امت مسلمہ کےلئے لمحہ فکریہ اور سوالیہ نشان …؟

November 6, 2018 5:24 pm

مصنف - تحریر: ڈاکٹر محمد یاسین فزیو

بھارت میں گائے مسلمانوں سے زیاد ہ محفوظ ہے ۔ ملک میں نفرت کا پرچار ہورہا ہے ۔یہ اظہار خیا ل ششی تھرورنے کیا ہے جو بھارتی لوگ سبھا کے رکن ہیں۔ پارلیمان میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے ایک بنگلہ دیشی دوست نے ان سے کہا ہے کہ بھارت ، میں ایک گائے ہونا ، مسلمان ہونے سے زیادہ تحفظ کی علامت ہے ۔ یہ انکشاف اور تجزیہ جو رکن ششی تھرور نے کیا ہے وہ ایک گہری بات اور حقیقت کے قریب طنز سے بھر پور تبصرہ اور ایک بھر پور طمانچہ بھی ہے اور انتہا پسند ہندئوں کی بھارتی مسلمانوں سے شدید نفرت و تعصب کا اظہار بھی۔ اب تصویر کا دوسرا رخ ملاحظہ کیجئے کہ پاکستان میں اقلیتی اقوام خصوصا ہندو و مسیح اور دیگر غیر مسلم اقلیتی لوگوں کے طبقہ سے ہم پاکستانیوں کا اور ہمارے احکام کا رویہ اور سلوک یہ ہے کہ ہم پاکستان ی کشادہ ذہن Broad Mindedکے مالک ہوتے ہیں اور ہندو طبقہ کے لوگ زیادہ ترتنگ نظر اور Narrow Mindedہوتے ہیں ۔سلطنت مغلیہ کے دو ر میں بھی مسلمان بادشاہوں نے ہندو برادری کے ساتھ بہترین سلوک کیا تھا اور مسلم باشاہوں سے تمام ہندو بہت خوش اور مطمئن تھے اور خصوصا مشہور و معروف مغل اعظم یعنی شہنہشا ہ اکبر کا دو ر تو ان ہندئو ں کے ساتھ بہترین سلوک اور انصا ف کی تاریخی مثال ہے لیکن اس کے جواب میںآنے والے سالوں میں ہندوں نے ہمیں کیا دیا ۔ ہندوستان میں مسلمانوں کی قدیم تاریخی بابری مسجد کو بے دردی سے شہید کردیا گیا۔ اکثر و بیشتر ہندو مسلم فسادات ، کٹر انتہا پسند ہندئوں کی ایما پر کرائے جاتے ہیں ۔ صوبہ گجرات واتر پردیش (UP)میں کئی مرتبہ ہندومسلم خونریزی والے فسادات ہوچکے ہیں۔ جن میں سینکڑوں معصوم و بے گناہ مسلمان خواتین ، بچے اور مرد حضرات شہید ہوچکے ہیں لیکن سب اقوام عالم اور امت مسلمہ کے احکام خاموش تما شائی بنے رہے اور ان متعصف اورنفرت انگیر ہندئو کا کچھ نہ بگاڑ سکے۔ اور نہ ہی کسی بھی مسلمانوں پر مظالم کا کوئی نوٹس لیا ۔
یہ سب کیا ہے ۔ دنیا کے ایک ارب سے زائد مسلمانوں کی بے بسی اور بے حسی کا المیہ اور اس کی صرف وجہ یہ ہے امت مسلمہ کے 59مسلم ممالک میں اتحاد نہیں ہے کیونکہ اگر یہ متحد ہوجائے تو ایک زبردست قوت بن کر ابھر جائے اور کوئی ان کا بال بھیگا نہیں کرسکتا ۔ کیونکہ آپ نے سنا ہوگا ۔۔۔۔۔کہ Union is Strengthیعنی اتحاد میں طاقت ہے۔ جب تک مسلمانان عالم میں بے حسی ، بے ضمیری اور خواب غفلت کی کیفیت رہے گی تو پھر اسی طرح ہم تاریخ راہوں میں بھٹکتے رہیں گے ۔حکیم الامت شاعر مشرق علامہ اقبال نے اپنے کلام میں اکثرو بیشتر خودی اور خودداری کے موضوع کو روئے سخن بنایاہے :
اور آپ نے اکثر پڑھا ہوگا کہ :-
اس وقت جو دنیا کے مسلم عوام کیلئے انہیں بڑے تکلیف دہ مسائل کا برسوں سے سامنا ہے ۔وہ یہ ہیں۔ سب سے پرانا مسئلہ کشمیر کا ہے جو ہمارے پڑوسی غیر مخلص دوست نما ازلی دشمن بھارت کی ہٹ دھرمی اور سینہ تان کر مسلسل جارحیت کی وجہ سے 1948سے ابھی تک متنازع ہے ۔ نام نہاد عالمی ادارہ اقوام متحدہ نے آج تک مقبوضہ کشمیرمیں جو 7لاکھ بھارتی افواج قابض ہیں اور کشمیر ی مسلمانوں پر جو ظلم و ستم اور قتل و غارت وہ ڈھارہے ہیں۔اقوام متحدہ اور عالمی برادری بشمول دنیا کے مسلم حکام بھی سیاسی مصلحت کے تحت پاکستان اور بھارت کے درمیان 68سال دیرنہ مسئلہ حل کرانے کیلئے بالکل دلچسپی نہیں لے رہے اور بے حسی کا مظاہرہ کررہے ہیں اسی طرح آزاد فلسطین کے لئے جو فلسطینی مسلمان قربانی دے رہے ہیں ۔اس کے لئے بھی عالمی ادارہ نے کچھ نہیں کیا ۔ اور برما میں جو مسلمانوں کے ساتھ ظلم ہورہاہے وہ بھی سب کے لئے لمحہ فکریہ بھی ہے اور سوالیہ نشان بھی۔۔؟عالمی ادارہ دوسری جنگ عظیم کے اختتام کے بعد 1945میں معرض وجود میں آیا تھا ۔ اس وقت اس کا منشور اور اغراض و مقاصد یہ تھے کہ دنیا میں عالمی امن رہے اور دو یاتین ملکوں کے درمیان جنگ نہ ہونے پائے کیونکہ ملک و اقوام کی تباہی و بربادی جنگوں کے ذریعہ ہوتی ہے اور اقوام متحدوہ کا یہ عزم بھی تھا کہ باہمی بات چیت سے مسائل کو وہ حل کرائے گی اور مظلوموں کو انصاف دلائے گی ۔ لیکن بعد میں کیا ہوا وہ یہ کہ United Nationsصرف غیر مسلم اقوام کو ہی تحفظ دینا شروع کردیا اور امت مسلمہ کے مسلمانان عالم کے جو تکلیف دو اورفوری حل طلب مسائل تھے وہ انہوں نے کبھی حل نہیں کئے صرف مسیحی برادری اور امریکی و برطانوی سامراجی قوتوں اور یہودی لابی کا اقوام متحدہ آلہ کار بن کر ان کا دفا ع کرتا رہا۔اور مسلم اقوام کے ساتھ امریکہ نے ہمیشہ بے وفائی کی۔بدقسمتی سے دنیا کے58اسلامی ممالک کے عوام اور مسلم حکام میں اختلافات اور ناچاقی کی بنا ئ پر ان میں مکمل یکجہتی اور عالمی مسلم اتحاد نہ ہوسکا۔ جس کا ضمیازہ ابھی تک امت مسلمہ کے ممالک بھگت رہے ہیں۔ دنیا کے سب سے بڑ ے مسلمانوں ک دو مسائل تھے اور ہیں وہ یہ کہ مقبوضہ کشمیر کا دیرینہ 68سالہ متنازع مسئلہ اور فلسطین پر 1948سے اسرائیل کا ناجائز قبضہ ۔ ان مسائل کو اور مسلم عوام کے کسی بھی مسئلے کو نام نہاد اقواممتحدہ نے آج تک حل نہیں کیا۔ یہ امت مسلمہ کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔