرف اتنا ہے اس دن عیدنماز نہیں پڑھائی جاتی باقی خوشی ،عید کی مبارکباد،میلاد کی جھنڈیاں،نعت قوالی کے محافل،دورود سلام اورآج کل آقا ö کی سالگرہ منانے کی نسبت سے کیک کاٹنے کی ریت بھی چل پڑی ہے جسے کئی منافقین ناپسندکرتے ہیں اورطرح طرح کے فتوے جڑدیتے ہیں جیسے ہی میلاد کامہینہ آتا ہے بازارایک دلہن کے سیج کی طرح سج جاتی ہیں ہرطرف ایسے لگتا ہے جیسے آج کسی کی بارات آنی ہے جیسے میلاد کا مہینہ شروع ہوتا ہے میلاد کمیٹیوں کی میٹنگز شروع ہوجاتی ہیں اورجو کمی کوتاہی پچھلے سال ہوتی ہے اسے دور کرنے کیلئے اقدامات وانتظامات کرنے کی پلاننگ کی جاتی ہے اورہرسال سے بہترسے بہترمیلاد منانے کی کوششیں کی جاتی ہیں اورمحافل وجلسے جلوسوں کااہتمام کیاجاتا ہے جب ہم بچے تھے توہمارے علاقے میں ایک دوجگہ سے جلوس نکلتے تھے مگراب ہمارے علاقے میں ایک دوجگہ سے جلوس کے منکرین بستے ہیں باقی ساراشہرجلوس وریلیاں نکالتے ہیں 12ربیع الاول کے دن مرکزی میلاد جلوس میں لوگ ٹریکٹر ٹرالیوں، بسیں،ٹرک ،کاریں ،ویگنیں،بیل گاڑی، گدھا گاڑی،موٹرسائیکل اورپیدل ہزاروں افراددورود سلام پڑھتے نئے کپڑے پہنے شریک ہوتے ہیں اوریہ سماں دیکھنے والا ہوتا ہے اب ذرامیں حال حوال بتائوں اپنے علاقے کا توسبائے والا،جھگی والا،عنائت شاہ بھٹیاں،ڈینے والا،پھلن شریف، بستی لسکانی،بستی اللہ بخش،موچی والا،آرائیں والا، بستی مرکنڈ،گرڈ چوک،بستی کھرل،بستی کنیرہ، جتوئی سٹی وغیرہ میں محفل میلاد توویسے ساراسال رہتے ہیں مگراس ماہ میں آقا کے دیوانوں کے دل کی حالت کچھ کمال سی ہوتی ہے اوران محافل کی تعداد توبڑھتی ہے اس کے ساتھ ہی سننے والوں کی تعداد اورجذبہ میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے میں نے ایک محفل میں شرکت کی نہ مجھے کسی نے کہا نہ کوئی پیغام ملا ایسے ہی پہنچ گیا نعت خواں تو ایسے کہہ ان کے ہاتھ چومنے کودل کرے اورمیں جس نقیب محفل کوسننے کوترستا تھا وہی نقابت کررہے تھے میں سوچ میں پڑگیا کہ اللہ پاک اتنا سریلاگلا اورایسے الفاظ کا چنائو کیسے دیا اس نقیب محفل کا نام ’’سئیں عدنان فداسعیدی‘‘تھاکئی دوستوں نے ان کی تعریف کی تومجھے وہاں قسمت لے گئی میں جوکام جارہا تھا وہ کام چھوڑکرمحفل سنی دل کوسکون بھی ملا اوراس عظیم شخص کی نقابت بھی سنی اورنعتیں سنتے رہے دورود سلام پڑھتے رہے۔کچھ لوگ یہ سوچتے ہیں کہ ہرسال میلاد میں لوگ زیادہ ہورہے ہیں اس کی کیاوجہ ہے ؟ان لوگوں کومیں قرآن پاک سے جواب دیتاچلوں کہ اللہ پاک فرماتے ہیں اے پیارے نبی ہم نے آپ ö کا ذکرآپ کیلئے بلندفرمادیا جب اللہ پاک نے نبی کریم ö کا ذکرخود بلندکرنا ہے توکسی کی کیا مجال وہ کم کرسکیں ہماراایمان ہے کہ آخرت تک کیا آخرت کے بعد تک بھی آپ کا ہی نام چلے گا ۔میں یہ جولکھ رہاہوں اس کیلئے پہلے معذرت کررہاہوں ہرسال عیدمیلادالنبی مناتے ہیں ضرورمنائیں مگرہمیں اس چیزکاخیال رکھناچاہیے کہ ہم شریعت کے مطابق تواپنارہے ہیں ہم میلاد منانے کیلئے غلط طریقہ تونہیں اپنارہے مجھے کئی میرے دوستوں نے کہا کہ یارہم فلاں نعت خواں سننے کے خواہش مندہیں کیونکہ اللہ پاک نے اسے گلا اتناہی سریلا دیا ہے مگراس نے اپنے گلے کاریٹ ہی ایسالگا رکھاہوتا ہے کہ اس کی سریلی آواز پیسوں کے نیچے سے نکل ہی نہیں سکتی مگراس کے برعکس کوئی نعت خواں محفل میں آجائے تواسے نعت تک نہیں پڑھنے دیتے کہ اتنا ٹائم نہیں ہے بھئی آئے آپ آقاö کی محفل میں توٹائم کو کیوں دیکھتے ہو اسی لیے جونعت خواں خودآجائے تواس کی قدرنہیں کرتے جوپیسوں کے ڈبے بھرکے لے انکی قدربھی کرتے ہیں اورکہتے ہیں سروربھی ملا ۔آج کل کی محافل میں جسمانی لنگرتوشاید سب میں برابراتقسیم ہوتاہوگامگرروحانی لنگربرابرتقسیم نہیں ہوتاکیونکہ کئی نعت خوانوں کے دل دکھائے جاتے ہیں اوروہ نعت سنانے کیلئے بے تاب رہتے ہیں مگرانکومائیک تک نہیں پہنچنے دیتے حالانکہ انتظامیہ کویہ یادرکھنا چاہیے کہ آپ ö کے درسے کوئی بھی آج تک خالی نہیں گیاآپ ö کوئی بھی چیزتقسیم کراتے توبچوں کوپہلے دینے کاحکم فرماتے مگرآپ ö کی میلاد کی محفلوں میں دیکھنے کوملتاہے کہ یاتولنگرکے وقت بچوں کوباہرنکال دیاجاتا ہے یا سب سے آخرمیں بچاہواکھانابچوں کو دیا جاتا ہے مگروہ نادان پھربھی خوش ہوکرکھا جاتے ہیںکچھ محافل رات گئے رکھی جاتی ہیں جس میں اکثرلوگ نماز فجرتک اتنے تھک جاتے ہیں کہ سوجاتے ہیں اورانکی نماز رہ جاتی ہے حالانکہ نماز فرض ہے اوراس کا گناہ انتظام کرنے والے پرہی ہے میلاد جلسہ میں لوگ کھانے پینے کی چیزیں ایسے پھینک رہے ہوتے ہیں کہ وہ لوگوں کے منہ کانوالہ بننے کے بجائے پیروں میں کچلاجاتا ہے جسکایقیناثواب تونہیں ملتاہوگا۔محفل میلاد کرنے والے ان باتوں پرضرورغورکریں تاکہ آقاö کوخوش کرنے کی ہماری کوشش ناکام نہ ہو۔ 12 ربیع الاول عیدمیلادالنبی ہے اسی لیے ہمیں اسے عیدکی طرح مناناچاہیے اورمستحق لوگوں میں راشن وغیرہ بھجواکرانہیں بھی عیدمیلاد النبی ö سے آگاہ کرنابھی ہمارافرض ہے اورہم کسی پیارے کی برتھ ڈے پر جائیں تواس کے مطابق تحفہ لے جاتے ہیں تومیلاد جلوسوں میں ہمیں باتوں اورگپ شپ کے بجائے دورودوسلام پڑھتے رہناچاہیے تاکہ جس مقصدکیلئے آقادوجہاں حضرت محمدö کوخوش کرسکیں ناکہ عیاشی وپارٹیاں کرکے مزیدگناہوں میں اضافہ کریں۔

جیسے آج کل مزاروں پرنشائیوں نے اڈے بنارکھے ہیں اوربنا وضو کے ایک ہاتھ میں ہاتھ میںچرس والا سگریٹ ہوتاہے اوردوسرے ہاتھ میں وہ کپڑاجس پرکلمہ شریف لکھاہوتا ہے جسے انتظامیہ دیکھ کران دیکھاکررہی ہے ۔آخرمیں میں اپنے ان مسلمان بھائیوں سے درخواست کرنا چاہتاہوں جو سوشل میڈیا پر یہ پیغام دے رہے ہوتے ہیں کہ جس نے ربیع الاول کے مہینے کی خوشخبری دی اس پرجنت واجب ہے اورجس نے میسج آگے فاروڈ نہ کیا وہ بدنصیب ہوگا کیا ہمارا ایمان اتنا کمزورہے جوایک میسج بھیجنے سے ہماری قسمت اچھی یابری ہوسکتی ہے خدارایہ مغربی پروپگینڈے چھوڑکراس مہینے میں زیادہ سے زیادہ دورودسلام پڑھنا چاہیے ۔