کچھ اچھا ہونے کو ہے

November 6, 2018 5:22 pm

مصنف - وقار اسلم

 

وزیراعظم پاکستان اس وقت ملک کو مالی بحران سے نکالنے کیلئے سرگرم ہیں ان کی کاوشیں اس خسارے سے نکل کر جی ڈی پی بڑھانے کے حوالے سے ہیں۔وزیراعظم درپیش چیلنجز سے نبردآزما ہونے کیلئے تیار ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ وہ معیشت کی بدتر صورتحال کو درست سمت لا سکیں۔جس سراسیمگی سے وہ جت گئے ہیں، ہر وقت کوشاں ہیں کیونکہ انہیں ہمیشہ سے ہی سخت حالات یا بھنور میں پھنس کر نکلنے کا شوق رہا ہے ۔وزیراعظم عمران خان کی گریٹ ہال میں چینی ہم منصب لی کی چیانگ سے ملاقات کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان وفود کی سطح پر ہونے والے مذاکرات کے دوران دو طرفہ تعاون کے 15 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کئے گئے ۔دونوں وزرائے اعظم نے اپنے اپنے ملکوں کے وفود کی قیادت کی۔ پاکستانی وفد میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور وزیر خزانہ اسد عمر شامل تھے ۔ دونوں ملکوں میں زراعت کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں معاونت، پاک چین اعلیٰ تعلیم، وفاقی دارالحکومتوں کی پولیس اور صنعتی اداروں میں تعاون کی یادداشتوں پر دستخط ہوئے ۔ ذرائع کے مطابق اس بات پر بھی اتفاق ہوا کہ پاکستان میں اقتصادی زونز کے قیام سے متعلق چین پاکستان کی معاونت کرے گا۔ دوسری جانب جنگلات، ارضیاتی سائنس اور الیکٹرونکس مواد کے تبادلے کیلئے یادداشت پر دستخط بھی کیے ۔ اس موقع پر پاک چین وزرائے خارجہ سطح کے تذویراتی مذاکرات کیلئے دستاویز پر دستخط بھی کیے گئے ۔ وزیراعظم عمران خان جب گریٹ ہال پہنچے تو چین کے وزیراعظم لی کی چیانگ اور ان کی کابینہ ارکان نے ان کا استقبال کیا، جہاں ان کے اعزاز میں خیر مقدمی تقریب منعقد کیے جانے کے علاوہ انہیں گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔ اس سے قبل وزیراعظم عمران خان تیانمن سکوائر پہنچے تھے ، جہاں انہوں نے پیپلز ہیروز کی یادگار پر پھول چڑھائے تھے ۔ وزیراعظم کی آج چین کے سرمایہ کاروں اور کمپنیوں کے سربراہوں سے ملاقات بھی طے تھی۔پاکستان کو ایڈ دینے کے حوالے سے وفود میں مذاکرات کے دور بھی چلے ۔ بہت جلد کڑا احتساب جس کے نعرے لگائے جاتے رہے اور بیان داغے جاتے رہے ۔لیکن اس دفعہ سب کی چمڑی محفوظ رہے گی لیکن دمڑی نہیں ایک با عزت طریقے سے نام ظاہر کیے بغیر اشرفیہ سے ایک حد تک ملک کی لوٹی ہوئی دولت مختصر دورانیے میں بازیاب کروا لی جائے گی۔اس بڑی ریکوری سے ملک کی سالمیت کو استحکام ملے گا تاہم سوئس بینکوں کو خط لکھنا لوٹی دولت واپس اس طریقے سے واپس لائے جانے والی باتیں دم توڑ چکیں جب وزیر خزانہ اسد عمر نے سوئس بینکوں میں موجود رقم والے بیان سے روگردانی کردی۔اس سے پہلے سوئس اکاونٹس سے آ صف زرداری کی رقم ملک واپس لانے کا سپریم کورٹ نے اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو عندیہ دیا جس پر ناکام رہنے کی وجہ سے انہیں 30 سیکنڈ کی سزا دیکر فارغ کر دیا گیا تھا۔عمران خان کو وزیراعظم بنوانا اس مشکل ٹاسک کو ممکن بنانے کی ہی کڑی تھی۔ چین کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ پاکستان کا مسئلہ افراسٹرکچر بھی ہے لیکن دیگر مسائل کو حل کرنا بھی دوستی کی گہرائی کو بڑھانے کا ضامن ہوگا۔اگر تو یہ کار دشوار عمران خان کر دکھاتے ہیں تو واقعی پاکستان میں ایک سنہری دور کا آغاز ہوگا۔ ثالث کا کردار بیرونی قوتیں نبھائیں گی اور انہیں ملک کی صورتحال سمجھا دی گئی ہے اس لئے وہ لوٹ کھسوٹ کرنے والوں سے رعایت نہیں برتیں گے ۔ البتہ یہ بھی بتاتا چلوں کہ ایک سال میں مستقل طور پر ملک کی معیشت مستحکم ہوگی اور اسے دوام بخشا جائے گا اور خسارے سے چھٹکارا پایا جا سکے گا۔