قائداعظم: عزم و ہمت راست روی کا استعارہ

December 28, 2018 3:25 pm

مصنف - شوکت علی شاہ

خلیل جبران نے کہا تھا ’’ایک وہ ہیں جو دیتے ہیں اور دیکر خوش ہوتے ہیں یہ خوشی اُن کا انعام ہے ، دوسرے وہ ہیں جو دیتے نہیں اور دیکر ملول ہوتے ہیں۔ یہ رنج اُن کی سزا ہے معدودے چند ایسے بھی ہیں جو مسرت انبساط اور حُزن ملال کے جذبوں سے ماورا ہوتے ہیں۔ ان کی مثال تپتے ہوئے صحرا میں ایک شجر سایہ دار کی سی ہوتی ہے جسکی چھاؤں تلے تھکے ہارے مسافر پل دو پل سستاتے ہیں۔ قائداعظم ان طیّب ہستیوں کے سالار تھے ۔ یہ زندگی فانی ہے ۔
آدمی سکون سے ایام زیست گزار رہا ہوتا ہے کہ ایک دن وقت کا غلام شبستان وجود پر دستک دیتا ہے ۔ حکم حاکم آن پہنچتا ہے اور رختِ سفر باندھنا پڑتا ہے ، گویا جو آیا ہے اس نے ایک نہ ایک دن جانا بھی ہے لیکن اس آنے جانے میں بڑا فرق ہے ۔ ایک وہ ہیں جو آکر چلے جاتے ہیں پتہ ہی نہیں چلتا کہ آئے کب تھے اور کیسے رُخصت ہوئے ! جھونکا ہوا کا تھا آیا، نکل گیا بعض اپنے پیچھے ناخوشگوار یادیں چھوڑ جاتے ہیں لیکن کچھ لوگ جا کر بھی نہیں جاتے اُن کا نام، کام کارنامے سُنہری حروف میں لکھے جاتے ہیں اور اُن کی یاد کی خوشبو ہر گھڑی ہر لمحہ مشامِ جاں کو ترو تازہ رکھتی ہے ۔
زمانہ گزر جائے گا مکان اور مکین تبدیل ہو جائیں گے ۔ تاریخ کا سیل رواں جاری و ساری رہے گا۔ لیکن یہ ممنون و مشکور قوم اپنے قائد اپنے محسن اور مُربی کو کبھی بھی نہیں بُھلا پائے گی۔ لوگ مُعجزوں کا ذکر کرتے ہیں۔ برصغیر میں اس سے بڑا اعجاز کیا ہو سکتا ہے کہ ایک شخص نے منتشر اور بکھری ہوئی قوم کو یکجا کیا۔ وحدت کی لڑی میں پرویا اور انگریز حاکم اور ہندو بنیے کا مردانہ وار مقابلہ کیا۔ اس میں کوئی ذاتی غرض نہ تھی کسی منفعت کا لالچ تھا نہ ہی نام و محور کی خواہش تھی صرف ایک مقصد تھا واضح نصب العین!
ایک خدا ایک رسول اور ایک کتاب کے ماننے والوں کے لئے ایک الگ ملک چاہئے جسکا نام پاکستان تجویز کیا گیا۔ خوش قسمتی سے علامہ اقبال کے روپ میں ایک ایسا مفکّر مل گیا جس نے اپنے افکار سے اپنے اشعار سے مسلم قوم کو عروج و زوال کے قصے سنائے تقدیر امم کا فلسفہ بیان کیا۔ شمشیر و سناں اوّل طاؤس ورباب آخر!
جناح ایک ممتاز قانون دان تھے یہ بات بلا خوف تروید کہی جا سکتی ہے کہ اس وقت برصغیر میں ان کے پائے کا کوئی وکیل نہ تھا۔ موتی لعل نہرو گاندھی اور دیگران اُن کے بالمقابل پیش ہونے سے تھے ۔ گو حق بات بروقت اور برملا کی سامراج پر کھل کر تنقید کی لیکن انگریز اور ہندو انہیں قانون کی گرفت میں نہ لا سکے ۔ وہ ایک وقت میں دو محاذوں پر لڑ رہے تھے ۔ بیرونی محاذ کے علاوہ کچھ گھر کے بھیدی بھی تھے ۔ مسلمان مخالفین گویہ کہنا تو شاید درست نہ ہو کہ وہ اپنی ہی قوم کے دشمن تھے مگر ان کی سوچ کے قافلے غلط راہوں پر گامزن تھے ؟ وہ اس غلط فہمی یا خوش فہمی میں مبتلا ہوگئے کہ آزادی کے بعد پرامن بقائے باہمی کے اصول کے تحت ہندو اور مسلمان خوشگوار زندگی گزار سکتے ہیں۔
کیا وجہ ہے کہ ہندوستان میں جمہوری روایات راسخ ہو گئی ہیں۔ ہمارے ہاں کئی تجربے نا کام ہو چکے ہیں۔ جمہوریت کے پودے کو پنپنے نہیں دیا گیا جبکہ ہمسایہ ملک میں تن آور درخت بن گیا ہے اس کی ایک وجہ تو قائد کی رحلت تھی۔ زندگی نے اُن سے وفا نہ کی جبکہ جواہر لعل نہرو ایک طویل عرصہ تک ہندوستان کا وزیراعظم رہا۔ دلیل دی جاتی ہے کہ اس کی بڑی وجہ آمریت تھی اس دلیل کو دُرست مان لیا جائے تو بھی اس کی بڑی وجہ ہمارے سیاست دانوں کی نا اہلی اقربا پروری، ذاتی مفادات اور منفی سوچ تھی۔ بد قسمتی سے آزادی کے فوراً بعد نفسانفی کا عالم، ہو گیا کچھ یوں گمان ہوتا تھا کہ آسمان سے ایک پنیر کا ٹکڑا گرا ہے جس پر چیلیںکوے اور دیگر جانور جھپٹ رہے ہیں۔ اسی چھینا جھپٹی میں ملک دولخت ہو گیا اور جو حصہ بچ گیا اب اس کی سالمیت کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
کبھی ہم نے سوچا ہے کہ آج قائد کی رُوح جب اس ملک کا طواف کرتی ہو گی تو کس قدر مضطرب اور مضمحل ہوتی ہو گی۔محض دن منانے سے کچھ نہیں ہو گا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اپنے محسن کی حیات کا عمیق نگاہی سے مطالعہ کیا جائے اور ان کی تعلیمات پر عمل کیا جائے ۔