ہمارے بعد اندھیرا نہیں اجالا ہے

December 28, 2018 3:27 pm

مصنف - جی۔این بھٹ

دسمبر کا ماہ پاکستان کی تاریخ میں سقوط مشرقی پاکستان کے دلفگار واقعہ‘ پشاور آرمی سکول کے المناک سانحہ اور 27 دسمبر کو بینظیربھٹو کی شہادت جیسے المناک واقعات کے حوالے سے ہمیشہ ’’ستمگر دسمبر ‘‘ کے طورپر یاد رکھا جائے گا۔ 27 دسمبر 2007ئ کو اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم پیپلزپارٹی کی چیئرپرسن اور پاکستان کی سابق وزیراعظم بینظیربھٹو کا یوم شہادت ہے ۔ سابق صدر مشرف کے دور میں اپوزیشن کی سب سے بڑی طاقت اور مؤثر آواز بینظیربھٹو کی تھی جو جلاوطنی کے بعد اکتوبر 2007ئ میںوطن واپس پہنچی تھیں۔ انہیں پاکستان واپسی سے بہت سے لوگوں نے منع کیا اور واضح کیا کہ وہاں ان کی جان کو خطرہ ہے ۔ اس وقت ملک میں ایک طرف پرویز مشرف کی مارشل لائی آمریت پنجے گاڑے بیٹھی تھی تو دوسری طرف مذہبی انتہاپسند دہشت گردوں نے شمالی سرحدی علاقوں میں طوفان برپا کر رکھا تھا۔ سوات جیسے سیاحتی مقام میں بھی ان کی عملداری قائم ہو چکی تھی۔ ان حالات میں بینظیربھٹو کو بھی دھمکیاں ملتی رہیں کہ وہ انتہاپسندوں اور مذہبی دہشت گردوں کیخلاف بیانات سے پرہیز کریں۔ مشرف حکومت بھی انکے جوشیلے بیانات اورمارشل لائ کیخلاف سیاسی جدوجہد سے خائف تھی۔ اس طرح ہر دو محاذ پر بینظیربھٹو کی زندگی خطرات سے دوچار تھی۔ اسکے باوجود محترمہ نے وطن واپسی کی ٹھان لی اور 18 اکتوبر کو وطن واپس لوٹیں۔ کراچی ایئرپورٹ پر لاکھوں افراد انکے استقبال کیلئے موجود تھے ۔ اس شام انکے جلوس کے راستے میں ان کے کنٹینر کو بم سے اڑانے کی سازش کی گئی مگر خوش قسمتی سے وہ محفوظ رہیں مگر انکے استقبال کیلئے آئے درجنوں افراد مارے گئے ۔ خوفناک دھماکے سے بھی انکے حوصلے پست نہیں ہوئے ۔ وہ ایک بہادر خاتون کی طرح مردانہ وار اپنے خطاب میں عوامی اجتماعات میں کھل کر مذہبی انتہاپسندوں اور مارشل لائ حکومت کیخلاف امن‘ عوامی طاقت اور جمہوریت کی علمبردار بن کر ایک چٹان بن کر ان دونوں عناصر کی راہ میںایستادہ رہیں۔ جب جمہوریت دشمن اور مذہبی انتہاپسندوں نے محسوس کیاکہ یہ توانا آواز انکی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے تو اسے ہٹانے کی ایک ایسی سازش رچائی گئی جس میں اندرون ملک اور بیرون ملک کے کئی مہرے استعمال ہوئے ۔ خود بینظیر بھٹو کے اردگرد کے قریبی لوگ بھی اس سازش کے مہرے بنے کیونکہ بینظیر کی موجودگی میں وہ لوگ اپنے وہ مقاصد قطعاً حاصل نہیںکر سکتے تھے ۔ انکے دلوں اور دماغوں میں کلبلا رہے تھے ۔ یوں اس سہ فریقی سازش سے ایک ایسا جان لیوا منصوبہ بنایا گیا جس نے پاکستان کی سیاسی تاریخ کے ایک ایسے المیہ کو جنم دیا جس کی کسک برسوں لوگوں کے دلوں کو تڑپاتی رہے گی۔ 27 دسمبر 2007ئ کو لاکھوں عوام کے دلوں کی دھڑکن بینظیر حقیقت میں کسی رانی یا شہزادی کا روپ دھارے لگ رہی تھیں۔ شاید پہلی مرتبہ کسی جلسے میں بینظیر نے پھولوں کے ہاروں کو اتارنے کی بجائے پہن کر خطاب کیا تھا۔ وہ نہایت پُرجوش اور خوش نظرآرہی تھیں۔ دیکھنے والے اس جلسے کی ویڈیو دیکھ کر آج بھی بینظیربھٹو کے چہرے کی تابانی محسوس کئے بنا نہیں رہ سکتے ۔ کسی کو کیا معلوم تھا کہ یہ شمع جمہوریت کی آخری تابانی ہے ۔ ایک جذباتی خطاب کے بعد جب بینظیر سٹیج سے اتریں تو بھی انکے گلے میں پھولوںکے ہار موجود تھے ۔ وہ والہانہ انداز میں جلسے کے سامعین کو دیکھ کر ہاتھ ہلاتی مسکراتی الوداع کہتے نظر آئیں۔ یوں لگ رہا تھا جیسے انہیں خود اپنے وداع ہونے کا احساس ہو چکا تھا۔ وہ اپنی آخری مسکراہٹیں اپنے عوام پر نثار کر رہی تھیں۔ انکی زندگی کا یہ آخری ایکٹ کسی مقبول عام رومی اساطیری ڈراموں کی طرح نہایت جاندار تھا۔ وہ ہنستے مسکراتے دلیرانہ انداز میں گاڑی تک آئیں اور پھر اسکے بعد وہ کس کے کہنے پر چھت کی کھڑکی سے باہر سر نکال کر عوام کے نعروں سے ہاتھ ہلا کر جواب دینے لگی۔ یہاں اس ڈرامہ کا آخری ایکٹ شروع ہوا اورسازشی منصوبے کے تحت قاتلوں نے فائر اور دھماکہ کر کے بے نظیر بھٹو کو جو غریب عوام اور کچلے ہوئے طبقات کے حقوق کی علمبردار تھیں کو عوام سے جدا کر دیا گیا۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ عوام نے دھماکے کے بعد بھی اپنی شہید بی بی رانی کو نہیں چھوڑا۔ ان کی گاڑی کے گرد جمع رہے مگر پیپلز پارٹی کے تمام رہنما جو اس وقت بی بی کے ساتھ تھے ۔ فائر کی آواز سنتے ہی یوں تتر بتر ہو گئے جس طرح سوکھے پتے ہوا کی زد میں آ کر بکھر جاتے ہیں۔ کئی نے تو محفوظ مقامات پر پہنچ کر دم لیا۔ یوں جیسے ہی جمہوریت کی یہ روشن شمع بجھی سارے سنہری پروں والے پروانے یوں غائب ہو گئے جیسے کبھی ساتھ تھے ہی نہیں۔ بے نظیر بھٹو اپنے والد ذوالفقار علی بھٹو کی طرح ایک ذہین سیاستدان ا ور عوام کی نبض شناس تھیں۔ ا نہوں نے بھی اپنے والد کی طرح ایک بڑے جاگیر دار خاندان میں آنکھ کھولی اور نہایت نازونعم میں پلی بڑھی ہوئیں۔ مگر جو مشکلات ، تکالیف ، اذیتیں اور صدمے انہیں پہلے اپنے والد کی پھانسی پھر اپنے جوان دو بھائیوں کی موت کی شکل میں اٹھانا پڑے ۔ ان کی نظیر نہیں ملتی۔ انہوں نے نہایت پامردی سے جنرل ضیائ الحق اور جنرل پرویز مشرف کے مارشل لائ میں اذیتوں اور قید کا سامنا کیا۔ جلا وطنی برداشت کی۔خندہ پیشانی سے تمام مشکلات کا مقابلہ کیا اور شہادت کے وقت بھی خندہ پیشانی کے ساتھ ایک ابدی مسکراہٹ لئے انہوں نے موت کو لبیک کہا ا ور دست قاتل کو شرمسار کر دیا۔ کیوں کہ وہ جانتی تھیں کہ انکے بعد اندھیر نہیں رہے گا اجالوں کا سفر جاری رہے گا۔ا یسے ہی لوگ قافلہ حریت کے علم بردار ہوتے ہیں ۔